بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ لینے کا حکم

سوال

مجھے یہ سوال کرنا ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کا بوسہ لے اور بیوی کا تھوک اس کے منہ میں چلا جائے تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور کیا کفارہ بھی لازمی ہو گا یا صرف قضاکرنی پڑے گی؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر کوئی شخص روزہ کے دوران بیوی کا بوسہ اس طرح لے کہ اس کا تھوک منہ میں آجائے تو اس کاروزہ مکروہ ہوگااور اگر نگل لے گا تو روزہ فاسد ہوجائے گااور قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔ اگر عمداً نہ نگلے بلکہ بلااختیار حلق میں چلاجائے تو روزہ ٹوٹ جائےگا قضا ہو گی کفارہ نہیں ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200151
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں