بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسلامی بینکاری میں سرمایہ کاری کا حکم۔

سوال

میں متحدہ عرب امارات میں جنرل موٹرزکی ڈیلرشپ کا کام کرتاہوں تقریباً 2005ء سےاورمیں نے کچھ رقم پس انداز کی ہے۔میں چاہتاہوں کہ اس رقم کوکسی اسلامک فنڈمیں لگاؤں، مثلاً نیشنل بینک آف ابوظہبی؛دبئی اسلامک فنڈ، نیشنل بانڈز(دبئی)۔ میں بہت پریشان ہوں کہ رقم لگاؤں یا نہ لگاؤں، آپ کی راہنمائی چاہئے۔

جواب

ہماری تحقیق کے مطابق اس وقت اسلامی معاشی اصولوں کےعین مطابق بینکاری یا کوئی اورمالیاتی عمل بینکوں یا بینکوں کی سطح پرنہیں ہورہا، اس لیے ذکرکردہ مالیاتی اداروں میں رقم لگانےکے بجائے نجی طور پرانجام پانےوالےکسی پیداواری عمل میں اپنی رقم لگائیں تاکہ سود یا سودکے شبہہ میں ملوث ہونےسے محفوظ رہیں، اللہ تعالیٰ آپ کی پریشانی دورفرمائے،آمین۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200133
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں