قادیانیوں سے لین دین کا حکم۔
سوال
مجھے یہ معلوم کرناہےکہ جس دفتر میں ملازمت کرتاہوں وہاں پرایک قادیانی بھی کام کرتاہے ابھی وہ عمرہ کرکےآیاہے اوراس نےسب کو مدینہ منورہ کی کھجورتقسیم کی تھی، لیکن میں نے وہ کھجورنہیں لی توکیا میرایہ عمل صحیح ہے جبکہ میں نے اپنےبزرگوں اورعلماء سےیہی سناہے کہ ان سے کسی قسم کا لین دین جائز نہیں ہے
جواب
آپ کا عمل درست ہے، قادیانی مسلمانوں کے لیے مارِ آستین ثابت ہوتےہیں اس لیے ان سےکسی قسم کا لین دین یاتعلق رکھنا ہرگزجائزنہیں ہے نیزقادیانی شرعی احکام اورملکی آئین کی روسےغیرمسلم ہیں ان کاحرمین شریفین جانااورحج وعمرہ ادا کرنا شرعی وقانونی جرم ہےایسےافراد کی تفصیلات سے براہ راست یاعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے واسطےسے متعلقہ محکموں کواطلاع دینی چاہئے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143101200129
تاریخ01-01-2010

