بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تجارتی بلیوں پر زکوٰة

سوال

بعد ازسلام عرض یہ ہے کہ میرے پاس 4 فارسی النسل بلیاں ہیں جو کہ میں نے پہلے تو صرف پالتو جانور کے طور پر رکھی تھیں مگر اب نیت یہ ہے کہ ان سےکاروبارکروں گایعنی جوبلی کے بچے پیداہوں گے انہیں فروخت کردوں گا،اب پوچھنا یہ ہےکہ کیا ان بلیوں پرزکوٰةۃ واجب ہے ؟میری ایک بلی 4 سال سے میرے پاس ہے 2 بلیوں کو ڈیڑھ سال ہوگیا ہے اور ایک بلی کو چار مہینے پہلے خریدا ہے ان سب کی مالیت اندازاً 50،000 روپے بنتی ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں جو بلیاں پہلے سے پالتو جانورکے طورپر رکھی ہوئی ہیں ان میں تجارت کی نیت کرلینے سے قیمت پرزکوٰةۃ نہیں آئے گی ، ہاں فروخت کرنے کے بعد جو رقم ہاتھ آئے تو حساب کرتے وقت وہ شمارہوگی اگرچہ اس پر سال نہ گزراہو باقی جو بلی تجارت کی نیت سے لی ہے اس کی قیمت پر زکوٰةۃ ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200120
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں