بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شہر کی حدود سے باہر جمعہ کی نماز کا حکم

سوال

ہم یہاں دوبئی میں رہتے ہیں ہمارے ساتھ جمعہ کی نماز کا مسئلہ درپیش ہے ہم شہر سے کافی فاصلے پرہیں اورعمران جبل علی میں واقع کیمپ میں رہتے ہیں جس میں صرف ایک دوکان ایک حمام ہے، کھانا،پینااوررہائش اورلانڈری کا بہترین انتظام موجودہے، روزانہ ہردوگھنٹےکے بعد بس کے ذریعے دوبئی شہرآنے جانےکاانتظام بھی موجود ہے، امام صاحب ماشاءاللہ بہت ہی نیک دینداراورصحیح العقیدہ حنفی دیوبندی ہیں ان سے اس سلسلے میں بات ہوئی تووہ فرمانےلگے کہ مجبوری ہےاگرمیں جمعہ پڑھانے سےانکارکر لوں تو کوئی اورمولانا صاحب آجائیں گےمگرجمعہ ختم نہیں ہوگا، مولاناصاحب نے یہاں سلسلہ درس قرآن وحدیث کا بھی شروع کیا ہواہے ان تمام ترتفصیل کے بعدکیاقرآن و سنت کی روشنی میں ہماری راہنمائی فرمائیں۔

جواب

اگرمذکورہ کیمپ شہری حدود سے باہر ہےتواحناف کے ہاں اس جگہ جمعہ اداکرناجائزنہیں ہے۔ جمعہ کے دن ظہر کی نمازادا کی جائے مجبوری میں اگرجمعہ پڑھ لیا ہےتو بعد میں ظہرکی نمازپڑھی جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200098
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں