بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چارہزارآبادی والےگاؤں میں جمعہ کا حکم

سوال

۔ میں جس گاؤں میں رہتاہوں وہاں کی آبادی تقریباً چارہزارہے، کیا یہاں جمعہ ہوسکتاہے؟2۔ میں نےسنا ہےکہ جمعہ شہرمیں ہوتاہےلہذا گاؤں میں ظہرفرض ہے لہٰذا میں ظہرکی نمازپڑھ لیتاہوں اورجمعہ ہمارے گاؤں میں ہوتاہےوہ میںنہیں پڑھتا کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟3۔ اگرجمعہ فرض ہویانہ ہوتوکیا دوسری مساجد میں اذان اورجماعت کے ساتھ نمازظہرجائز ہے۔

جواب

1۔ جمعہ جائزہونےکی شرائط میں سےشہریاایسے بڑےقصبہ کا ہونا ضروری ہے، جہاں تمام ضروریات ِ زندگی بآسانی دستیاب ہوں، ہسپتال، ڈاکخانہ، تھانہ وغیرہ کا انتظام ہو، آبادی کی کثرت یاقلت پربراہ راست اس کا مدارنہیں ہے۔ 2۔ اگرنمبر1 میں ذکرکردہ تفصیل کےمطابق گاؤں نہیں ہےتواس گاؤں میں جمعہ کےدن ظہرکی نماز پڑھی جائیگی۔ 3۔ اگرجمعہ فرض ہوتب دوسری مساجد میں نمازظہرباجماعت پڑھناجائزنہیں ہےاوراگرفرض نہ ہوتوجائزہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200082
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں