بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کم عمرلڑکےکی امامت

سوال

ہماری مسجد میں امام کی عمر14یا پندرہ سال کےلگ بھگ ہے جبکہ اور کوئی شخص عالم یازیادہ پڑھا لکھادینی لحاظ سے نہیں تواس حالت میں امامت جائزہے یانہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگرمذکورہ لڑکے میں علامات بلوغ ظاہرہوگئی ہوں یااس کی عمرپندرہ سال ہوچکی ہوتواس کی امامت شرعاً درست ہےاوراگراب تک علامات بلوغ ظاہرنہ ہوئی ہوں اورنہ ہی اس کی عمرپندرہ سال ہوئی ہوتوشرعاً اس کی امامت درست نہیں بلکہ اس کےبجائےکسی ایسےعاقل بالغ شخص کو امام بنایا جائےجوکم ازکم نمازکےبنیادی مسائل سےواقف ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200075
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں