بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹیلی فون پر نکاح کرنے کا حکم

سوال

مفتی صاحب ٹیلیفون پرنکاح کی کیا حیثیت ہے ؟ اورفون پریا موبائل پراگرلائیوکیمرا یا تصویر آرہی ہوپھراس صورت میں نکاح کی کیا حیثیت ہے ؟

جواب

نکاح منعقد ہونے کے لئے شرعا یہ ضروری ہے کہ مجلس نکاح میں ایجاب و قبول کرنے والے دو مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی اس طور پر ایجاب و قبول کرے کہ یہی دو گواہان ان کی ایجاب و قبول کو سن لیں۔چونکہ ٹیلی فون پر مجلس ایک نہیں ہو تی ہے اگر چہ تصویر آرہی ہو اس لئے نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ جواز کی صورت یہ ہے کہ جس مقام پر نکاح ہو رہا ہے، دوسرا اسی جگہ ٹیلی فون پر اپنے لئے کوئی وکیل مقرر کریں پھر وہ وکیل اپنی مؤکل کی طرف سے ایجاب و قبول سرانجام دیں۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200066
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں