بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شرکیہ عقائد رکھنے والے امام کی اقتداء کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس بارے میں کہ بریلوی کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے یا نہیں ؟براہِ کرم جلد جواب دیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر کوئی بھی شخص شرکیہ عقائد رکھتا ہو،یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے کسی بھی صفت میں کسی کو شریک ٹھرائے جیسے کہ حضور اکرمﷺ کے حاضر و ناظر ہونے کا یا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے عالم الغیب ہونے کا عقیدہ وغیرہ تو ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں ہوگی اوراگر شرکیہ عقائد تو نہ رکھتا ہومگر بدعات میں مبتلاء ہو تو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے ۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200040
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں