بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبرکے سامنے ہاتھ اٹھاکردعاکرنے کا حکم

سوال

 قبر کےسامنے ہاتھ اٹھاکردعاکرنا کیسا ہے ؟

جواب

عام حالات میں قبرستان جاکرہاتھ اٹھاکےدعاکرناثابت ہےچنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں تشریف لائے اورکافی دیرٹہرے رہے پھرتین مرتبہ ہاتھ اٹھا کردعاکی (مسلم شریف۔1-313،کتاب الجنائز،ط،قدیمی۔) البتہ قبرستان میں دعامانگنے کی صورت یہ ہے کہ قبلہ رخ ہوکرہاتھ اٹھائے جائیں اورمیت ومرحومین کے لیے دعاکی جائے، قبرکی طرف رخ کرکےدعانہ کریں تاکہ کسی کو فساد وعقیدہ پربدگمانی نہ ہو۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200009
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں