بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 جُمادى الأولى 1448ھ 06 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں خیالات کا آنا

سوال

جب میں نماز پڑھتا ہوں تو مجھےدنیا کے خیالات دماغ میں آتے ہیں،کیا کروں؟

جواب

نماز میں خیالات آنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔  نماز میں جان بوجھ کر دنیا کے خیالات لانا منع ہے، غیر اختیاری وساوس اور خیالات آنے پر مؤاخذہ بھی نہیں ہے، البتہ حتی الامکان خیالات اور وساوس کو دفع کرناچاہیے۔جہاں تک ہوسکے قراءت ،اور تسبیح وغیرہ  کی ادائیگی اور ان کلمات کے معانی ومفہوم کی جانب دھیان رکھا کریں، نیز اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کاتصور کرکے نماز اداکیا کریں کہ وہ مجھے دیکھ رہاہے، اور جو رکن ادا کررہے ہوں پوری توجہ اس کی طرف ہو، یعنی سنتوں اور مستحبات کی رعایت رکھتے ہوئے اسے ادا کریں اور یہ دھیان ہو کہ اس کے بعد فلاں عمل کرنا ہے، آہستہ آہستہ عادت پختہ ہوجائے گی اور خیالات دور ہوجائیں گے،اپنے ارادہ سے دوسرے طرف خیال نہ کیا کریں۔فقط واللہ اعلم(امدادالاحکام ،جلد اول ،ص:487)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 143909201883
تاریخ14-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں