بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مقروض کو زکاۃ دینا

سوال

ایک صاحب کی ملکیت میں گھر اپنا  ہے، لیکن ملازمت نہ ہو نے کی وجہ سے وہ قرض میں مبتلاہے،  تو کیا وہ زکاۃ لینے کا حق دار ہے؟

جواب

    اگر کوئی شخص غریب اور ضروت مند ہے  اور اس کی ملکیت میں اس کی ضرورتِ  اصلیہ سے زائد اتنی رقم یا سامان نہیں ہے جس کی قیمت نصاب   (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی)کے برابر  نہیں ہے، اور نہ  ہی  وہ ہاشمی (سید  ،عباسی) ہے تو اس شخص کے لیے زکاۃ لینا جائز ہے، اور اس کو زکاۃ دینے سے زکاۃ ادا ہوجائے گی۔ اور رہائش کا گھر ضرورتِ اصلیہ میں داخل ہے۔

لہذا اگر   مذکورہ شخص کے پاس اتنی رقم یا سامان موجود نہیں ہے، یا رقم موجود تو ہے، لیکن اس پر اتنا قرض ہے کہ اگر وہ منہا کیا جائے تو  اس کے پاس نصاب سے کم رقم بچے تو ایسے شخص کو زکاۃ دی جاسکتی ہے۔   نیز  کسی مستحق مقروض کو قرض ادا کرنے کے لیے زکاۃ دینا مستحسن  اور باعثِ ثواب بھی ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200671
تاریخ09-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں