بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانا

سوال

اگر ایک شخص ایک گناہ میں ملوث ہے اور قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتا ہے کہ آئندہ یہ گناہ نہیں کروں گا، پھر اس سے یہ گناہ ہو جاتا ہے، پھر اگلے سال قسم کھاتا ہے کہ گناہ نہیں کروں گا، اور پھر اس سے وہ گناہ ہوجاتا ہے تو اب ایسے شخص کو کیا کرنا چاہیے؟

جواب

محض قرآن پر ہاتھ رکھنے سے قسم منعقد نہیں ہوتی جب تک کے قسم کھانے والا زبان سے الفاظ ادا نہ کرے کہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں یا میں قرآن کی قسم کھاتاہوں  کہ فلاں کام نہیں کروں گا؛ لہذا اگر اس نے ان الفاظ کے ساتھ قسم کھائی تھی تو اس کو قسم کے توڑنے کا کفارہ دینا ہوگا اور اگر ان الفاظ کے ساتھ قسم نہیں کھائی تھی، بلکہ صرف قرآنِ مجید پر ہاتھ رکھ کر یہ کہا تھا کہ میں یہ کام نہیں کروں گا تو ایسی صورت میں اس پر کفارہ نہیں ہے، لیکن آئندہ پوری کوشش کرے کہ مذکورہ گناہ اس سے صادر نہ ہو۔اگر دو مرتبہ قسم کھا کرتوڑی ہے دو کفارے دینا لازم ہیں۔ 

قسم کا کفارہ یہ ہے کہ اگر مالی استطاعت ہے تو دس غریبوں کو کپڑوں کا جوڑا دے، یا دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقہ فطر کے برابر رقم دے دے، یا ایک ہی مسکین کو دس دن تک دو وقت کھانا کھلائے یا اسے دس دن تک روزانہ ایک ایک صدقہ فطر کی رقم دیتارہے، اور اگر اتنی استطاعت نہ ہو تو پھر لگاتار تین دن روزے رکھے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200128
تاریخ12-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں