بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عیسائی لڑکی سے چرچ میں عیسائی طریقہ پر نکاح کرنا

سوال

کسی مسلمان مرد کا رومن کیتھولک عیسائی لڑکی سے چرچ میں عیسائی طریقہ پر نکاح کرنا اسلام میں معتبر ہے؟

جواب

 عیسائی گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی  سے نکاح کرنے کی چند صورتیں ہیں:

1۔ اگر وہ مسلمان ہوجائے  تو اس سے نکاح کرنا بلاشبہ جائز ہو گا۔

2۔اگر وہ عیسائی مذہب کی پیروکار رہے  تو اس سے نکاح کرنامکروہ ہو گا، کیوں کہ ان کے ساتھ بود و باش کی صورت میں اپنے یا اپنے بچوں کے دین اوران کی  اسلامی روایات کو بچانا مشکل ہے۔

3۔ اگر وہ  نام کی عیسائی ہے، درحقیقت کسی آسمانی دین کی ماننے والی نہیں تو اس سے نکاح کرنا جائزنہیں ہو گا۔

لہذا اگر کوئی لڑکی واقعۃً عیسائی مذہب کی پیروکار ہو تو اس سے مسلمان کا نکاح کرنا تو جائز ہوگا،  لیکن عیسائی طریقے پر نکاح منعقد نہیں ہو گا،  بلکہ  نکاح کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ یہ نکاح  شریعتِ محمدی کے مطابق کیا جائے،  جس میں ایجاب وقبول کے ساتھ دو گواہوں کا ہونا بھی ضروری ہو گا۔ یہ بھی واضح رہے کہ مسلمان کے لیے چرچ جانا قابلِ  تعزیر فعل ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 281):

"ويجوز للمسلم نكاح الكتابية الحربية والذمية حرةً كانت أو أمةً، كذا في محيط السرخسي. والأولى أن لايفعل".  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200896
تاریخ17-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں