بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’سبحان اللہ‘‘ ’’سبحان‘‘ اور ’’حزب اللہ‘‘ نام رکھنے کا حکم

سوال

میرا نام سبحان اللہ ہے۔ چند دن پہلے کسی نے کہا یہ کیسا نام ہے؟  تو میرے پاس جواب نہیں تھا۔ بعض اوقات لوگ سبحان نام سے بھی پکارتے ہیں۔ راہ نمائی درکار ہے اس بارے۔ میرے ایک دوسرے بھائی کا نام حزب اللہ ہے جو عربی لوگوں کو عجیب سا لگتا ہے۔  اس کے بارے میں بھی کچھ  راہ نمائی فرمائیں!

جواب

’’سبحان اللہ‘‘ یا صرف ’’سبحان‘‘ نام رکھنا درست نہیں ہے، آپ اپنا نام تبدیل کر کے کوئی دوسرا نام رکھ لیں، زیادہ افضل یہ ہے کہ انبیاءِ کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموں میں سے کوئی نام رکھا جائے۔ ورنہ کوئی بھی اچھے معنیٰ والا عربی نام رکھ لیں۔

’’حزب اللہ‘‘ کا معنی ہے ’’اللہ کی جماعت‘‘۔ یہ نام رکھنے کی گنجائش ہے، البتہ عربی معنیٰ کے اعتبار سے یہ فردِ واحد کے بجائے پوری جماعت کے لیے استعمال ہوتاہے، اسی لیے عربوں کے ہاں باعثِ تعجب ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200511
تاریخ27-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں