بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ کی حالت میں منہ بھر کر قے کرنے سے روزہ کا حکم

سوال

کیا منہ بھر کے قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

اگر کسی شخص کو روزے کی حالت میں قے (اُلٹی) ہو جائے تو اس کی چند صورتیں ہو سکتی ہیں:

1۔ قے خود بخود ہوئی اور منہ بھر کر نہیں تھی، بلکہ کم تھی تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس سے روزہ فاسد نہیں ہو گا۔

2۔ قے خود بخود ہوئی اور منہ بھر کر ہوئی، اس کا حکم بھی یہ ہے کہ اس سے روزہ فاسد نہیں ہو گا۔

3۔ قے خود بخود نہیں ہوئی، بلکہ قصداً قے کی اور منہ بھر کر نہیں کی تو اس سے بھی روزہ فاسد نہیں ہو گا۔

4۔ قے خود بخود نہیں ہوئی، بلکہ قصداً قے کی اور منہ بھر کر کی تو اس صورت میں روزہ فاسد ہو جائے گا۔

5۔ قے منہ بھر کر ہوئی اور ساری قے یا اس میں سے چنے کے برابر مقدار یا اس سے زائد کو روزہ یاد ہوتے ہوئے خود جان بوجھ کر اپنے اختیار سے اندر اتار دیا تو اس سے روزہ فاسد ہو جا ئے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201258
تاریخ19-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں