بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جاز ویزا کارڈ استعمال کرنے پر ملنے والی اضافی رقم کا حکم

سوال

کیا جاز ویزا ڈیبٹ کارڈ سے شاپنگ کرنے پر جاز والے جو  اضافی رقم واپس  دیتے ہیں وہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

جب کوئی صارف اپنے جاز اکاؤنٹ میں  رقم رکھتا ہے تو اس کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے گویا اس نے وہ رقم کمپنی کو قرض پر دی ہوتی ہے   اور قرض دے کر اس سے نفع اٹھانا شرعاً سود ہے لہذا جب صارف جاز ویزا کارڈ استعمال کرتے ہوئے  اس اکاؤنٹ سے شاپنگ کرتا ہے اور کمپنی اس کو کچھ اضافی رقم دیتی ہے تو وہ سود کے حکم میں ہو گی  اور اس کا  استعمال شرعاً درست نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143902200003
تاریخ22-10-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں