بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بئیر پینے کا حکم

سوال

 شراب کی ایک قسم بئیر(beer)ہے، اس میں8٪الکحل ہوتی ہے اور92٪آبِ جو یاآبِ  گندم ہوتاہے اور اس کے پینے سے پہلی دفعہ پینے والے کو ہلکا سا نشا ہوتا ہے جس میں بندے کے حواس باقی ہوتے ہیں۔

برائےمہربانی  یہ بتادیں اس کا پینا حلال ہے یا حرام؟ 

جواب

بیئر شراب ہے اور شراب (میں اگرچہ نشہ نہ ہو تو بھی اس) کا پینا حرام ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143609200024
تاریخ06-07-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں