بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 جُمادى الأولى 1448ھ 08 نومبر 2026 ء

بینات

 

مکہ دفاعی معاہدہ اور امتِ مسلمہ !

  • موضوعربیع الاول 1448ھ - ستمبر 2026ء
  • مصنفمحمد اعجاز مصطفیٰ
  • تاریخ01 / 09 / 2026

مکہ دفاعی معاہدہ اور امتِ مسلمہ !

الحمد للہ وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی!

 7؍اگست 2026ء جمعہ کے مبارک دن حرم کی پاکیزہ فضاؤں میں ہونے والا ’’مکہ دفاعی معاہدہ‘‘ نئے مسلم دفاعی اتحاد کی بنیادہے۔ یہ مشترکہ دفاعی معاہدہ محض تین ملکوں کے مابین ایک دفاعی دستاویز پر دستخط کا اظہار نہیں ،بلکہ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور عالمِ اسلام کا سیاسی و عسکری منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اس معاہدے کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ اس کے فریق تین ایسے ممالک ہیں جو اپنی اپنی سطح پر مسلم دنیا کے اہم سیاسی، عسکری اور تزویراتی مراکز سمجھے جاتے ہیں۔
سعودی عرب‘ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کی وجہ سے اہلِ اسلام کا مرجع ہے ، ترکی تقریباً چھ سو سالہ خلافت عثمانیہ کی وجہ سے عالمِ اسلام کا مرکز رہا ہے ، اور ہمارا وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلام ہی کے نام پر وجود میں آیا۔اس معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک فریق کے خلاف جارحیت تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی اور مشترکہ طور پر اس کا جواب دیا جائے گا۔ مشرقِ وسطیٰ گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل جنگ و جدل، میزائل اور ڈرون حملوںکے ذریعے تباہی و بربادی ، علاقائی کشیدگی اور بڑی طاقتوں کی مداخلت کا میدان بنا ہوا ہے۔ دوسری طرف جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کسی مستقل حل تک نہیں پہنچ پا رہی۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کا ایسے ماحول میںاپنے دفاعی تعاون کو ایک باضابطہ اور مشترکہ فریم ورک میں لانا یقیناً ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ پاکستان اس معاہدے میں ایک ایسی عسکری قوت کے طور پر موجود ہے جس کے پاس ایک منظم فوج، جوہری صلاحیت اور کئی دہائیوں پر محیط جنگی تجربہ ہے۔ جبکہ سعودی عرب ‘ خطے کی ایک بڑی معاشی اور سیاسی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ خلیج اور حرمین شریفین کے باعث غیر معمولی جغرافیائی و مذہبی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی طرح ترکی ایک مضبوط دفاعی صنعت، جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی، نیٹو کی رکنیت، یورپ کا گیٹ وےاور وسیع علاقائی و بین الاقوامی سفارتی اثر و رسوخ رکھنے والا ملک ہے۔ پاکستان کی عسکری صلاحیت، ترکی کی دفاعی ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کے مالی و جغرافیائی وسائل مل کر ایک ایسا دفاعی تعاون تشکیل دے سکتے ہیں جو محض روایتی فوجی معاہدے سے کہیں آگے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عالمی سیاست میں کسی بھی معاہدے کی اہمیت صرف اس کے اعلان کردہ مقصد سے نہیں ، بلکہ اس کے ممکنہ اثرات سے بھی متعین ہوتی ہے۔ اگر یہ اتحاد مضبوط ہوتا ہے تو خطے کے دوسرے ممالک یقیناً اپنی سلامتی کی حکمت عملی پر از سرِ نور غور کریں گے۔ مستقبل میں مصر، ملائیشیا، انڈونیشیا، قطر اور دوسرے مسلم ممالک اس دفاعی معاہدے اورتعاون کا حصہ بن سکتے ہیں، جس سے ہر ایک کے سیاسی مفادات، واضح دفاعی مقاصد اور باہمی اعتماد میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال کو اسرائیل کے کردار کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں۔ فلسطین، غزہ، لبنان، شام اور ایران سے متعلق تنازعات نے پورے خطے کی سلامتی کے تصورات کو متاثر کیا ہے۔سعودی عرب اور ترکی‘ اسرائیلی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں، جبکہ پاکستان بھی فلسطین کے مسئلے پر واضح موقف رکھتا ہے۔ ایسے ماحول میں تینوں ممالک کا ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک قائم کرنا خطے میں طاقت کے موجودہ توازن پر بالواسطہ اثر ڈال سکتا ہے۔
سعودی عرب کے لیے اس معاہدے کی اہمیت شاید سب سے زیادہ واضح ہے۔ خصوصاً جب کہ فسادی قوتوں نے اپنی پراکسی وار کا دائرہ بڑھاتے ہوئے یمن میں حوثیوں کو از سرِ نو شہہ دینا شروع کر دی ہے اور اب اس معاہدے کی آڑ میں ایران کی پارلیمنٹ کے کسی رکن نے سعودی عرب کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حالانکہ ایران کو چاہیے تھا کہ وہ اس معاہدے میں ترکی سے بھی پہلے شامل ہو جاتا۔ پاکستان جس نے موجودہ امریکا ایران جنگ روکنے میں آخری حد تک کوششیں کیں اور اب بھی کر رہا ہے، اسی طرح سعودی عرب جس نے اس جنگ میں بہت ہی صبر و تحمل اور تدبر و دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کے ڈرون حملوں کا جواب نہیں دیا۔ یہ دونوں محسن ملک اس معاہدے کے روحِ رواں ہیں۔ لیکن اب بھی وقت گیا نہیں، امت مسلمہ اُمید رکھتی ہے کہ ایران بھی اس معاہدہ میں شامل ہو جائے، تاکہ جزیرۃ العرب میں ممکنہ جنگ وجدال کا خاتمہ ہو سکے اور پوری امت مسلمہ اپنے اندرونی انتشار و خلفشار سے نجات پاکر سکون کا سانس لے سکے ۔ 
جدید جنگ اب صرف ٹینکوں اور جنگی طیاروں تک محدود نہیں رہی؛ ڈرون، بیلسٹک میزائل، سائبر حملے اور غیر روایتی جنگی طریقے بھی قومی سلامتی کے لیے بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔ سعودی عرب کو ایک ایسے دفاعی تعاون کی ضرورت ہے جو اسے مختلف نوعیت کے خطرات سے نمٹنے میں مدد دے سکے۔ پاکستان اسے عسکری افرادی قوت، تربیت اور دفاعی تجربہ فراہم کر سکتا ہے، جبکہ ترکی جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں اہم شراکت دار ثابت ہوسکتا ہے۔
 مسلم دنیا میں کئی دہائیوں سے یہ سوال اٹھتا رہا ہے کہ کیا مسلمان ممالک اپنی اجتماعی سلامتی کے لیے کوئی مؤثر نظام قائم کر سکتے ہیں؟ مکہ مکرمہ میں ہونے والا یہ معاہدہ اس سوال کے ایک نئے جواب کی تمہید قرار دیا جاسکتا ہے۔ موجودہ دور میں اس بات کی اہمیت بہت زیادہ ہوچکی ہے کہ کس مسلمان ملک کے پاس زیادہ بہتر ہتھیار پائے جاتے ہیں؟ کس کی معاشی حیثیت زیادہ مستحکم ہے؟ اور کون سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے ہے؟ جو جتنی زیادہ اہلیت، صلاحیت اور استعداد رکھے گا، اس پر اپنی قوم اور امت مسلمہ کی حفاظت کا فریضہ بہ نسبت دوسروں کے زیادہ عائد ہوگا۔ دار الاسلام کے اجتماعی دفاع کی بنیاد کسی دفاعی معاہدے پر نہیں ، بلکہ’’امت‘‘ کے تصور پر ہے جسے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بدن سے تعبیر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ بدن کا کوئی بھی عضو تکلیف میں ہو، تو سارا بدن تکلیف محسوس کرتا ہے۔ امت کا دفاع تمام مسلمانوں پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے عائد کردہ ایک فریضہ ہے، اس لیے اگر اسلامی ممالک میں دفاعی معاہدہ نہ بھی ہو تو بھی ان پر لازم ہوگا کہ وہ ایک امت ہونے کی بنا پرایک دوسرے کی ہر حال میں مدد ، نصرت اور تعاون کریں۔
مکہ مکرمہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے محض ایک شہر نہیں، روحانی مرکز ہے۔ اسی شہر میں تین اہم مسلم ممالک کا ایک مشترکہ دفاعی عہد کرنا اپنی علامتی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ اگر پاکستان، سعودی عرب اور ترکی اس معاہدے کو صرف ایک خوبصورت اعلامیے تک محدود رکھتے ہیں تو چند برس بعد یہ بھی دیگر بہت سے معاہدوں کی طرح سفارتی فائلوں کا حصہ بن جائے گا۔لیکن اگر تینوں ممالک اسے مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت، انٹیلی جنس تعاون، عسکری تربیت اور مستقل سیاسی رابطے کے ایک مؤثر نظام میں تبدیل کر دیتے ہیں تو مکہ کا یہ معاہدہ واقعی امت مسلمہ کی نشاۃِ ثانیہ اور خطے کے دفاعی نقشے کو بدل سکتا ہے۔
پاکستانی وزیر اعظم جناب میاں محمد شہباز شریف ، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ جناب اسحاق ڈار ، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، خادم الحرمین الشریفین اور سعودی عرب کے ولی عہد جناب محمد بن سلمان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان مبارک باد کے مستحق ہیں، جن کی اَن تھک محنت، کوششوں اور کاوشوں سے یہ معاہدہ پایۂ تکمیل کو پہنچا۔
اس معاہدے کے نکات جو میڈیا نے رپورٹ کیے، وہ یہ ہیں: ’’ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے ’’ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ کے نکات شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ـمعاہدہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی ستونوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ مکہ معاہدہ خطے کے ہر ایسے ملک کے لیے ہے جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری اور باہمی احترام، تعاون اور پرامن ذرائع کے ذریعے اختلافات کے حل کے لیے آمادگی رکھتا ہو۔ ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ جس پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے 7؍ اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ طور پر دستخط کیے ہیں ، تینوں ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات کی گہرائی کا عکاس ہے۔ مکہ معاہدہ کئی برسوں سے جاری مذاکرات اور باہمی رابطہ کاری کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد امن و سلامتی کے مختلف چیلنجز سے نمٹنے، اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مشترکہ خواہش کو آگے بڑھانا ہے۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ : مکہ معاہدہ ان ممالک کے درمیان موجود کسی بھی دوطرفہ یا کثیرجہتی معاہدے، یا دیگر ممالک و تنظیموں کے ساتھ موجود معاہدوں کو منسوخ یا تبدیل نہیں کرتا اور نہ ہی ان کی جگہ لیتا ہے،تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے فطری حق سے ہم آہنگ ہے ۔ ‘‘
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حرم کے مقدس سائے میں اجتماعی دفاع کا معاہدہ طے پانا نہایت خوش آئند اور انتہائی قابلِ تحسین ہے۔ البتہ امت کے اجتماعی دفاع کی منزل پانے کے لیے ابھی بہت سا سفر باقی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کامیابیوں کے حقیقی ثمرات پانے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان ریاستوں میں اندرونی سطح پر معاشی و سماجی عدل، سول بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے تصورات راسخ ہوں۔
اللہ تعالیٰ اس معاہدے کے دور رس نتائج مرتب فرمائے اور عالم اسلام کو کفر کے مقابل اتحاد و اتفاق کے ساتھ مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے، اور تمام مسلم ممالک کو قرآن و سنت کا نظام لانے، امت مسلمہ کی حفاظت و نگہبانی، ترقی و خوشحالی اور استحکام کے لیے سوچنے سمجھنے، عمل پیرا ہونے اور آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ! 

وصلّی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیّدنا محمّد وعلٰی اٰلہٖ وصحبہٖ أجمعین