بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 جُمادى الأولى 1448ھ 29 اکتوبر 2026 ء

بینات

 

مکاتیب حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ  بنام حضرت مولانا محمد انور تائبی مدظلہم 

  • موضوعصفر المظفر 1448ھ - اگست 2026ء
  • مصنفانتخاب وترتیب : مولانا سید سلیمان یوسف بنوری
  • تاریخ01 / 08 / 2026

سلسلۂ مکاتیب حضرت بنوری  ؒ

مکاتیب حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ 

بنام حضرت مولانا محمد انور تائبی مدظلہم 


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ بنام حضرت مولانا محمد انور تائبی مدظلہم (۱)
باسمہٖ تعالٰی
برادرِ گرامی قدر محترم مولانا محمد انور صاحب  زادکم اللہ قدرًا !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ! 

نامۂ کرم ٹیلی فون کے بعد پہنچا، صرف آپ کی خوش نودی کے لیے حاضری کا ارادہ ہوگیا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ حاضر ہوں گا، نہ تقریر کی اہلیت نہ سفر کے لیے فرصت، نہ کسی اور مصروفیت کے لیے موزونیت۔ خدا کرے آپ کے مزاجِ گرامی اور حضرت والد محترم(۲) بخیریت ہوں، موصوف کی خدمت میں سلام و درخواستِ دعا ہے۔                                                          والسلام 
                                                          محمد یوسف بنوری عفا اللہ عنہ
                                                            ۹؍ ربیع الآخر ۱۳۸۶ھ

برادرِ گرامی مفاخر مولانا محمد انور صاحب 
وفّقکم اللہ لکلّ خیر، وجعلکم خیَر خلفٍ لخیر سلفٍ، آمین!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! تحيّۃ من عند اللہ مباركۃ طيبۃ!

حضرت مولانا شیر محمد صاحب آپ کے والدِ محترم کی وفات سے بہت صدمہ ہوا تھا، وقت پر نامۂ تعزیت نہ لکھ سکا، بعد میں تعزیت خلافِ سنت معلوم ہوئی، اس لیے شرعی یا رسمی تعزیت سے مُقَصّر رہا، لیکن الحمدللہ قلبی ولسانی دعوات وذکرِ خیر میں تقصیر نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، اور رحمت ورضوان سے سرفراز فرمائے، بینات میں چند حرف لکھنے کا ارادہ تھا، وہ بھی نہ ہوسکا۔ الحمدللہ کہ ان کی شخصیت وحیثیت ان اخباری تذکروں سے بالاتر ہے، تاہم تاریخ اور دن اور وقت سے دوبارہ مطلع فرمائیں، اور مشائخ اور مشائخِ طریقت کا ذکر فرمائیں، اگر موقع ملا تو چند سطریں تحریر کروں گا۔ رہی ان کی وصیت تو یہ ان کا حسنِ ظن ہے، اور اہل اللہ کا حسنِ ظن بھی ہمارے (لیے) باعثِ نجات ہے، جو نصح وخیر خواہی ممکن ہوگی، اس میں تقصیر نہ ہوگی، ان شاء اللہ تعالیٰ! 
خدا کرے کہ آپ اور برادرانم عبد الغفور صاحب (۳) اور مولوی غلام محمد صاحب (۴) سب بخیر ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو والدِ محترم کا صحیح اور بہترین جانشین بنائے، اور امت کو آپ سے نفع پہنچائے، آمین! دعواتِ صالحہ سے فراموش نہ فرمائیں۔ مولوی عبد الغفور صاحب کو سلامِ مسنون! 
                                                           محمد یوسف بنوری عفا اللہ عنہ
                                                              ۱۲؍ شوال ۱۳۸۶ھ

أخي في اللہ شیخ محمد أنور، نوّر اللہ قلبہ، وزادہ نورًا ! 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! 

آپ کا والا نامہ باعثِ شرف ہوا، آپ کے فضل وکمال کے لیے شکر گزاری کے جذبے کے ساتھ اسے پڑھا؛ کیونکہ طویل مدت سے میں خود کو محروم پاتا ہوں، کسی خیر کی توفیق نہیں مل رہی، اور میری زندگی ان دنوں ایسی ہے کہ گویا اس میں کوئی خیر وبھلائی نہیں۔ آپ کی جانب سے خوش خبری اور خواب میری پیاس کی سیرابی اور یاس وقنوطیت کے اندھیروں میں روشنی کا سامان بنا۔ بخوبی واقف ہوں جیسا کہ سیدنا (امام) مالکؒ کا قول ہے: ’’الرُّؤيَا تَسُرُّ وَلَا تَغُرُّ‘‘ یعنی ’’اچھا خواب، باعثِ مسرت وبشارت تو ہوتا ہے، دھوکے میں نہیں ڈالتا۔‘‘ لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل زیادہ وسیع ہے اور اس کے کرم سے زیادہ امیدیں ہیں، وہ اپنے بندوں پر جیسے چاہے فضل فرمائے۔ بہرکیف یہ خواب دیکھنے والے کے لیے بھی باعثِ بشارت ہے اور جس کے لیے دیکھا گیا اس کے لیے بھی۔ اس خواب سے آگاہی پر آپ کا شکرگزار ہوں، اور ہمیں امید ہے کہ مبارک ثابت ہوگا۔ 
آپ اپنے جائے سکونت کو واپس لوٹ گئے اور مجھے اطلاع ہی نہ ہوئی، خیال تھا کہ الوداع کہوں گا، کئی روز بعد علم ہوا کہ کان میں درد اور تکلیف کی بنا پر آپ لوٹ گئے ہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو شفا وعافیتِ کاملہ عطا فرمائے۔ 
برادرِ کریم سے امید ہے کہ مجھے نیک دعاؤں سے فراموش نہ فرمائیں گے کہ میرے دبیز حجابات زائل ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ میری زندگی معاصی اور خطاؤں سے پاک فرمادیں، اور آپ کا اجر اسی اللہ سے مل سکتا ہے جو نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کیا کرتا۔ 
                                              والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! 
                                                محمد یوسف بنوری عفا اللہ عنہ
                                                 ۲۹؍ ربیع الاول ۱۳۸۹ھ 
نوٹ:     یہ مکتوب، عربی سے اردو میں منتقل کیا گیا ہے۔ 

برادرِ گرامی مفاخر مولانا محمد انور وفّقہ اللہ لكلّ خير وسعادۃ! 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! 

نامہ گرامی مشتمل بر بشارات موصول ہوا، أحسن اللہ إليكم وجزاكم خيرا۔ حضرتِ والد صاحب (مولانا سید محمد زکریا بنوری رحمۃ اللہ علیہ ) کو سنایا، بہت خوش ہوئے، اور اس کو کتاب ’’المبشّرات‘‘ میں درج کیا۔ نیز آپ کے ہدیہ ایصالِ ثواب درود شریف اور کلمہ طیبہ سے بہت محظوظ ہوئے، سلام ودعا فرماتے ہیں۔ 
  والسلام 
  محمد یوسف بنوری عفا اللہ عنہ
  ۲۶؍ محرم الحرام ۱۳۹۱ھ


۶؍ ربیع الاول ۱۳۹۱ھ 
برادرِ گرامی، أخي في اللہ، ورفیقي في سبیل اللہ،  نوّر اللہ قلبك، وزادك نورًا !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! 

میں سخت آزمائش اور حد درجہ قلبی وذہنی تکلیف میں مبتلا تھا، شاید میری زندگی میں اس سے زیادہ غم واندوہ کے دن نہیں گزرے، حتیٰ کہ بلاء شدید کے اس گھیراؤ میں درسِ بخاری میں بھی حاضر نہیں ہوسکتا تھا۔ برادرِ گرامی! انہی لمحات میں آپ کے والا نامہ کی صورت میں ہاتفِ غیبی آیا، جو میرے رنجیدہ دل کے لیے ڈھارس اور غم واندوہ میں تخفیف کا باعث بنا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اسے حقیقی معنوں میں ربّانی بشارت بنائے، اور مجھ پر ایسا بوجھ نہ ڈالے جس کا مجھ میں تحمل نہیں، بلاشبہ وہ نہایت شفیق، مہربان، سمیع اور قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ سے برادرِ عزیز کے لیے اس کی مرضیّات کی توفیق کا سوالی ہوں، اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم علیہ صلواتہ وسلامہ کے طفیل ان کی آخرت کو دنیا سے بہتر بنائے، ہم سب کو سعادت مند بنائے، ہمیں بدبختوں میں سے نہ بنائے، ہماری شامتِ اعمال کی بنا پر ہمیں رسوا نہ فرمائے، ہمیشہ اپنی ستاری کی حسین چادر ہم پر تانے رکھے، وہی ہمارے لیے کافی اور بہترین کارساز ہے۔ 
                                            وسلام علیہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! 
                                             آپ کا مخلص محمد یوسف بنوری عفا اللہ عنہ
نوٹ:     یہ مکتوب، عربی سے اردو میں منتقل کیا گیا ہے۔

حواشی

۱- حضرت مولانا محمد انور تائبی مدظلہم حضرت والد صاحبؒ کے چچا سسر اور جامعہ انوار العلوم (سکھر) کے رئیس وشیخ الحدیث ہیں۔ غالباً سنہ ۱۳۳۵ھ میں حضرت مولانا شیر محمد تائبی  رحمۃ اللہ علیہ کے گھر میں آنکھ کھولی۔ اپنے والد حضرت مولانا شیرمحمد تائبی ؒ کی آغوشِ تربیت میں تعلیم و تربیت پائی، بعد ازاں سعودی عرب کے کبار علماء سے استفادہ کیا، شیخ محمود طرازی ؒ سے انہیں اجازتِ حدیث حاصل ہے۔ کچھ عرصے سے علیل ہیں، قارئین سے ان کی صحت یابی کے لیے دعاؤں کی درخواست ہے۔ 
۲- حضرت مولانا شیر محمد صاحب تائبی  رحمۃ اللہ علیہ ، مکتوب الیہ مولانا محمد انور صاحب مدظلہم کے والد اور راقم کے پرنانا تھے۔ حضرت مولانا شیر محمد صاحب تائبی ؒ کے تین بیٹے تھے: بڑے بیٹے مولانا گل محمد ؒ ، منجھلے بیٹے مولانا محمدانور صاحب اور چھوٹے بیٹے مولانا غلام محمدؒ۔ حضرت والد ماجد  رحمۃ اللہ علیہ نے مولانا شیر محمد تائبی ؒ کی وفات کے موقع پر تأثراتی تحریر میں لکھا تھا: ’’مغربی پاکستان کے علاقہ سندھ کے ایک مشہور اور معمّر عالمِ دین مولانا شیر محمد صاحبؒ نے ۲۵؍رمضان المبارک ۱۳۸۶ھ کی شب میں داعیِ اجل کو لبیک کہی۔ موصوف، سندھ کے محقق عالم، متواضع درویش اور منکسر المزاج بزرگ تھے، باخدا شخصیت تھی، صرف ونحو کے امام تھے، مسائلِ صرف اور دقائقِ نحو سے شغف کیا عشق تھا، علمِ صرف میں ایک عمدہ کتاب کے مصنف تھے، اور سکھر میں دینی درس گاہ (جامعہ انوار العلوم، سکھر) کے مؤسس تھے۔ موت بھی عجیب ہوئی، ۲۴؍ رمضان کی صبح کو غسل کی، نئے کپڑے زیبِ تن کیے، گویا سفر کی تیاری ہے، دن بھر روزہ رہا، قبل افطار زیادہ طبیعت خراب ہوگئی، معمولی علالت کا سلسلہ پہلے ہی سے چلا آرہا تھا، کچھ وصیتیں فرمائیں، افطار کے وقت غنودگی بڑھ گئی، جس کی وجہ سے افطار نہ ہوسکا، بالآخر نصف شب ۲۵رمضان کو روح‘ قفسِ عنصری سے ’’اللہ اللہ‘‘ کہہ کر پرواز کرگئی: إنا للہ وإنا إليہ راجعون! سبحان اللہ! موت کیا تھی؟! گویا زندگی کا رخ دنیا سے عالمِ آخرت کی طرف مڑ گیا، اور طرفۃُ العین میں عالمِ فانی سے کٹ کر عالمِ آخرت سے جڑ گئے، راقم الحروف کے کرم فرما اور دعاگو تھے۔‘‘ (یاد رفتگاں، ص: ۴۴ و۴۵، مکتبہ بینات)اسی تأثراتی تحریر کے آخر میں حضرت کے صاحب زادے اور مکتوب الیہ مولانا محمد انور صاحب مدظلہم کے متعلق حضرت والد ماجد  رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’’خدا کا شکر ہے کہ ان کے خلفِ رشید برادرم مولانا محمد انور صاحب موجود ہیں، ان سے توقع ہے کہ وہ مرحوم باپ کی جانشینی کا حق ادا کرسکیں گے۔‘‘ (ایضاً، ص:۴۵ ) حضرت مولانا شیر محمد تائبی  رحمۃ اللہ علیہ ہی ہمارے ننھیال کی وہ پہلی شخصیت ہیں جن سے حضرت والد ماجدؒ کی سب سے پہلے ملاقات ہوئی اور وہی ملاقات ہمارے ننھیال سے والد ماجدؒ کے تعلق کا ذریعہ بنی۔ 
۳- حضرت مولانا عبد الغفور صاحب مدظلہم، جامعہ کے قدیم فاضل، حضرت والد ماجد  رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردِ رشید ، مدرسہ صولتیہ وجامعہ ام القریٰ(مکہ مکرمہ)کے سابق استاذ ۔ ۱۶؍ ذوالقعدہ ۱۳۵۵ھ/۱۹۳۷ء میں پیدا ہوئے۔ پہلے جامعہ خیرالمدارس سے استفادہ کیا اور اس کے بعد ۱۳۸۱ھ میں جامعہ سے درسِ نظامی کی تکمیل کی، والد ماجد حضرت بنوریؒ کے خاص تلامذہ میں سے ہیں۔ ۱۹۸۵ء میں سندھ یونیورسٹی سے دکتوراہ کیا۔ متعدد کتابوں کے مؤلف ہیں۔ مکہ مکرمہ میں عرصہ دراز سے مقیم ہیں، حضرت بنوریؒ حرمین کے اسفار میں ان کے ہاں قیام فرماتے تھے۔ بہت سے عرب علماء ومشائخ سے انہیں اجازتِ حدیث حاصل ہے، جن میں شیخ محمد یٰسین فادانی، شیخ سلیمان صنیع، شیخ عبدالحفیظ فاسی، شیخ عبدالستار دہلوی، شیخ عبدالباقی انصاری لکھنوی اور شیخ عمر بن حمدان المحرسی نمایاں ہیں۔ عرصہ دراز سے مکہ مکرمہ میں مقیم ہونے کی بنا پر عرب و عجم کے اہل علم ان سے استفادہ کررہے ہیں، بارک اللہ في حیاتہٖ مع الصحۃ والعافیۃ۔
۴- حضرت مولانا غلام محمد تائبی  رحمۃ اللہ علیہ ، جامعہ کے قدیم فاضل، حضرت والد ماجد ؒ کے شاگرد و چچا سسر، حضرت مولانا شیر محمد تائبی ؒ کے چھوٹے فرزند، میرے نانا حضرت مولانا گل محمد ؒ کے چھوٹے بھائی اور میری والدہ ماجدہ دام ظلّہا کے چچا تھے۔ جامعہ انوار العلوم سکھر کے سابق استاذ الحدیث، راسخ عالمِ دین، درویش صفت، صوفی منش، زہد پسند شخصیت تھے۔ ۱۶؍ رجب المرجب ۱۴۴۶ھ مطابق ۱۸؍ جنوری ۲۰۲۴ء بروز جمعہ تقریباً ۷۸ سال کی عمر میں سفرِ آخرت پر روانہ ہوئے۔