کرپٹو کرنسی اور اہل فتویٰ!
کرپٹو کرنسی اور اہل فتویٰ!
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی!
دور حاضر میں جہاں اور بہت سے فتنے اور گمراہیاں مسلمانوں میں دَر آئی ہیں، وہیں اِعجابِ رائے (خود پسندی) اور غیر اہل علم کا دینی معاملات میں دخل دینا اور عوام الناس کو علمائے کرام سے متنفر کرنا بھی اس دور کا فتنہ ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:
’’ ۔۔۔ حَتّٰی إِذَا رَاَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا، وَھَوًی مُتَّبَعًا، وَدُنْيَا مُؤثَرَۃً، وَ إِعْجَابَ كُلِّ ذِيْ رَأيٍ بِرَأيہٖ ۔‘‘
(سنن الترمذي ، کتاب تفسير القرآن عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث : ۳۰۵۸)
ترجمہ : ’’ ۔۔۔ یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ لوگ بخل کے راستے پر چل پڑے ہیں، خواہشاتِ نفس کے پیرو ہو گئے ہیں، دنیا کو آخرت پرترجیح دی جارہی ہے اور ہر عقل و رائے والا بس اپنی ہی عقل و رائے پر مست اور مگن ہے۔‘‘
حال ہی میں اس کا تازہ مشاہدہ ہوا کہ کرپٹو کرنسی سے متعلق اہلِ علم خصوصاً حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم ( صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان ) کی رائے سامنے آئی، جو کہ صرف ان کی ہی رائے نہیں ہے، بلکہ علمائے کرام کی متفقہ رائے ہے کہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے لین دین کرنا جائز نہیں ہے ؛ کیوں کہ تاحال اس کی قانونی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی اصل کے اعتبار سے یہ مال ہونے کی حیثیت سے وجود رکھتی ہے ۔ لیکن اس فتوے کے خلاف میڈیا پر ایک طوفانِ بد تمیزی بپا کر دیا گیا، علمائے کرام کو زمانے سے نابلد کہا جانے لگا ، اور یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ علماء کرام پہلے ہر چیز کو حرام قرار دیتے ہیں اور بعد میں حلال کہہ دیتے ہیں ۔
یہ بات سمجھنا ضروری ہےکہ کوئی بھی نیا معاملہ سامنے آئے تو مسلمان اسے قرآن و سنت کی رُو سے پرکھنے کے پابند ہیں۔ کسی چیز کے جائز یا ناجائز ہونے کا فتویٰ خواہشِ نفس یا عوامی شور شرابے پر نہیں، بلکہ ان قطعی نصوص اور اَبدی اُصولوں کی روشنی میں دیا جاتا ہے جو قرآن و سنت کی روشنی میں طے کیے جا چکے ہیں ۔ کیا چیز مال ہے اور کیا چیز مال نہیں ہے؟ دین کے ان اصولوں نے طے کردیا ہے، مثلاً: خنزیر اور مردار مال نہیں ہیں، گو غیر مسلم انھیں مال کی حیثیت دے کر تبادلہ کرتے رہیں، اور شراب اگرچہ غیر مسلموں کےلیے تو مال ہے، لیکن مسلمانوں کےلیے یہ مال نہیں ہے۔ دین کے اصولوں ہی سے اخذ کیا جاتا ہے کہ کس چیز کے تبادلے میں کون سی چیز قابلِ فروخت ہے اور کون سی چیز قابلِ فروخت نہیں، نیز کس چیزکو اس کی قانونی قیمت سمجھاجائے گا اور کس کو نہیں؟ مال کا مال کے ساتھ تبادلے کا عقد کیے جانے کے بعد اگر فروخت کنندہ خریدار کو مال نہ دے، یا خریدار فروخت کنندہ کو قیمت ادا نہ کرے، یا خریدار مال خرید لینے کے بعد فروخت کنندہ کے پاس رکھوائے اور وہ ضائع ہوجائے، تو کون ذمہ دار ہوگا اور کس کا مال ضائع ہوگا؟ یہ سب کچھ شریعت نے واضح کردیا ہے۔ اسی طرح خریدا ہوامال ضائع ہونے کے بعد اسی جیسا دینا ہوگا یا اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی؟ پھر مال کی وہ مخصوص صورت‘ جسے آج کل کرنسی کہا جاتا ہے، اس کی حیثیت کا تعین بھی دین کے اصولوں کی رُو سے ہوگا کہ کس چیز کو کرنسی مان سکتے ہیں اور کس کو نہیں؟
کرپٹو کرنسی کا آغاز دنیا میں ۲۰۰۹ء میں ہوا۔ ۲۰۱۳ء میں پاکستان میں ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد نے اس کا استعمال شروع کیا، لیکن اس وقت نہ کوئی سرکاری قانون موجود تھا اور نہ ہی علماء کی جانب سے اس پر تفصیلی فتاویٰ سامنے آئے تھے۔ ۲۰۱۷ء میں مصر کے مفتی اعظم نے اس کو ناجائز قرار دیا، پاکستان میں ۲۰۱۷ء کے دوران کرپٹو کرنسی پر باقاعدہ فقہی تحقیق شروع ہوئی۔ اسی سال ہماری جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے ماہنامہ بینات کے رجب ۱۴۳۸ھ (۲۰۱۷ء) کے شمارے میں ’’ڈیجیٹل کرنسی اور ون کوائن (OneCoin) کمپنی کا کاروبار‘‘ کے عنوان سے ایک تفصیلی تحقیقی مضمون شائع ہوا۔ اس میں ڈیجیٹل کرنسیوں کی شرعی حیثیت پر بحث کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ اس وقت ان کی شرعی حیثیت واضح نہیں، ان میں غرر (غیر یقینی)، قیمتوں کا اُتار چڑھاؤ، حکومتی ضمانت کا فقدان اور دیگر شرعی و معاشی خدشات موجود ہیں، اس لیے ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ۶ ؍اپریل ۲۰۱۸ء کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تمام بینکوں، مالیاتی اداروں اور ادائیگی کا نظام فراہم کرنے والوں کو ہدایت جاری کی کہ وہ ورچوئل کرنسیوں اور ٹوکنز سے متعلق لین دین یا سہولت فراہم نہ کریں؛ کیوں کہ یہ پاکستان میں قانونی کرنسی نہیں ہیں اور اسٹیٹ بینک نے انہیں لائسنس یا منظوری نہیں دی۔ ۱۸؍ اپریل ۲۰۱۸ء کو ایکسچینج کمپنیوں کے لیے بھی اسی نوعیت کی ہدایات جاری کی گئیں۔ ۶؍نومبر ۲۰۱۸ء کو جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے دارالافتاء کی ویب سائٹ پر بٹ کوائن کے بارے میں ایک مختصر فتویٰ شائع ہوا، جس میں کہا گیا کہ بٹ کوائن کی شرعی حیثیت واضح نہیں، اس لیے اس کی خرید و فروخت اور اس کے ذریعے کاروبار سے گریز کیا جائے۔ ۲۰۲۲ء تک جامعہ بنوری ٹاؤن سے جاری ہونے والے متعدد جوابات میں بنیادی طور پر یہی موقف برقرار رہا کہ موجودہ صورت میں کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت سے اجتناب کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے متعلق شرعی اور معاشی خدشات برقرار ہیں۔ جب کہ ۲۰۲۲ء سے کرپٹو کرنسی کی مائننگ، خرید و فروخت اور اس کے ذریعے کاروبار کے عدمِ جواز کا فتویٰ جاری ہورہا ہے؛ کیوں کہ اس میں حقیقی کرنسی کے بنیادی اوصاف اور شرائط موجود نہیں ہیں ۔ جون ۲۰۲۶ء میں جامعہ دارالعلوم کراچی کے دارالافتاء نے ایک فتویٰ جاری کیا، جس پر حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم سمیت متعدد جید مفتیانِ کرام کے دستخط تھے، اس میں موجودہ صورتِ حال کے مطابق کرپٹو کرنسی کو شرعی اعتبار سے مال نہ مانتے ہوئے اس کے ذریعے خرید و فروخت کو ناجائز قرار دیا گیا۔ فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ کرپٹو کرنسی شریعت کے اصولوں کے تحت مال (ویلتھ) نہیں، بلکہ محض کھاتوں میں فرضی نمبروں کا اندراج ہے۔
اسی نوعیت کے فتاویٰ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن اور دار العلوم دیوبند سے بھی جاری ہوئے ہیں، بطور مثال ملاحظہ ہوں:
1- ’’کرپٹو کرنسی میں پیسے لگانا ناجائز ہے۔ تجارت کے مسائل کاانسائیکلوپیڈیا میں ہے : ’’بٹ کوائن‘‘ محض ایک فرضی کرنسی ہے، اس میں حقیقی کرنسی کے بنیادی اوصاف اور شرائط بالکل موجود نہیں ہیں، لہٰذا موجودہ زمانے میں کوئن یا ڈیجیٹل کرنسی کی خرید و فروخت کے نام سے انٹرنیٹ پر اور الیکٹرونک مارکیٹ میں جو کاروبار چل رہا ہے وہ حلال اور جائز نہیں ہے، وہ محض دھوکا ہے، اس میں حقیقت میں کوئی مادی چیز نہیں ہوتی، اور اس میں قبضہ بھی نہیں ہوتا ، صرف اکاؤنٹ میں کچھ عدد آجاتے ہیں، اور یہ فاریکس ٹریڈنگ کی طرح سود اور جوے کی ایک شکل ہے، اس لیے بٹ کوائن یا کسی بھی ڈیجیٹل کرنسی کے نام نہاد کاروبار میں پیسے لگانا اور خرید و فروخت میں شامل ہونا جائز نہیں ہے۔ (۲/۹۲) فقط ، واللہ اعلم ! (فتویٰ نمبر: 144210200100، دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن)‘‘
2- ’’و اضح رہے کہ شریعت میں کرنسی کے جو اوصاف اور شرائط بیان کی گئی ہیں، کرپٹو کرنسی میں وہ اوصاف و شرائط نہیں پائی جاتیں، شرعاً کرنسی کے لیے ضروری ہے کہ وہ خارج میں وجود رکھتا ہو، یعنی وہ عین ہو اور اس کو اسٹاک بھی کیاجاسکتاہو، جب کہ کرپٹو کرنسی کا نہ تو حقیقت میں کوئی وجود ہے، اور نہ ہی اس کو اسٹاک کیاجانا ممکن ہے،اس کے مالک کے پاس اکاؤنٹ میں سوائے ہندسوں کے کچھ نہیں ہوتا؛ لہٰذا شریعت کی رو سے یہ کرنسی نہیں ہے، اس کے ذریعہ لین دین اور کاروبار کرنا جائز نہیں۔ دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر درج ذیل فتویٰ موجود ہے:
کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن وغیرہ) ایک فرضی کرنسی ہے اور اس کا عنوان ہاتھی کے دانت کی طرح محض دکھانے کی چیز ہے اور فقہائے کرام کی تصریحات کی روشنی میں یہ کرنسی از روئے شرع مال نہیں ہے اور نہ ہی ثمنِ عرفی۔ نیز اس کاروبار میں حقیقت میں کوئی مبیع وغیرہ نہیں ہوتی اور نہ ہی اس میں بیع کے جواز کی شرعی شرطیں پائی جاتی ہیں؛ بلکہ در حقیقت یہ فاریکس ٹریڈنگ کی طرح سود اور جوے کی شکل ہے ؛ اس لیے کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن یا کسی بھی ڈیجیٹل کرنسی) کی خرید وفروخت کی شکل میں نیٹ پر چلنے والا کاروبار شرعاً حلال وجائز نہیں ہے، مسلمانوں کو اس میں حصہ داری نہیں کرنی چاہیے۔‘‘ (فتویٰ نمبر: 692-617: 1439) فقط، واللہ اعلم!‘‘
(فتویٰ نمبر: 144509101103، دار الافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن)
قابلِ تحسین بات یہ ہے کہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی جانب سے دیے گئے بیان کے بعد حکومتی ادارہ پی وی اے آر اے کے چیئرمین جناب بلال بن ثاقب صاحب نے مفتی تقی عثمانی صاحب سے رابطہ کیا ہے، جس میں ان سے ڈیجیٹل اثاثہ جات کی شرعی حیثیت پر بات چیت ہوئی۔ جناب بلال بن ثاقب صاحب نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں بتایا کہ ڈیجیٹل اثاثوں اور ان کی شرعی حیثیت کے حوالے سے مفتی تقی عثمانی صاحب سے ایک تعمیری بات چیت ہوئی، جس میں مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ہمارے درمیان پاکستانی شہریوں کو مالی فراڈ، استحصال اور ممکنہ مالی نقصانات سے محفوظ رکھنے پر اتفاق پایا جاتا ہے۔ بلاک چین، ڈیجیٹل اثاثہ جات، سٹیبل کوائنز اور حقیقی دنیا کے اثاثوں کی ٹوکنائزیشن مختلف نوعیت کی ٹیکنالوجیز اور استعمالات پر مشتمل شعبے ہیں، اس لیے ان کا تکنیکی اور شرعی دونوں پہلوؤں سے احتیاط اور جامع انداز میں جائزہ لیا جانا چاہیے۔ بیان کے مطابق چوں کہ یہ شعبہ تیزی سے ارتقائی مراحل سے گزررہا ہے، اس لیے اُمید ہے کہ مستقبل میں علماء، ریگولیٹرز اور صنعت سے وابستہ ماہرین کے درمیان مکالمہ جاری رہے گا، تاکہ پاکستان کی پالیسی اسلامی اصولوں اور جدید ٹیکنالوجی دونوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تشکیل دی جا سکے۔
ہم عوام الناس سے بھی گزارش کریں گے کہ شرعی مسائل خصوصاً پیش آمدہ مسائل کے بارے میں قرآن وسنت کے حکم کے مطابق علمائے کرام ہی کی طرف رجوع کریں اور اپنی رائے کے اظہار اور پھر اس پر اصرار سے گریز کریں، جیسا کہ ڈیجیٹل کرنسی کے حکومتی ادارہ کے ذمہ دار نے اہلِ علم سے صحت مندانہ مکالمہ کیا اور انہوں نے اس ایشو کو علماء کرام کی تضحیک کا ذریعہ بنانے اور انہیں دقیانوس قرار دینے کی بجائے ان سے استفادہ کرنا بہتر سمجھا۔ اسی طرح سوشل میڈیا کی لت میں مبتلا افراد بھی دینی امور پر رائے زنی کی بجائے اہلِ افتا کے فتاویٰ کو سامنے رکھ کر اپنی معیشت کی نوک پلک سنواریں تو ان شاء اللہ ! ان کے کاروبار میں بھی برکت ہوگی اور ملکی معاشی ترقی کے لیے بھی وہ مثبت کردار ادا کرسکیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو علمائے کرام کی قدر شناسی نصیب فرمائے ، اعجابِ رائے کے فتنے سے ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ ہمارے حکمرانوں کو وطن عزیزپاکستان کی معیشت کو اسلامی اصولوں پر چلانے کا خوگر بنائے اور ہمارے عوام کو اس کے لیے صحت مند کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبي الکریم!
وصلّی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیّدنا محمّد وعلٰی اٰلہٖ وصحبہٖ أجمعین

