بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قادیانیوں سے میل جول اور کھانے پینے کا حکم

سوال

اگرکوئی قادیانی کلاس میں پڑھتاہو یاکوئی رشتہ دارقادیانی ہو تواس سے بات کرنایااس کے گھر جاناکیساہے ؟ اوراس کے ساتھ کھاناکھاناکیساہے ؟

جواب

قادیانی شریعت وآئین کی روسے دائرہ اسلام سے خارج ہیں،بوقت ضرورت ان سے کلام ،گفتگودرست ہے۔البتہ دوستی اوریارانہ رکھناخطرناک ہے۔نیزقادیانیوں کے ہاں کھاناپینابھی ٹھیک نہیں ہے۔

مفتی اعظم ہندمفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

''اگردین کوفتنے سے محفوظ رکھناچاہتے ہوں تو(قادیانیوں سے )قطع تعلق کرلیناچاہیئے،ان سے رشتہ ناتاکرناان کے ساتھ خلط ملط رکھناجس کادین           اورعقائدپراثرپڑے ناجائزہے.............اورقادیانیوں کے ساتھ کھاناپینارکھناخطرناک ہے۔(1/325،دارالاشاعت)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 143706200032
تاریخ28-03-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں