بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

سحر و جادو سے مطلقاً انکار کا شرعی و علمی جائزہ

سحر و جادو سے مطلقاً انکار کا شرعی و علمی جائزہ


اسلام ایک مکمل دین ہے جو عقائد،عبادات،اخلاق اور زندگی کے تمام پہلوؤں پر راہنمائی فراہم کرتا ہے،چنانچہ سحر(جادو)اور اس کے وجود کے بارے میں اسلامی عقیدہ واضح ہے،بعض لوگ جادو کی حقیقت کا انکار کرتے ہیں اور اسے محض ایک خیالی تصوّر یا نفسیاتی اثر کا نام دیتے ہیں،جب کہ شریعت اور تاریخ میں اس کی حقیقت کو ثابت کرنےکے دلائل موجود ہیں۔

۱:سحر کا لغوی و اصطلاحی معنی اور اس کی حقیقت

’’سِحر ‘‘ لغت میں ہر ایسے اثر کو کہتے ہیں جس کا سبب ظاہر نہ ہو،خواہ وہ سبب معنوی ہوجیسے خاص خاص کلمات کا اثر،یا غیر محسوس چیزوں کاہو،جیسے جنات و شیاطین کا اثر،یا مسمریزم میں قوّتِ خیالیہ کا اثر،یا محسوسات کا ہو مگر وہ محسوسات مخفی ہوں،یا نجوم و سیّارات کا اثر۔
’’والسِحر: الأخذۃ، وکل ما لطُف مأخذہ و دقّ فھو سحر۔‘‘  (لسان العرب:۷/۱۳۵، ط: المکتبۃ الوحیدیۃ، پشاور)
اور اصطلاحِ قرآن و سنت میں’’سِحر‘‘ ہر ایسے امرِ عجیب کو کہا جاتا ہے جس میں شیاطین کو خوش کرکے ان کی مدد حاصل کی گئی ہو،پھر شیاطین کو راضی کرنے کی مختلف صورتیں ہیں،کبھی ایسے منتر اختیار کیے جاتے ہیں جن میں کفر و شرک کےکلمات ہوں اور شیاطین کی مدح کی گئی ہو،یا کواکب و نجوم کی مدد اختیار کی گئی ہو،جس سے شیطان خوش ہوتا ہے۔ کبھی ایسے اعمال اختیار کیے جاتے ہیں، جو شیطان کو پسند ہیں،مثلاً کسی کو ناحق قتل کرکے اس کا خون استعمال کرنا،یا جنابت و نجاست کی حالت میں رہنا،طہارت سے اجتناب کرنا، وغیرہ۔
جس طرح اللہ تعالیٰ کے پاک فرشتوں کی مدد اُن اقوال اور افعال سے حاصل کی جاتی ہے جن کو فرشتے پسند کرتے ہیں،مثلا تقویٰ،طہارت اور پاکیزگی،بد بو اور نجاست سے اجتناب،ذکر اللہ اور اعمالِ خیر۔
اسی طرح شیاطین کی امداد ایسے اقوال و افعال سے حاصل ہوتی ہے جو شیطان کو پسند ہوں،اسی لیے سِحر صرف ایسے لوگوں کا کامیاب ہوتا ہے جو گندے اور نجس رہیں،پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ کے نام سے دور رہیں،خبیث کاموں کے عادی ہوں،باقی شعبدے اور ٹوٹکے یا ہاتھ کی چالاکی کے کام یا مسمریزم وغیرہ ان کو مجازاً ’’سِحر‘‘ کہہ دیا جاتا ہے۔(۱) 

سحر کی اقسام

امام راغب اصفہانیؒ نے’’ مفردات القرآن‘‘ میں سحر کی مختلف قسمیں بیان کی ہیں:
ایک قسم تو محض نظر بندی اور تخییل ہوتی ہے،جس کی کوئی حقیقتِ واقعیہ نہیں ہوتی،جیسے بعض شعبدہ باز اپنے ہاتھ کی چالاکی سے ایسا کام کرتے ہیں کہ عام لوگوں کی نظریں اس کو دیکھنے سے قاصر رہتی ہیں،یا قوّتِ خیالیہ مسمریزم وغیرہ کے ذریعہ کسی کے دماغ پر ایسا اثر ڈالا جائے کہ وہ ایک چیز کو آنکھوں سے دیکھتا اور محسوس کرتا ہے، مگر اس کی کوئی حقیقتِ واقعیہ نہیں ہوتی،کبھی یہ کام شیاطین کے اثر سے بھی ہوسکتا ہےکہ مسحور کی آنکھوں اور دماغ پر ایسا اثر ڈالا جائے جس سے وہ ایک غیر واقعی چیز کو حقیقت سمجھنے لگے، قرآن مجید میں فرعونی ساحروں کے جس سِحر کا ذکر ہے، وہ یہی پہلی قسم کا ذکر تھا،جیسا کہ ارشادِ ربّانی ہے:
’’سَحَرُوْا اَعْيُنَ ٱلنَّاسِ‘‘ (الأعرَاف)’’انہوں نے لوگوں کے آنکھوں پر جادو کردیا۔‘‘ 
اور ارشاد ہے:
’’يُخَیَّلُ اِلَيْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّہَا تَسْعٰی‘‘                                 (طہ:۶۶ )
’’ان کے سحر سے موسیٰ کے خیال میں آنے لگا کہ یہ رسیوں کے سانپ دوڑ رہے ہیں۔‘‘
اس میں’’ یُخَیَّلُ‘‘ کے لفظ سے بتلادیا گیا کہ یہ رسیاں اور لاٹھیاں جو ساحروں نے ڈالی تھیں، نہ درحقیقت سانپ بنیں،اور نہ انہوں نے کوئی حرکت کی،بلکہ حضرت موسیٰ  علیہ السلام  کی قوّتِ متخیّلہ متاثر ہوکر ان کو دوڑنے والے سانپ سمجھنے لگی۔
دوسری قسم اس طرح کی تخیّل اور نظر بندی ہے جو بعض اوقات شیاطین کے اثر سے ہوتی ہے،جو قرآن کریم کے اس ارشاد سے معلوم ہوئی:
’’ہَلْ اُنَبِّئُکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ ٱلشَّيٰطِيْنُ  تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِيْمٍ‘‘ (الشعراء:۲۲۱-۲۲۲)
’’میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ کن لوگوں پر شیاطین اُترتے ہیں،ہر بہتان باندھنے والے گناہگار پر اُترتے ہیں۔‘‘
دوسری جگہ ارشاد ہے:
’’وَلٰکِنَّ الشَّيٰطِيْنَ کَفَرُوْا يُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ‘‘      (البقرۃ)
’’یعنی شیاطین نے کفر اختیار کیا، لوگوں کو جادو سکھانے لگے۔‘‘
تیسری قسم یہ ہے کہ سِحر کے ذریعے ایک شے کی حقیقت ہی بدل جائے،جیسےکسی انسان یا جاندار کو پتھر یا کوئی جانور بنادیں۔امام راغب اصفہانیؒ،ابوبکر جصّاصؒ وغیرہ حضرات نے اس سے انکار کیا ہے کہ سحر کے ذریعے کسی چیز کی حقیقت بدل جائے،بلکہ سحر کا اثر صرف تخییل اور نظر بندی ہی تک ہوسکتا ہے،معتزلہ کا بھی یہی قول ہے،مگر جمہور علماء کی تحقیق یہ ہے کہ انقلابِ اعیان میں نہ کوئی عقلی امتناع ہے اور نہ شرعی، مثلاً کوئی جسم پتھر بن جائے،یا ایک نوع سے دوسری نوع کی طرف منقلب ہو جائے۔ اور فلاسفہ کا جو یہ قول مشہور ہے کہ انقلابِ حقائق ممکن نہیں،ان کی مراد حقائق سے محال،ممکن اور واجب کی حقیقتیں ہیں کہ ان میں انقلاب عقلاً ممکن نہیں کہ کوئی محال ممکن بن جائے،یا کوئی ممکن محال بن جائے۔
اور قرآن عزیز میں فرعونی ساحروں کے سحر کو جو تخییل قرار دیا ہے، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر سحر تخییل ہی ہو،اس سے زائد کچھ نہ ہو۔ اور بعض حضرات نے سحر کے ذریعہ انقلاب ِحقیقت کے جواز پر حضرت کعب احبارؒ کی اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے جو مؤطا امام مالکؒ میں بروایت قعقاع بن حکیم منقول ہے:
’’لولا کلمات أقولہن لجعلتني الیھود حمارًا۔‘‘
’’اگر یہ چند کلمات نہ ہوتے جن کو میں پابندی سے پڑھتا ہوں تو یہودی مجھے گدھا بنادیتے۔‘‘
’’گدھا بنادینے‘‘کا لفظ مجازی طور پر بے وقوف بنانے کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے، مگر بلاضرورت حقیقت کو چھوڑ کر مجاز مراد لینا صحیح نہیں،اس لیے حقیقی اور ظاہری مفہوم اس کا یہی ہے کہ اگر میں یہ کلمات روزانہ پابندی سے نہ پڑھتا تو یہودی جادو گر مجھے گدھا بنا دیتے۔
اس سے دو باتیں ثابت ہوئیں، اوّل یہ کہ سحر کے ذریعے انسان کو گدھا بنا دینے کا امکان ہے، دوسرے یہ کہ جو کلمات وہ پڑھا کرتے تھے، ان کی تاثیر یہ ہے کہ کوئی جادو اثر نہیں کرتا،حضرت کعب احبارؒ سے جب لوگوں نے پوچھا کہ وہ کلمات کیا تھے تو آپ نے یہ کلمات بتلائے:
’’أعوذ بوجہ اللہ العظيم، الذي ليس شيء أعظم منہ، وبکلمات اللہ التامات التي لا ‌يجاوزہن ‌برّ ولا فاجر، وبأسماء اللہ الحسنی کلہا، ما علمت منہا وما لم أعلم، من شر ما خلق وذرأ وبرأ۔‘‘  (مؤطا إمام مالک، باب ما يؤمر بہ من التعوّذ عند النوم و غيرہ،ص:۵۷۱،ط:مکتبہ رحمانيہ)
’’میں اللہ عظیم کی پناہ پکڑتا ہوں، جس سے بڑا کوئی نہیں۔اور پناہ پکڑتا ہوں اللہ کے کلمات تامات کی، جن سے کوئی نیک و بد انسان آگے نہیں نکل سکتا۔ اور پناہ پکڑتا ہوں اللہ کے تمام اسمائے حسنیٰ کی، جن کو میں جانتا ہوں،اور جن کو نہیں جانتا، ہر اس چیز کے شر سے جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، اور وجود دیا اور پھیلایا ہے۔‘‘
خلاصہ یہ کہ سحر کی یہ تینوں قسمیں ممکن الوقو ع ہیں۔  (ماخوذ از معارف القرآن، ص:۳۲۱،۳۲۰،۳۱۹،۳۱۸،ط:ادارۃ المعارف کراچی)(۲) 
چنانچہ امام قرطبی ؒ اپنی تفسیر’’تفسير القرطبي أي الجامع لأحکام القرآن‘‘ میں سحر کی حقیقت اور اس کے وجود کے متعلق اہل السنت والجماعت کا مذہب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’السابعۃ: ذہب أہل السنۃ ‌إلی ‌أن ‌السحر ثابت ولہٗ حقيقۃ. وذہب عامۃ المعتزلۃ وأبو إسحاق الأستراباذي من أصحاب الشافعي ‌إلی ‌أن ‌السحر لا حقيقۃ لہ، وإنما ہو تمويہ وتخييل وإيہام لکون الشيء علی غير ما ہو بہ، وأنہ ضرب من الخفۃ والشعوذۃ۔‘‘
’’اہل سنت والجماعت کا موقف یہ ہے کی سِحرایک ثابت شدہ اور حقیقت رکھنے والی چیز ہے، البتہ معتزلہ اور شوافع میں سے ابو اسحاق استراباذی کہتے ہیں کہ سحر کی کوئی حقیقت نہیں، محض خیالی تصوّرات اور توہّمات ہے۔‘‘ (الجامع لأحکام القرآن: ۲/ ۴۵،ط: مکتبۃ رشیدیۃ، کوئتہ)
اسی طرح امام فخر الدین الرازیؒ نے بھی اپنی تفسیر ’’التفسیر الکبیر‘‘میں سحر کی حقیقت اوراس کے وجود کے بارے میں اہل السنت والجماعت اور اس کے مقابل معتزلہ کا یہی موقف بیان کیا ہے۔(۳) 
نیز یہی موقف امام بدر الدین عینیؒ نے ’’صحیح البخاري‘‘کی شرح ’’عمدۃ القاري‘‘ میں بھی ذکر کیا ہے۔(۴) 
ان مذکورہ حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ سنت والجماعت اس بات پر متفق ہیں کہ سحر ایک حقیقت ہے اور واقعی اس کی وجہ سے خلافِ عادت اُمور وجود میں آتے ہیں،اور آیات ِ قرآنیہ اور صحیح احادیثِ مبارکہ اس پر شاہد ہیں،البتہ معتزلہ اور شوافع میں سے ابو اسحاق استرآبادی کا خیال یہ ہے کہ سحر کی حقیقت محض نظر بندی اور تخیل ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ 

کیا انبیاء علیہم السلام پر بھی جادو کا اثر ہوسکتا ہے؟

جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے، اس لیے کہ سِحر درحقیقت اسبابِ طبعیّہ ہی کا اثر ہوتا ہے، اور انبیاء کرامo اسبابِ طبعیّہ کے اثرات سے متاثر ہوتے ہیں،یہ تأثر شانِ نبوت کے خلاف نہیں،جیسے ان کا بھوک پیاس سے متاثر ہونا،بیماری میں مبتلا ہونا اور شفا پانا ظاہری اسباب سے سب جانتے ہیں، اسی طرح جادو کے باطنی اسباب سے بھی انبیاء کرام o متاثر ہوسکتےہیں،اور یہ شانِ نبوت کے منافی نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  پر یہودیوں کا سِحر کرنا اور اس کی وجہ سے آپ پر بعض آثار کا ظاہر ہونا اور بذریعہ وحی اس جادو کا پتہ لگنا اور اس کا ازالہ کرنا احادیثِ صحیحہ میں ثابت ہے،اور حضرت موسیٰ  علیہ السلام  کا سحر سے متاثر ہونا خود قرآن میں مذکور ہے،آیات: ’’يُخَيَّلُ إِلَيْہِ مِن سِحْرِہِمْ ‘‘(طہ) اور’’فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِہٖ خِيْفَۃً مُّوْسٰی ‘‘ (طہ) یعنی موسیٰ  علیہ السلام  پر خوف طاری ہونا اسی جادو ہی کا اثر تھا۔ (ماخوذ از معارف القرآن ص: ۳۲۳، ط: ادارۃ المعارف، کراچی) (۵) 

انبیاء  علیہم السلام پر سحر کی حقیقت

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ  اپنی تفسیر’’معارف القرآن‘‘ میں فرماتے ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:
’’نبی کریم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر یہود نے سحر کردیا تھا اور اس جادو کے اثر سے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایک طرح کا مرض سا بدن مبارک پر لاحق ہوگیا تھا اور اس دوران کبھی ایسا بھی آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اپنے کسی دنیا کے کام اور معاملہ میں خیال ہوتا ہے کہ میں نے یہ کام کرلیا، حالانکہ وہ نہیں کیا ہوا ہوتا، کبھی کوئی چیز نہیں کی اور خیال ہوتا کہ میں نے یہ بات کرلی ہے۔پھر دو سورتوں سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی آیات پوری ہونے اور دم کرنے پر ایسا معلوم ہوا کہ گویا کسی بندش سے کھول دیا گیا تو آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر پھر حسبِ سابق وہ نشاط کی حالت عود کر آئی اور جو گھٹن یا جسمانی تکلیف محسوس ہورہی تھی، وہ ختم ہوگئی ۔
 یہ واقعہ صحیحین میں موجود ہے۔ان روایات و احادیث پر کسی نے جرح نہیں کی اور اس طرح کی کیفیت یا بدنی احوال میں کسی نوع کا تغیر منصبِ رسالت کے منافی نہیں ہے، جیسے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کسی وقت بیمار ہوجانا یا کسی وقت غشی کا طاری ہونا، جیسے کہ مرض الوفات کے زمانہ میں ایسا ہوا یا جیسے غزوۂ احد میں آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے چہرۂ انور پر زخم لگ جانا اور دندانِ مبارک کا شہید ہونا یا جس طرح کہ کسی وقت آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نماز میں سہو پیش آجاتا تو یہ جملہ احوال بمقتضائے بشریت ہیں اور ان کے پیش آنے سے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مقامِ رسالت اور وحیِ الٰہی کے اعتماد میں کسی قسم کا کوئی سقم اور حرج نہیں واقع ہوسکتا اور نہ ہی یہ احوال آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے منصبِ رسالت کے منافی ہیں۔
جادو کی وجہ سے محض اتنی سی بات سے کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کسی کام کے کرلینے کا خیال ہوگیا، حالانکہ نہ کیا ہو‘ قطعاً وحیِ الہی کے اعتماد پر کوئی جرح نہیں کی جاسکتی۔ انبیاء (o) بہرحال جنسِ بشر سے ہیں اور ان پر ایسے احوال و عوارضِ بشریہ کا طاری ہونا شریعت اور احکامِ دین کی حجیت وقطعیت پر کسی طرح بھی اثر انداز نہیں ہوسکتا۔‘‘    (تفسیر معارف القرآن کاندھلویؒ، تفسیر سورۂ فلق، بتلخیص و تغییر یسیر)
 نیز احادیثِ مبارکہ میں سحر سے بچاؤ کی تدابیر اور مسنون اعمال کا منقول ہونااس کی حقیقت کے وجود کی دلیل ہے، لہٰذا اس کے وجود اور حقیقت سے انکار کرنااور اس باب میں تمام مرویات، صحیح احادیث اور تاریخی شواہد کو جھٹلانا اور اس سےانکار کرنا اہلِ سنت والجماعت کے اجتماعی موقف سے اعراض اور روگردانی ہےجو گمراہی اور ضلالت ہے۔اللہ رب العزّت ہم سب کو راہِ ہدایت پر صحیح طریقے سے چلنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین بجاہ سیّدِ الرُسُل و خاتمِ النبیّینﷺ۔

حواشی وحوالہ جات

1- کمافي تفسير روح المعاني:(۱/۴۶۰)، ط:مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ:
’’والسِحر ‌في ‌الأصل مصدر سحر يسحر بفتح العين فيہما إذا أبدی ما يدق ويخفی وہو من المصادر الشاذۃ، ويستعمل بما لطف وخفي سببہ، والمراد بہ أمر غريب يشبہ الخارق وليس بہ إذ يجري فيہ التعلم ويستعان في تحصيلہ بالتقرب إلی الشيطان بارتکاب القبائح، قولًا کالرقی التي فيہا ألفاظ الشرک ومدح الشيطان وتسخيرہ، وعملا کعبادۃ الکواکب، والتزام الجنايۃ وسائر الفسوق، واعتقادًا کاستحسان ما يوجب التقرب إليہ ومحبتہ إياہ وذلک لا يستتب إلا بمن يناسبہ في الشرارۃ وخبث النفس، فإن التناسب شرط التضام والتعاون فکما أن الملائکۃ لا تعاون إلا أخيار الناس المشبہين بہم في المواظبۃ علی العبادۃ والتقرب إلی اللہ تعالٰی بالقول والفعل، کذلک الشياطين لاتعاون إلا الأشرار المشبہين بہم في الخباثۃ والنجاسۃ قولًا وفعلًا واعتقادًا، وبہٰذا يتميز الساحر عن النبي والولي۔‘‘
2-المفردات في غريب القرآن (ص:۲۳۳)،ط:مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ میں ہے:
’’‌والسِّحْرُ ‌يقال ‌علی ‌معان: الأوّل: الخداع وتخييلات لاحقيقۃ لہا، نحو ما يفعلہ المشعبذ بصرف الأبصار عمّا يفعلہ لخفّۃ يد، وما يفعلہ النمّام بقول مزخرف عائق للأسماع، وعلی ذلک قولہ تعالی: ’’سَحَرُوْا اَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْہَبُوْہُمْ‘‘ (الاعراف)، وقال: ’’يُخَیَّلُ اِلَيْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ‘‘ (طہ:۶۶ )ﵖوبہٰذا النّظر سمّوا موسی عليہ السلام سَاحِراً فقالوا: ’’وَقَالُوْا يٰاَيُّہَ السَّاحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ ‘‘ (الزُّخْرُف)‘‘
والثاني: استجلاب معاونۃ الشّيطان بضرب من التّقرّب إليہ، کقولہٖ تعالٰی:
’’ہَلْ اُنَبِّئُکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ ٱلشَّيٰطِيْنُ  تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِيْمٍ ‘‘(الشعراء:۲۲۱-۲۲۲)، وعلٰی ذٰلک قولہ تعالی: ’’وَلٰکِنَّ الشَّيٰطِيْنَ کَفَرُوْا يُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ‘‘ (البقرۃ)
والثالث: ما يذہب إليہ الأغتام، وہو اسم لفعل يزعمون أنہٗ من قوّتہ يغيّر الصور والطبائع، فيجعل الإنسان حمارًا.
3-التفسير الکبير لإمام الفخر الدین الرازي: (۲/ ۲۴۲)، ط:مکتبہ وحیدیہ، پشاور:
’’المسألۃ الرابعۃ: في أقوال المسلمين في أن ہٰذہ الأنواع ہل ہي ممکنۃ أم لا؟ أما المعتزلۃ فقد اتفقوا علی إنکارہا إلا النوع المنسوب إلی التخيل والمنسوب إلٰی إطعام بعض الأدويۃ المبلدۃ والمنسوب إلی التضريب والنميمۃ، فأما الأقسام الخمسۃ، الأول: فقد أنکروہا ولعلہم کفروا من قال بہا وجوزوا وجودہا، وأما أہل السنۃ فقد جوزوا ‌أن ‌يقدر ‌الساحر علی أن يطير في الہواء ويقلب الإنسان حمارًا والحمار إنسانًا، إلا أنہم قالوا: إن اللہ تعالی ہو الخالق لہذہ الأشياء عند ما يقرأ الساحر رقی مخصوصۃ وکلمات معينۃ. فأما أن يکون المؤثر في ذلک الفلک والنجوم فلا. وأما الفلاسفۃ والمنجمون والصابئۃ فقولہم علی ما سلف تقريرہ، واحتج أصحابنا علی فساد قول الصابئۃ أنہ قد ثبت أن العالم محدث فوجب أن يکون موجدہٗ قادرًا والشيء الذي حکم العقل بأنہ مقدور إنما يصح أن يکون مقدورا لکونہ ممکنًا والإمکان قدر مشترک بين کل الممکنات، فإذن کل الممکنات مقدور للہ تعالی ولو وجد شيء من تلک المقدورات بسبب آخر يلزم أن يکون ذلک السبب مزيلًا لتعلق قدرۃ اللہ تعالی بذلک المقدور فيکون الحادث سببًا لعجز اللہ وہو محال، فثبت أنہ يستحيل وقوع شيء من الممکنات إلا بقدرۃ اللہ وعندہ يبطل کل ما قالہ الصابئۃ.‘‘
4-عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري: ۱۹/ ۶۴۶، ط:مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ:
’’باب السحر أي: ہذا باب في بيان السحر وأنہ ثابت محقق، ولہٰذا أکثر البخاري في الاستدلال عليہ بالآيات الدالۃ عليہ. والحديث الصحيح وأکثر الأمم من العرب والروم والہند ‌والعجم ‌بأنہ ‌ثابت وحقيقتہ موجودۃ ولہ تأثير، ولا إستحالۃ في العقل في أن اللہ تعالٰی يخرق العادۃ عند النطق بکلام ملفق أو ترکيب أجسام ونحوہ علی وجہ لا يعرفہ کل أحد، وأما تعريف السحر فہو أمر خارق للعادۃ صادر عن نفس شريرۃ لا يتعذر معارضتہ، وأنکر قوم حقيقتہ وأضافوا ما يقع منہ إلی خيالات باطلۃ لا حقيقۃ لہا، وہو اختيار أبي جعفر الاستراباذي من الشافعيۃ وأبي بکر الرازي من الحنفيۃ وابن حزم الظاہري، والصحيح قول کافۃ العلماء يدل عليہ الکتاب والسنۃ۔‘‘
5- کمافي روح المعاني:۳۰/ ۷۱۸، ط:مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ:
’’وقال القاضي عياض: قد جاءت روايات حديث عائشۃ مبينۃ أن السحر إنما تسلط علی جسدہ الشريف صلی اللہ عليہ وسلم وظواہر جوارحہ لا علی عقلہ عليہ الصلاۃ والسلام وقلبہ واعتقادہ، ويکون معنی ما في بعض الروايات حتی يظن أنہ يأتي أہلہ ولا يأتيہن، وفي بعض أنہ يخيل إليہ أنہ إلخ: أنہ يظہر لہ من نشاطہ ومتقدم عادتہ القدرۃ عليہن، فإذا دنا منہن أخذتہ أخذۃ السحر فلم يأتہن ولم يتمکن من ذلک کما يعتري المسحور، وکل ما جاء في الروايات من أنہ عليہ الصلاۃ والسلام يخيل إليہ فعل شيء ولم يفعلہ ونحوہ فمحمول علی التخيل بالبصر لا لخلل تطرق إلی العقل وليس في ذلک ما يدخل لبسًا علی الرسالۃ ولا طعنًا لأہل الضلالۃ، انتہٰی. 
وبعضہم أنکر أصل السحر ونفی حقيقتہ وأضاف ما يقع منہ إلی خيالات باطلۃ لا حقائق لہا، ومذہب أہل السنۃ وعلماء الأمۃ علی إثباتہ وأن لہ حقيقۃ کحقيقۃ غيرہ من الأشياء لدلالۃ الکتاب والسنۃ علی ذلک.‘‘
وفي أحکام القرآن للتھانوي:۱/ ۴۸،۴۷، ط:مکتبہ تھانوی پاکستان:
وأفاد شیخنا حکیم الأمۃ(متعنا اللہ تعالی بطول حیاتہ)أن تأثر الأنبیاء بالسحر ثابت في حق موسیٰؑ بنص القرآن، حیث قال: ’’يُخَيَّلُ إِلَيْہِ مِن سِحْرِہِمْ ‘‘(طہ) أي إلی موسیٰ وقال تعالیٰ: ’’فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِہٖ خِيْفَۃً مُّوْسٰی ‘‘ (طہ)   فالظاھر أنہ ظنھا حیات، فخاف منھا علی نفسہ أو علی أمتہ.
وبالجملۃ لم یقم دلیل عقلي و لا سمعي علی امتناع تأثر الأنبیاعلیھم السلام بہ مطلقًا؛ بل قد وردت الأحادیث الصحیحۃ بثبوتہ في الجملۃ، و ھو ظاھرالقرآن، نعم: لایجوز تأثرھم بہ فیمایتعلق بالتشریع والتبلیغ، فیجوز فیہ تأثرھم بہ،ولکنہ لا یروج علیھم ولایثبت، بل یکشفہ اللہ تعالیٰ عنھم بوحیہ، ولیس في ذلک مایسمّ شأن النبوّۃ بسمۃ نقص؛ کما لایسمّہ عروض النسیان والخطأ في الاجتھاد وأمثالھا من العوراض لہم. ھٰذا ھو التحقیق في ھذا الباب، واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب۔
و في صحیح البخاري(باب السحر): ۴/ ۲ ۲۵۹۳،۲۵۹، ط:مکتبۃ البشریٰ:
’’حدثنا إبراہيم بن موسی: أخبرنا عيسی بن يونس، عن ہشام، عن أبيہ، عن عائشۃ رضي اللہ عنہا قالت: ’’سحر رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم ‌رجل ‌من ‌بني ‌زريق يقال لہ لبيد بن الأعصم، حتی کان رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم يخيل إليہ أنہ يفعل الشيء وما فعلہ، حتی إذا کان ذات يوم أو ذات ليلۃ وہو عندي، لکنہ دعا ودعا، ثم قال: يا عائشۃ، أشعرت أن اللہ أفتاني فيما استفتيتہ فيہ أتاني رجلان فقعد أحدہما عند رأسي والآخر عند رجلي، فقال أحدہما لصاحبہ: ما وجع الرجل، فقال: مطبوب، قال: من طبہ؟ قال: لبيد بن الأعصم، قال: في أي شيء؟ قال: في مشط ومشاطۃ وجف طلع نخلۃ ذکر، قال: وأين ہو؟ قال: في بئر ذروان فأتاہا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم في ناس من أصحابہ، فجاء، فقال: يا عائشۃ کأن ماءہا نقاعۃ الحناء، أو کأن رؤوس نخلہا رؤوس الشياطين، قلت: يا رسول اللہ! أفلا أستخرجہ، قال: قد عافاني اللہ، فکرہت أن أثور علی الناس فيہ شرا، فأمر بہا فدفنت۔‘‘

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے