
آن لائن کاروبار میں سونے اور دیگر اشیاء پر کاروبار کرنا شرعاً کیسا ہے؟
واضح رہے کہ نقدی یا سونے چاندی کے بدلے سونا یا چاندی کی خرید وفروخت کےلیے بنیادی شرط یہ ہے کہ دونوں طرف سے ایک ہی مجلس میں ثمن اور مبیع (سونا/ چاندی اور اس کی قیمت) کا تبادلہ ہاتھ در ہاتھ ہوجائے، ورنہ وہ خرید وفروخت سود بن کر ناجائز ہو جائے گی، جبکہ آن لائن کاروبار میں سونا چاندی کی خریدار اور فروخت کنندہ دونوں ایک مجلس میں جمع نہیں ہوتے، اور نہ ہی بدلین (سونا/ چاندی اور ان کی قیمت) کا تبادلہ ایک مجلس میں ہوتا ہے۔
لہٰذا سونا چاندی کی آن لائن خرید وفروخت جائز نہیں ہے۔
البتہ دیگر اشیاء کی خریداری یا فروختگی کے معاملہ میں کوئی اور شرعی خرابی (مثلاً فروختگی کے وقت فروخت کی جانے والی چیز کا فروخت کنندہ کی ملکیت میں نہ ہو، جو چیز فروخت کریں اس پر اپنا قبضہ نہ ہو، یا خریدار کے قبضہ میں دینا ممکن نہ ہو، قسط وار فروختگی میں ادائیگی کی مدت متعین نہ ہو وغیرہ)نہ پائی جارہی ہو تو (سونے چاندی کے علاوہ چیزوں کی) آن لائن خرید وفروخت کی جاسکتی ہے۔
ملاحظہ:۔یہ صورت اور حکم عام کاروبار سے متعلق ہے، ہر آن لائن کاروبار کا یہ حکم نہیں ہے، کیونکہ آج کل آن لائن کاروبار کی بہت ساری جدید شکلیں وجود میں آچکی ہیں جن میں جائز وناجائز ہر قسم کی صورتیں موجود ہیں، اس لیے سائل جس طریقہ پر کاروبار کرنا چاہتا ہے اس کی صورت پوری تفصیل سے لکھ کر دوبارہ معلوم کرلے تو بہتر رہے گا۔
الدر المختار میں ہے:
"(هو) لغة الزيادة. وشرعا (بيع الثمن بالثمن) أي ما خلق للثمنية ومنه المصوغ (جنسا بجنس أو بغير جنس) كذهب بفضة (ويشترط) عدم التأجيل والخيار و (التماثل) أي التساوي وزنا (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلية (قبل الافتراق) وهو شرط بقائه صحيحا على الصحيح (إن اتحد جنسا وإن) وصلية (اختلفا جودة وصياغة) لما مر في الربا (وإلا) بأن لم يتجانسا (شرط التقابض) لحرمة النساء (فلو باع) النقدين (أحدهما بالآخر جزافا أو بفضل وتقابضا فيه) أي المجلس (صح، و) العوضان (لا يتعينان) حتى لو استقرضا فأديا قبل افتراقهما أو أمسكا ما أشار إليه في العقد وأديا مثلهما جاز.
(ويفسد) الصرف (بخيار الشرط والأجل) لإخلالهما بالقبض (ويصح مع إسقاطهما في المجلس) لزوال المانع وصح خيار رؤية وعيب في مصوغ لا نقد.
(قوله: ويصح مع إسقاطهما في المجلس) هكذا في الفتح وغيره، والظاهر أن المراد إسقاطهما بنقد البدلين في المجلس لا بقولهما أسقطنا الخيار والأجل، إذ بدون نقد لا يكفي وأنه لا يلزم الجمع بين الفعل والقول، ثم رأيت في القهستاني قال: فلو تفرقا من غير تقابض أو من أجل أو شرط خيار فسد البيع، ولو تقابضا في الصور قبل التفرق انقلب صحيحا اهـ. ونحوه في التتارخانية فافهم."
(كتاب البيوع، باب الصرف، ج:5، ص:257، ط:سعيد)
فقط والله أعلم
fatwa_number : 144607102904
darulifta : Jamia Uloom Islamiyyah Allama Muhammad Yousuf Banuri Town