بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

darulifta

 

اہل تشیع کے ساتھ معاملات


question

 میں اسٹیٹ ایجنسی کا کام کرتا ہوں، میرے پاس لوگ کرائے اور جائیداد کی خرید و فروخت کے لیے آتے ہیں، ان میں اہلِ تشیع اور بوہری فرقے والے بھی شامل ہیں، کیا بوہری اور اہلِ تشیع سے بزنس ڈیل ہو سکتی ہے؟

answer

اہلِ تشیع اور بوہری (جو اہلِ تشیع ہی کی ایک شاخ ہے) فرقے والوں کے ساتھ معاملات کرنے میں فی نفسہ  حرج نہیں۔ تاہم اگر کوئی خارجی  چیز مانع  ہو مثلاً اپنے عقائد بگڑنے کا اندیشہ ہو تو پھر ان کے ساتھ  معاملات سے اجتناب بہتر ہے۔

البتہ قادیانیوں کے ساتھ معاملات کرنا شرعاً جائز نہیں ہے؛ چوں کہ  قادیانی  شرعی اَحکام کی رو سے زندیق کے حکم میں اور ملکی آئین کی رو سےغیرمسلم ہیں، لیکن خود کو مسلمان کہنے کے ساتھ ساتھ اپنے علاوہ سب مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں؛ اس بنا پر ان کے ساتھ کاروباری معاملات  کرنا ناجائز اور حرام  ہے۔ فقط واللہ اعلم


fatwa_number : 144203201524

darulifta : Jamia Uloom Islamiyyah Allama Muhammad Yousuf Banuri Town



search

ask_question

required_question_if_not_exists_then_click

ask_question