
اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تغیر ہے،کبھی فضا میں خنکی بڑھ جانے سے موسم سرد ہو جاتا ہے تو کبھی لو چلنے سے حدت پیدا ہو جاتی ہے،کبھی بہاروں کی رت درختوں کو سرسبز پوشاک سے آراستہ کرتی ہے تو کبھی خزائیں ڈیرے ڈال کر اُن سے یہ رونقیں چھین لیتی ہیں۔ یہ سب خالقِ حقیقی کی خوبصورت تخلیق کے دلفریب مناظر اور اس کی کمالِ صنعت کے مظاہر ہیں، جو یہ اعلان کررہے ہیں کہ کوئی ایسی ہستی ہے جو نظامِ کائنات کی منظم اور گردشِ ایام کی محرک ہے۔
اس وقت موسمِ گرما ہم پر سایہ افگن ہے، سورج کی حدت سے فضا میں ردو بدل کی صدیوں پرانی فطری اور تکوینی روایت جاری ہے۔ اس موسم میں خود کو آفتاب کی تپش سے بچانا،گھر سے باہر سر ڈھانپ کر نکلنا اور ہیٹ ویو سے بچاؤ کے تمام تر ممکنہ اقدامات کرناصرف انسان کی طبعی ضرورت ہی نہیں،بلکہ ایک اہم دینی تقاضا اور شرعی حکم ہے۔قرآن و سنت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ گرمی کی تپش سے بچنے کے لیے کسی درخت یا عمارت کے سائے میں بیٹھنا اور آرام کرنا چاہیے، بلا وجہ دھوپ میں کھڑا ہونا ایک نا مناسب طریقہ اور خود کو سزا دینے کے مترادف ہے۔ قرآنِ کریم میںحضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں مذکور ہے کہ جب وہ مصر سے سفر کرتے ہوئے مدین پہنچے تو کنویں کے قریب موجود ایک درخت کے سائے میں پناہ لی، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’ثُمَّ تَوَلّٰٓی اِلَی الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ ‘‘ (القصص: ۲۴) کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سائے کی طرف پناہ پکڑی تو عرض کیا: اے میرے رب!تو نے جو مجھے یہاں (مدین میں) اُتارا ہے،میں خیر کا طلبگار ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی یہی تھا کہ دورانِ سفر کچھ دیر کے لیے رُکنا پڑتا تو سائے والی جگہ کا انتخاب فرماتے ۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت ہمارے گھر تشریف لائے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت یہ تھی: ’’مقنعاً رأسہٗ‘‘ کہ اپنے سر مبارک کو کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا۔ قرآنِ کریم میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’لَا تَظْلِمُوْا فِیْہِنَّ اَنْفُسَکُمْ‘‘یعنی ’’ان (مخصوص ماہ) میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔‘‘ (سورۂ توبہ) اس آیت کی رو سے جہاں اپنی جان کے اوپر ہر قسم کی زیادتی حرام قرار دی گئی ہے، وہیں اس کے عموم میںگرمی کی حرارت سے خود کو اذیت میں مبتلا کرنا بھی شامل ہوگا۔ حضرت قیس بن حازم رضی اللہ عنہ اپنے والدکے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ وہ دھوپ میں بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ لیا تو فرمایا: سائے میں آجاؤ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے درخت کے نیچے پیشاب پاخانہ کرنے سے منع فرمایا ہے جہاں لوگ سایہ حاصل کرنے لیے رکتے ہوں، اور اس غیرمہذب عمل کو موجبِ لعنت قرار دیا ہے۔ (مسند احمدؒ)
اسی طرح جو کام ہیٹ ویوکے تدارک کاسبب بنے اس کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے،چنانچہ درخت ہیٹ ویو میں کمی کا باعث بنتے ہیں،اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت لگانے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس مسلمان نے کوئی درخت لگایا اور اس کا پھل آدمیوں اور جانوروں نے کھایاتو اس درخت لگانے والے کے لیے صدقے کا ثواب ہے۔ (مجمع الزوائد)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ہی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور ارشاد ہے: ’’سات اعمال ایسے ہیں جن کا ثواب آدمی کو مرنے کے بعد بھی پہنچتا رہتا ہے،حالانکہ وہ قبر میں ہوتا ہے،ان میں سے ایک درخت لگانا ہے۔‘‘ (صحیح الجامع الصغیر)
ہیٹ ویو کے مضر اثرات سے بچنے کا ایک اہم ذریعہ ٹھنڈے اور صاف پانی کا استعمال ہے۔ گرمی سے بے حال لوگوں کے ٹھنڈے پانی کا انتظام کرنا خواہ وہ کولر بھر کر رکھنے کی صورت میں ہو یا پانی کی ٹینکی لگوانے کی صورت میں ہو،انتہائی مبارک عمل اورخدمتِ انسانیت کی اعلیٰ مثال ہے،یہ وہ صدقہ جایہ ہے جس کا ثواب مرنے کے بعد بھی پہنچتا رہتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’’جو کسی مسلمان کو بھوک کی حالت میں کھانا کھلائے اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے میوے کھلائے گا،جو کسی مسلمان کو پیاس کی حالت میں پانی پلائے گا اللہ اس کو نہایت نفیس شرابِ طہور پلائے گا جس پر غیبی مہر لگی ہو گی اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے گا اللہ اس کو جنت کے سبز جوڑے پہنائے گا۔‘‘ (سنن ابی داؤد)
گرمی کے موسم میں دھوپ سے بچنا کتنا ضروری ہے،اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ نماز جیسی عبادت جسے اول وقت میں پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے،اس کو مؤخر کرنے کا حکم دیا گیا ہے،چنانچہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں نمازِ ظہر کو زوال کے فوراً بعد ادا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اتنی تاخیر سے پڑھنا چاہیے کہ گرمی کی حدت میں قدرے کمی واقع ہو جائے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب سخت گرمی پڑے تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھو۔آگے اس کی وجہ بتاتے ہوئے فرمایا: گرمی کی شدت جہنم کے سانس لینے کی وجہ سے آتی ہے(اور جہنم نے اس لیے سانس لیا کہ ایک دفعہ)آگ نے اپنے رب سے شکایت کرتے ہوئے کہا: اے میرے رب! (گھٹن کی وجہ سے) میرا بعض حصہ بعض حصے کو کھا رہا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کو دو سانس لینے کی اجازت دی،ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں۔‘‘ (بخاری مسلم)
شریعت ِ مطہرہ میں جانوروں کے حقوق کا خیال رکھنے پر بڑا زور دیا گیا ہے،لہٰذا جس طرح ہم اپنی ذات کے لیے گرمی سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہیں، اسی طرح جانوروں کوبھی سائے میں باندھنے کا اہتمام کرنا ضروری ہے، لہٰذا ان جانوروں کا یہ حق ہے کہ اگر مالک ان سے کام لیتا ہے تو ان کی بھوک پیاس اور دھوپ چھاؤں کا بھی خیال کرے، خدانخواستہ ان کی ضروریات کا خیال نہ کیا تو قیامت کے دن جس طرح انسانوں کے حقوق کا حساب دینا پڑے گا، اسی طرح جانوروں کے بارے میں کی گئی حق تلفی پر جوابدہ ہونا پڑے گا۔