بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

گوہرِ نایاب مفتی محمد حنیف عبدالمجید  رحمۃ اللہ علیہ 

گوہرِ نایاب

مفتی محمد حنیف عبدالمجید  رحمۃ اللہ علیہ 

 

کچھ شخصیات محض افراد نہیں، بلکہ مکمل تاریخ ہوتی ہیں، جن کے جانے سے دل بوجھل اور زبان گنگ ہوجاتی ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد حنیف عبد المجید  رحمۃ اللہ علیہ  بھی ان عظیم شخصیات میں سے تھے، جن کے انتقال پُر ملال سے ایسا لگتا ہے جیسے ایک شخص نہیں، ایک عہد رخصت ہوگیا ہے۔ وقت شاید زخم بھردے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت مفتی صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  کے بعد محفل ویران اوردل خالی ہوگیا ہے۔ 
حضرت مفتی صاحب ؒ کی شخصیت تعلیمی و تربیتی کام کرنے والوں کے لیے حکمت کا خزانہ تھی۔ ہر لمحہ، ہر ملاقات میں علم بانٹنے والے انسان تھے، جب بولتے تو الفاظ نہیں بلکہ تجربات بولتے تھے، اس لیے کہ ان کی اپنی زندگی عمل سے روشن تھی۔ کسی کی رہ نمائی کرتے تو پہلے اس کے دل میں جگہ بناتے، پھر بڑی حکمت سے اس کے ذہن میں فکر اور احساس کا چراغ جلادیتے۔ الغرض مفتی صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنی پوری زندگی پاکستان بھر میں اصلاحِ امت، قیادت و افراد سازی کی مسلسل جدوجہد میں قیمتی بنائی۔ مفتی صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  کی شخصیت‘ خلوص اور تقویٰ کا ایسا گوہر نایاب تھی جس کی مثال کم ملتی ہے۔ 
اللہ تعالیٰ نے حضرت مفتی صاحب ؒ پر خاص فضل فرمایا کہ اس جُہدِ مسلسل اور محنت کا ثمرہ ان کی زندگی ہی میں مدارس ومساجد، مکاتب ِقرآنیہ، تعلیمِ بالغان و بالغات کے حلقوں اور اسلامک اسکولزکے قیام کی صورت میں دکھایا۔ ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَاءُ۔
اب قابلِ غور بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مفتی صاحب ؒ کو ایسی کون سی صفات اور فکر عطا فرمائی تھی کہ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال رہتی تھی، وقت میں برکت اور کاموںمیں قبولیت تھی؟! ہم سب بھی ان صفات کو پڑھ کر اپنی زندگی میں لانے کی فکر کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ ہمارے وقت اور کاموں میں بھی برکت ہوگی۔ 

1- نماز سے متعلق فکر 

مفتی صاحب ؒ زندگی بھر نہ صرف صاحب ِ ترتیب رہے، بلکہ اکثر صفِ اول اورتکبیر اُولیٰ کا خاص اہتمام فرماتے تھے، سفر ہو یا حضر، بیماری ہو یا کوئی بھی مصروفیت، نماز تعدیلِ ارکان کے ساتھ ادا فرماتے تھے۔ 
اندازہ لگائیے کہ انتقال سے ایک ماہ قبل جب کہ بیماری کی شدت تھی اور قیام کرنا بھی مشکل ہوگیا تھا، بندہ نے دیکھا کہ مفتی صاحب ؒ نے ظہر کی چار رکعت سنت تقریباًبارہ منٹ میں ادا فرمائی، یقیناً یہ وہی شخص کرسکتا ہے جسے نماز میں لطف محسوس ہوتا ہو۔ 
نوجوانی ہی سے تہجد اور رو رو کر لمبی دعائیں مانگنے کا اہتمام فرماتے تھے، جس کا مشاہدہ حضرت مفتی صاحب ؒ کے ساتھ اسفار میں بارہا کیا۔ مرض الوفا ت میں بھی تہجد کی پابندی فرمائی، مسجد جانے کی طاقت نہ رہی تو بستر پر ہی جماعت سے نما ز ادا فرماتے رہے۔ جب اشارے سے نماز پڑھنا بھی ممکن نہ ہوا تو کان میں نماز کے کلمات کہلوائے اور قرار آیا۔ 
آخری ایام میں ایک ساتھی نے نماز پڑھائی تو ادائیگی میں کچھ جلدی کی۔ نماز سے فارغ ہوتے ہی مفتی صاحب ؒ نے شفقتاً فرمایا کہ جلدی نماز نہ پڑھائیں۔ نماز پڑھانے والے نے تاویلاً کہا کہ آپ کو سہولت ہو اس وجہ سے جلدی کی، مفتی صاحب ؒ نے فرمایا کہ قیام مختصر کرلیں، لیکن رکوع اور سجدہ اطمینان سے ہو۔ 
مفتی صاحب ؒ اپنے متعلقین کو بھی بارہا تاکید فرماتے کہ نماز کو سنت کے مطابق، تعدیلِ ارکان کے ساتھ پڑھنے سےہمارے مسائل حل ہوں گے۔ جتنا بھی اہم مشورہ یا کام ہو اذان کی آواز کانوں میں پڑتےہی مجلس برخاست فرماتے اور حاضرین کو تاکید فرماتے کہ صفِ اول کی فکر فرمالیں۔ جو ساتھی صفِ اول سے رہ جاتے ان سے مذاکرہ کرتے ہوئے فرماتے کہ ہمارے کام تب ہی آسان ہوں گے جب ہم اہتمام سے نماز ادا کریں گے۔ کسی ذمہ دار یا استاذ کو نماز جلدی جلدی پڑھتے دیکھتے تو انفرادی بلاکر بڑی فکر سے سمجھاتے، قومہ اور جلسہ کی مسنون دعائیں خود یاد کرواتے۔ نماز سے متعلق مسنون دعاؤں کا کارڈ دیتے اور فرماتے کہ ترجمہ کے ساتھ دعائیں یاد کرلیں۔ قومہ اور جلسہ میں مسنون دعائیں مانگنے سے بہت فائدہ ہوگا۔ 
کراچی بھر میں اپنی زیر نگرانی قائم اداروں میں موجودقیام کرنے والے چوکیدار وں او رخدام کی نمازوں کی بھی بہت فکر فرماتے، اکثر فجر کی نماز کسی بھی شاخ کی قریبی مسجد میں ادا فرماتے اور دیکھتے کہ شاخ کا چوکیدار نمازِ فجر میں موجود ہے یا نہیں؟موجود نہ ہونےکی صورت میں شاخ کے ذمہ دار کو فکر مند فرماتے کہ چوکیداروں اور خدام کی نماز کی فکر فرمائیں، ادارے کا کوئی بھی شخص بے نمازی نہ ہو۔ دردِدل والا ہی یہ فکر اور محنت کرسکتاہے۔ 
اسی طرح جو طلبہ و طالبا ت شاخوں میں زیرِ تعلیم ہیں، انتظامیہ کے ذریعے ان کے لیے مستقل نظم بنوایا کہ اگر کسی بچے نے نمازِ فجر ادا نہیں کی تو صبح آتے ہی قضاء نماز پڑھ لے، پھر درس گاہ میں جائے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے کئی طلبہ و طالبات بر وقت نمازِ فجر پڑھنے کے عادی ہوگئے۔ 

2- قرآنِ کریم کوتجوید کے ساتھ پڑھنے کی فکر

مفتی صاحب ؒ کی ایک فکر یہ تھی کہ خواص و عوام قرآ ن کریم کو تجوید کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرنے والے بن جائیں۔ جو علماء و قرائے کرام ادارے میں تعلیمِ قرآن کے لیے تشریف لاتے ان سے گزارش کرتے کہ تدریس کے ساتھ ساتھ کسی ماہر مجوّد و مُقری کو اپنا قرآن کریم سنائیں، تاکہ معلوم ہوجائے کہ بچپن کا پڑھا ہوا قرآن دوسروں کو پڑھانے کے لیے کافی ہے یا نہیں؟ فنِ تجوید طلبہ میں منتقل کرنا آتا ہے یا نہیں؟
قرآن کریم کی تعلیم میں بعض اوقات ایسا دیکھا جاتا ہے کہ پڑھانے والے کو خود سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے یا پڑھانے والا خود بہت اچھا پڑھتا ہے، لیکن فن منتقل کرنا نہیں جانتا۔ اسی فکر کے پیشِ نظر مفتی صاحب ؒ نے کراچی کے اکابر مقرئین ومجودین سے گزارش کرکے شہر بھر کے مختلف مقامات پر تجویدی حلقوں کا قیام عمل میں لایا۔ ان حلقوں میں سیکڑوں کی تعداد میں اساتذہ کرام نے نورانی قاعدہ پڑھانا اورفن تجوید کی تدریس سیکھی۔ ایک بڑی تعداد نے ان حلقوں میں مکمل قرآن کریم بھی سنایا۔ اس محنت اور فکرکا اثر اساتذ ہ کرام کی درس گاہوں میں بھی نظر آنے لگا کہ جہاں طلبہ کی تجوید قابل توجہ تھی، وہاں طلبہ کی قراءت معیاری ہونے لگی۔ آج الحمدللہ ملک بھر میں ایسے حلقے قائم ہوگئے ہیں جہاں اساتذہ کرام ماہرینِ فن سے استفادہ فرماتے ہیں۔ 
مفتی صاحب ؒ کی ایک فکر یہ بھی تھی کہ درسِ نظامی کے طلبہ کرام تجوید سے قرآن کریم پڑھنا سیکھ لیں اور جو حفاظ ہیں انھیں قرآن کریم یاد کرنے کا کوئی باعث مل جائے۔ الحمد للہ مدرسہ بیت العلم میں مخصوص نظم کے تحت اولیٰ تا دورہ حدیث قرآن کریم کا مستقل سبق ہے، جس میں روزانہ فن کے ماہرین تشریف لاتے ہیں اور طلبہ کرام کو مشق کراتے ہیں۔ اس اقدام سے دو فائدے محسوس ہوئے: ایک فائدہ تو یہ کہ بہت سے طلبہ کرام کو شوق ہوا کہ قرآن کریم کو تجوید کے ساتھ عمدہ لہجے میں پڑھنا ہے۔ دوسرا فائدہ یہ کہ اس نظم سے درسِ نظامی کے حفاظ طلبہ کرام کے ضبط کا معیار برقرار رہے۔ سال بھر میں درسِ نظامی کے طلبہ کے مابین ’’حُسنِ قراءت و ضبط‘‘ کے عنوان سے دو مسابقوں کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے، جس میں طلبہ کرام کا ذوق و شوق دیدنی ہوتا ہے۔ 
مفتی صاحب ؒ فکر مند رہتے تھے کہ اسکولوں میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات بھی تجوید کے ساتھ قرآن کریم پڑھنا سیکھ لیں، اس لیے اپنی زیر نگرانی البدر اسکول کی تمام شاخوں میں مونٹیسوری سے میٹرک تک تعلیمِ قرآن کریم کو بطور نصاب شامل فرمایا، روزانہ کی بنیاد پر کچھ وقت قرآن کریم کے لیے مختص ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے سینکڑوں طلبہ و طالبات نے عصری تعلیم کے دوران اسکول ہی میں ناظرہ قرآن کریم تجوید کے ساتھ مکمل کرلیا۔ یہ عمل دیگر اداروں کے لیے قابلِ تقلید ہے۔ اسی طرح ادارے کے خدام، چوکیدار اور ڈرائیور حضرات کے لیے بھی باقاعدہ نظم بنوایا کہ قرآن کریم تجوید کے ساتھ سیکھ لیں۔ علمائے کرام کی ایک جماعت کو اس کام کے لیے مقرر فرمایا۔ 
مفتی صاحب ؒ      تعظیم و تحسینِ قرآن کی بہت رعایت رکھتے تھے۔ قرآن کریم کے نسخے پر مٹی دیکھتے یا جلد خراب نظر آتی تو شاخ کے ذمہ داران کو فکر مند فرماتے کہ قرآن کریم سے غفلت برتنے سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور پکڑ کا خطرہ ہے۔ مذاکرے کے بعد خودہی کسی جلد ساز کی طرف رہ نمائی فرماتے کہ فلاں سے رابطہ کرکے قرآن کریم کی جِلد کروائیں اور بعض اوقات خود ہی گرد صاف فرمالیتے۔ 
اپنی زیرِنگرانی حفظ کی شاخوں میں تعلیمی کلینڈر میں ’’تحسینِ مصحف‘‘ کے عنوان سے ایک سرگرمی رکھوائی، تاکہ بچوں کے دلوں میں بچپن ہی سے قرآن کریم کی عظمت پیدا ہو۔ الحمدللہ اس سرگرمی میں طلبہ و طالبات بہت شوق سے حصہ لیتے۔ آج بھی اکثر طلبہ وطالبات کے مصاحف سفید کور اور عمدہ جلد میں نظر آتے ہیں جو مفتی صاحبؒ کی تعلیم وتربیت کا مظہر ہے۔ 

3-جماعت وافرا د سازی کا ملکہ 

اللہ تعالیٰ نے حضرت مفتی صاحبؒ   کو جماعت و افراد سازی میں خا ص مہارت و ملکہ عطا فرمایا تھا۔ کوئی بھی شخص سیکھنے کے جذبے سے آتا تو مفتی صاحب ؒ کوشش فرماتے کہ آنے والا کچھ سیکھ کر جائےاور تعلیم و تربیت کے میدان میں خوب محنت کرے۔ 
بنیادی طورپرمفتی صاحبؒ کام سیکھنے والے کی فکر کو بڑھاتے، محنت کا عادی بناتےاور تلقین فرماتے کہ ہر لمحہ کو قیمتی بنایا جائے۔ مفتی صاحبؒ کی صحبت میں رہ کر جن علمائے کرام نے اپنی شخصیت کو فکر، محنت اور وقت کو قیمتی بنانے جیسی صفات سے آراستہ کیا، ان سے اللہ تعالیٰ نے خوب کام لیا۔ کراچی ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں ایسے علمائے کرام کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے خوب واقف ہے۔ 
مفتی صاحبؒ اکثر فرماتے کہ ہم کتنے ادارے کھول سکتے ہیں؟ کام کا میدان بہت بڑا ہے۔ یہ کوشش کرلیتے ہیں کہ جو ادارے کھلے ہوئے ہیں ان کے ذمہ داران کو اپنی فکر میں شامل کرلیتے ہیں۔ دیگر اداروں میں زیرِ تعلیم بچے ہمارے ہی ہیں۔ 
اسی مقصد کو لے کر گزشتہ بیس سالوں سے مفتی صاحبؒ اپنے رفقاء سمیت ملک بھر میں سفر فرماتے رہے۔ اداروں کے ذمہ داران سے ملاقات فرماتے اور ان کی ذہن سازی فرماتے تھے کہ تعلیم وتربیت دونوں میں جوڑ پیدا کرنا ہے، دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ عصری اداروں میں علماء کی تقرری پر آمادہ فرماتے۔ الحمدللہ کئی اداروں کے ذمہ داران نے تعلیم کے ساتھ تربیت کو بھی ذمہ داری سمجھا، علمائے کرام کا تقرر کیا اور اداروں کو مزید معیاری بنانے کی نیت کی۔ 
نتیجہ یہ ہوا کہ کئی عصری اداروں میں گرلز وبوائز کیمپس الگ ہوگئے، ہفتہ واری تربیتی بیانات شروع ہوگئے، ظہر کی نماز اسکول ہی میں جماعت سے پڑھوائی جانے لگی، اسکول میں موجود علمائے کرام کے ذریعے والدین کی دینی تربیت کی جانے لگی۔ اللہ تعالیٰ مفتی صاحبؒ کی بال بال مغفرت فرمائے، آمین!
مفتی صاحبؒ کی ایک فکر یہ بھی تھی کہ علمائے کرام عملی زندگی میں آنے کے بعد بھی سیکھتے رہیں۔ اس کے لیے ادارے کے جن علمائے کرام نے میٹرک نہ کیا ہوتا اُنھیں میٹرک کرواتے، لینگویج کورسز کرواتے، بی ایڈ اور ایم ایڈ کرواتے، یہاں تک کہ اگر کسی ساتھی میں ایل ایل بی کا شوق دیکھا تو اس کا بھی بھر پور موقع دیا۔ اس کے لیے تعاون کی باقاعدہ پالیسی بھی بنائی، تاکہ علمائے کرام یک سوئی سے مزید تعلیم جاری رکھ سکیں۔ ہم نے دیکھاکہ بعض ساتھیوں نے مفتی صاحبؒ کی ترغیب سے ہمت کی اور آج وہ ایم ایڈ کرنے کے بعد پرنسپل جیسی اہم ذمہ داری بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ 
افراد سازی کےساتھ مفتی صاحبؒ کی خاص صلاحیت جماعت سازی کی بھی تھی۔ عام طور پر کسی بھی کام کی منصوبہ بندی کے بعد اہم فکر یہ ہوتی ہے کہ کام کرے گا کون؟ افراد مل جائیں تو اگلی فکر یہ ہوتی ہے کہ ان میں کڑھن کیسے پیدا ہوگی ؟کڑھن ہو تو مستقل مزاجی اور آپس کا جوڑ کیسے ہوگا؟
اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے مفتی صاحبؒ میں ایسا کمال تھا کہ وہ تعلیم وتربیت سے متعلق کسی بھی کام کا آغاز اور افراد کا انتخاب اللہ تعالیٰ سے بار بار مانگنے کے بعد فرماتے تھے، پھر ان افراد پر اور بالواسطہ ان کے اہل خانہ پر ایسی محنت فرماتے کہ دین کے کام کی اہمیت و محبت کام کرنے والوں کے دلوں میں ایسی بستی کہ ملازمت کی سوچ ہی ختم ہوجاتی تھی۔ 
عجز وانکساری سے متعلق ایسی تربیت فرماتے کہ ہر ایک اپنے کو دوسرے کا معاون سمجھتا۔ کسی ساتھی میں ’’انا‘‘کا ادنیٰ سا شائبہ بھی نظر آتا تو فورا ً تربیت کی فکر فرماتے۔ یہی وجہ ہے کہ کام کرنے والوں میں جوڑ نظر آتا ہے۔ ماشاء اللہ لا قوۃ إلا باللہ!

4-شہرت و اسبابِ شہرت سے کنارہ کش
 

مفتی صاحبؒ نے پوری زندگی سادگی سے گزاری، ہٹو بچو کے شور کو پسند نہیں فرماتے تھے، القابات اور تعریف پر ناگواری اور خفگی کا اظہار فرماتےتھے۔ ایک مرتبہ اپنے ہی ادارے میں تقریبِ ختم بخاری کے دوران ڈائس پر موجود ساتھی نے اختتامی بیان کے لیے مدعو کرتے ہوئے آپ کو ’’مہتمم‘‘کہا تو ناراض ہوئے اور تنہائی میں بلاکر تنبیہ فرمائی کہ آئندہ اس طرح نہ کہیں، مجمع تو بات سننے آیا ہے اس کے بغیر بھی سن لے گا۔ متعلقین جانتے ہیں کہ زندگی کا اکثر حصہ عام سی گاڑی میں سفر کرتے ہوئے گزاردیا، جس میں اے -سی بھی نہیں چلتاتھا۔ کچھ احباب نے بارہا گزارش کی کہ گاڑی تبدیل کرلیں، لیکن سن کر خاموش رہتے اور کام کی طرف توجہ دلاتے۔ 
سفرِحج میں دیکھا کہ کمزوروں اور بوڑھوں کا سامان خود اُٹھالیتے، قدم بہ قدم ساتھیوں کی رہ نمائی فرماتے۔ منیٰ میں ایک رات آرام کے لیے تشریف لائے تو خیمہ بھرا پڑا تھا، مفتی صاحبؒ نے لوگوں کو پھلانگنا مناسب نہ سمجھا اور باہر کھلے آسمان تلے ہی آرام فرمایا۔ 
تبلیغی اجتماعات میں بھی کوشش فرماتے کہ عوام کے ساتھ ہی بیٹھ کر بات سنیں۔ اسٹیج یا خواص کے حلقوں میں قیام کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ خواص کے حلقے میں کسی بزرگ سے استفادے کی نیت سے تشریف لے جاتے تو آرام کے لیے واپس نکل آتے تھے۔ 
ملک بھر میں قائم مکاتب کے جوڑ میں علمائے کرام کے مجمع سے بیان کے لیے جانا ہوتا تو تعارف کروائے بغیر ہی بیان شروع فرمادیتے اور یہ نوبت ہی نہ آنے دیتے کہ کوئی ان کا تعارف کروائے اور دعوتِ خطاب دے۔ کہیں کیمرہ دیکھتے تو گزارش کرتے کہ اسے بند کردیں۔ پھر فرماتے کہ ہم یہاں جس مقصد کے لیے جمع ہوئے ہیں اس کی طرف آجائیں۔ نیز یہ تاکید فرماتے کہ کوئی خیر کی بات مل جائےتو اسے نوٹ کرکے آگے نقل فرمادیں۔ 
ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ جب کسی مقصد یا اہم کام کے پورا ہونےاور اداروں میں تعلیم و تربیت کا ماحول نظرآنےپرکوئی تعریف کرنے لگتا تو مفتی صاحبؒ فرماتے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے، یا یوں فرماتے کہ ساتھیوں نے اس کی فکر فرمائی محنت فرمائی۔ اپنی قربانی اور محنت کاذکر کبھی ان کی زبان سے نہیں سنا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین!

5-غیبت کرنی ہے نہ سننی ہے 

حضرت مفتی صاحبؒ غیبت کرنے اور سننے سے اجتناب فرماتے تھے۔ اسی طرح متعلقین اور علمائے کرام کو بھی بار بار تلقین فرماتے کہ غیبت کرنی ہے نہ سننی ہے۔ اکثر فرماتے کہ جن اداروں میں غیبت کا ماحول ہوتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی مدد ساتھ نہیں ہوتی، لوگوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ ایک مرتبہ کسی جگہ تعزیت کے لیے تشریف لے گئے، کچھ لوگ کسی سرکاری محکمے کی برائی کرنے لگے تو مفتی صاحبؒ نے تمام حاضرین کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس محکمے میں بہت سے اچھے لوگ بھی ہیں، آپ نےتو سب ہی کی غیبت کردی۔ پھر خوب ذہن سازی فرمائی کہ غیبت اور ناشکری سے بچنا ہے۔ 
بیماری کے ایام میں جب بہت زیادہ نقاہت اور درد کی کیفیت تھی، آنکھیں بھی بمشکل کھول سکتے تھے۔ ایک تیمار دار نے دوسرے سے کہا کہ ہسپتا ل کا فلاں عملہ کتنی غلط بیانی کرتا ہے۔ یہ سننا تھا کہ مفتی صاحبؒ نے اشارہ کرکے اپنے پاس بلایا اور فرمایا کہ آپ نے غیبت کی، اب تہجد میں آپ کی دعائیں کیسے قبول ہوں گی؟پھر فرمایا کہ کعبے کا پردہ پکڑ کر بھی دعا مانگیں تو قبول نہیں ہوگی۔ 
ایک مرتبہ ایک سرپرست نے کسی دوسرے ادارے کے ذمہ دار کی غیبت کی، مفتی صاحبؒ کے ساتھ ایک عالم دین بھی موجود تھے، والد کی بات سن کر عالم دین نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کچھ برائی کی۔ یہ سن کر مفتی صاحبؒ ان عالم دین پر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ سرپرست تو اس وقت غصے میں ہے، ان کو تسلی دینی چاہیے، آپ عالمِ دین ہو کر بھی غیبت کررہے ہیں۔ الحمدللہ مفتی صاحبؒ کی اس تربیت کا اثر تھا کہ آپ کی مجلس میں کسی کی مجال نہ ہوتی تھی کوئی کسی فرد یا ادارے کی برائی بیان کرے۔ 

6-صلہ رحمی 

مفتی صاحبؒ وقتاً فوقتا اپنے اساتذہ کرام و مشائخِ عظام کوہدیہ خلوص پیش فرماتے تھے، فرماتے تھے کہ یہ ہمارے محسن ہیں، ان کی قدر کرنی چاہیے۔ ہدیہ لے کر کبھی خود بھی حاضر ہوتے تھے۔ جو اساتذہ کرام دنیا سے تشریف لے جاچکے ان کی اولادکا پتا معلوم کرواکر ہدیہ پیش کرتے۔ خیر خبر رکھتے، دعاؤں کی درخواست کرتے تھے۔ اسی طرح اپنے معاصرین، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور دیگر شہروں کے علمائے کرام سے بھی رابطہ فرماتے، ہدیہ پیش کرتے۔ ایک عجیب بات یہ بھی تھی کہ دیگر علمائے کرام کی مساجد و مدارس کی تعمیر کی بھی فکر فرماتے تھے۔ اس طرح کراچی اور ملک بھر کی کئی مساجد اور مدارس کا قیام جزوی اور کہیں کلی طور پر مفتی صاحبؒ کے تعاون سے ہوا، جب کہ خود ایک مدرسے کے مہتمم تھے۔ یہ مفتی صاحب مرحوم کے اخلاص کی واضح دلیل ہے۔ مفتی صاحبؒ کے اس عمل کی برکت سے ہم نے دیکھا کہ ’’تھادواتحابّوا‘‘ (ایک دوسرے کو ہدیہ دو، ایک دوسرے سے محبت کرنے لگوگے) کے عین مطابق معاصرین اور متعلقین سے محبت و خلوص کا رشتہ قائم رہا اور تعلیم وتربیت کے کام میں معاونت بھی رہی۔ 
علمائے کرام ودیگر احباب کی ذاتی ضروریات کا انتہائی خفیہ طریقے سے خیال رکھتے تھے۔ مکانوں کی تعمیر، بچیوں کی شادی، قرضوں کی ادائیگی، ہسپتال کے اخراجات میں بھر پور تعاون فرماتے تھے، حتیٰ کہ سردی کی آمد پر علمائے کرام کو ہدیتاًرقم پیش فرماتے کہ بچوں کے لیے گرم کپڑے اور رضائی خرید لیں۔ مقصد صرف یہ ہوتا تھا کہ علمائے کرام یک سوئی سے دین کی خدمت، درس وتدریس میں مصروف رہیں اور یک سوئی میں کسی قسم کا خلل پیدا نہ ہو۔ مفتی صاحبؒ علمائے کرام کو خاص تلقین فرماتے کہ جہاں تعلیم وتربیت کا کام کریں ، اس مقام کے پڑوسیوں سے خوب نبھائیں، انھیں کسی بھی قسم کی تکلیف نہ پہنچائیں، حتیٰ کہ پڑوس کے چوکیداروں کا بھی خیال رکھیں، اس سے وہ دین دار بنیں گے اور دین کے کام میں معاون بھی۔ 

7-تصنیف و تالیف کا ذوق اور نہج

اللہ تعالیٰ نے مفتی صاحبؒ کو اصلاحِ معاشرہ سے متعلق تصنیف وتالیف کا ایک خاص ذوق عطا فرمایا تھا۔ مفتی صاحبؒ اکثر فرماتے تھے کہ عوام کے لیے جوتحریر لکھی جائے اس میں ’’عمل‘‘کی بات ضرور بتائی جائے۔ بات مستند اور با حوالہ لکھی جائے، انداز عام فہم اور آسان ہو، تاکہ قاری کو کتاب پڑھ کر عمل کی بات سمجھ آجائے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مفتی صاحبؒ کی اکثر کتب کو عوام و خواص میں خوب مقبولیت حاصل ہوئی۔ کتب پڑھنے کے بعد کئی گھرانے اور ادارے ٹوٹنے سے بچ گئے، کئی لوگ مثالی شوہر، مثالی استاذ اور کام یاب امام بن گئے۔ کئی خواتین مثالی ماں، بہترین ساس، مثالی بیوی اور اللہ سے تعلق بنانے والی بن گئیں۔ 

مفتی صاحبؒ کی چند مشہور تصانیف 

۱- شرح اسمائے حسنیٰ(دو جلدیں)، ۲- پانچ منٹ کا مدرسہ، ۳-مثالی استاذ،۴- مثالی ماں، ۵-مثالی باپ، ۶- تحفہ دلہا، ۷- تحفہ دلہن، ۸- وصیت لکھیے، ۹-کسی کو تکلیف نہ دیجیے، ۱۰- قرض کی پریشانی سے نجات،  ۱۱-قرآن کریم کی تلاوت کے آداب اور دعائیں، ۱۲-عصر سے اشراق تک کے مسنون اعمال اور دعائیں،۱۳- صحابہؓ کی زندگی، ۱۴- ستر استغفار مع درود شریف،۱۵- صبح و شام کی دعائیں مع منزل، ۱۶- دعوت تبلیغ کے فضائل، ۱۷-دعائیں سمجھ کر مانگیے، ۱۸- جمعۃ المبارک کی برکتیں، ۱۹- تحفۃالائمہ، ۲۰-آپ کی مرادیں کیسے پوری ہوں؟ ۲۱- برکت کیسے ملے؟ ۲۲-پریشان رہنا چھوڑ دیجیے، ۲۳-بیماریوں سے شفا اور صحت، ۲۴- تعلیم الدعاءپریشانیوں کا حل نماز کے ذریعے۔ 
حضرت مفتی صاحبؒ نے اسکولوں میں پڑھائی جانے والی درسی کتب سے متعلق بھی فکر فرمائی کہ ملک بھر کے اسکولوں میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے، اس میں حاصلاتِ تعلُّم کی بھر پور رعایت رکھتے ہوئے تحریر کا انداز اور مواد ایسا ہو کہ بچوں کی عملی زندگی پر تحریر کا اثر ہو۔ الحمدللہ اس میدان میں بھی مونٹیسوری سے مڈل تک کے اکثر مضامین پرایسی کتب تیار کی جاچکی ہیں جن میں معلومات کے ساتھ بچوں کی کردار سازی کو خاص ہدف بنایا گیا ہے۔ مفتی صاحبؒ نے چھوٹے بچوں سے متعلق بھی فکر فرمائی کہ کہانی کہانی میں ان کی تربیت کی جائے، اردو اور انگریزی میں ایسی کتب تیار کروائیں کہ جن کے پڑھنے سے ہمارے بچے سچائی اور امانت داری سے متصف ہوکر بڑوں کا ادب کرنے والے بن جائیں۔ الحمد للہ بچوں سے متعلق پچاس سے زائد کتب تیا ر ہوچکی ہیں۔ مفتی صاحبؒ نے بچوں کی دل چسپی کے لیے ماہ نامہ ’’ذوق وشوق ‘‘کا اجراء فرمایا۔ الحمدللہ گزشتہ ۲۰ سالوں سے مسلسل اشاعت ہورہی ہے اور بچوں میں علم کا ذوق اور عمل کا شوق پیدا ہورہا ہے۔ 
خلاصہ یہ کہ مفتی صاحبؒ نے تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی ہر ممکن کوشش فرمائی کہ کسی طرح بڑوں اور بچوں کا تعلق کتاب سے بن جائے، معاشرے کے افراد مطالعے کی عادی بن جائیں۔ کتاب سے تعلق اور مطالعے کی عادت بھی تعلیم و تربیت میں معین ہوگی۔ 

سفرِ آخرت 

حضرت مفتی صاحبؒ نے کچھ عرصہ علیل رہنے کے بعد ساٹھ سال کی عمر میں ۲۱جمادی الاولیٰ ۱۴۴۷ھ مطابق ۱۲نومبر۲۰۲۵ء رات ڈھائی بجے داعیِ اجل کو لبیک کہا اور جان، جانِ آفریں کے سپرد کی۔ 
مفتی صاحبؒ کی نماز جنازہ مادر ِعلمی جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ کی اقتدا میں اداکی گئی، جس میں ہزاروں کی تعداد میں علماء، طلبہ اور محبین نے شرکت کی، طَیَّبَ اللہُ ثَرَاہُ وَجَعَلَ الْجَنَّۃَ مَثْوَاہُ۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے