بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

کم عمری کی شادی اور شرعی وانتظامی حدود!

کم عمری کی شادی اور شرعی وانتظامی حدود!

الحمد للہ وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی!

پاکستان وہ اسلامی مملکت ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آئی، اس کے قیام میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور اس کی بنیاد کو اپنے خون سے استحکام بخشا ، اُن کے ذہنوں میں اسلامی ریاست کا جو خواب سمایا ہوا تھا، وہ اس کی عملی تعبیر کے لیے کوشاں رہے۔چنانچہ علمائے کرام نے اپنی پُر امن سیاسی جدوجہد اور قانونی کوششوں اور کاوششوں کے ذریعے قراردادِ مقاصد، ۲۲؍اسلامی نکات، ۱۹۷۳ء کے آئین میں اسلامی دفعات، امتناعِ قادیانیت آرڈیننس اور ناموسِ رسالت کا تحفظ وغیرہ کے ذریعے حتی الامکان اپنا فریضہ ادا کرنے کی کوشش کی۔ لیکن شومیِ قسمت کہ دوسری جانب اس ملک میں ایک ایسا طبقہ بھی ہر وقت سرگرم رہا جو اسے لا دِین ریاست بنانے کے لیے کوششیں کرتا رہا، چنانچہ جنرل ایوب خان کے مارشل لا دورِ حکومت میں عائلی قوانین کے نام سے سراسر دینِ اسلام کے خلاف قانون سازی کی گئی، جس پر ماہنامہ بینات کے ان ہی صفحات میں بارہا اربابِ حکومت کو توجہ دلائی جاتی رہی ہے۔
حال ہی میں ایک مرتبہ پھر ایسی قانون سازی کی گئی ہے جو دینِ اسلام کے بالکل خلاف ہے، جس میں ۱۸؍ سال سے کم عمری کی شادی کو نہ صرف ممنوع قرار دیا گیا ہے، بلکہ اسے زنا بالجبر قرار دیتے ہوئے قابلِ تعزیر جرم بنا دیا گیا ہے ۔
عالمی سطح پر اس قانون سازی کی بنیاد بچوں کے حقوق کا تحفظ بتائی جاتی ہے، جس میں معقولیت بھی محسوس ہوتی ہے، اسی بنا پر اس نوعیت کے قانونی بندوبست کو عموماً انسانی عقل کے ارتقا کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے کہ تجربات کی روشنی میں انسانی عقل جن خامیوں کی نشان دہی کرے، ان کا سدِّ باب کیا جائے، اور کمزور طبقات کو ان کا حق دے کر وسعتِ نظر اور وسعتِ ظرفی کا مظاہرہ کیا جائے۔ نیز اس قانون کی ضرورت کے لیے بطورِ دلیل بعض ان علاقائی رسوم کا حوالہ دیا جاتا ہے، جن میں والدین یا اولیاء بچوں کے مصالح سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اپنی خواہشات، مجبوریوں یا علاقائی روایات کے تحت کم عمر بچوں کا نکاح سنّ رسیدہ افراد سے کردیتے ہیں، اور بعض مواقع پر اپنے مفادات کے لیے بچوں کو گویا فروخت کرنے کا تصور بھی اُبھرتا ہے، اس جاہلانہ و استحصالی رسم و رواج کی قباحت میں اور اس کا سدّ باب ضروری ہونے میں کسے شبہ ہوسکتا ہے ؟! 
لیکن اس حوالے سے صرف عالمی معیارات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے ایسی قانون سازی کرکے اسے عجلت میں منظور کرنا جس میں سنجیدہ غور و فکر کی کمی ہو اور اس میں آسمانی ہدایات فراموش ہوں، کسی طور درست نہیں ہے، اگر معاملہ کم عمری کے نکاح کی رجسٹریشن کی ممانعت تک رہتا تو انتظامی اعتبار سےقابلِ فہم تھا کہ بعض صورتوں میں واقعتًا بچوں کا استحصال ہوتا ہے، اس کے بعد جائزے کے لیے آزاد و منصفانہ کونسل تشکیل دی جاسکتی تھی، اگر نابالغ کے نکاح میں واقعتاً والدین کا سوءِ اختیار ثابت ہوتا تو نکاح فسخ کیا جاتا، اور معاملے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے مناسب تنبیہ یا سزا تجویز کی جاسکتی تھی۔ لیکن ۱۸؍ سال سے کم عمری کے نکاح کو مطلقًا کالعدم قرار دینا، بلکہ جرائم کی فہرست میں شمار کرنا نہ صرف قرآن وسنت کے خلاف ہے، بلکہ از روئے عقل بھی درست نہیں ہے۔قرآن کریم میں ہے: 
’’وَاللَّآئِيْ يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍ وَّاللَّآئِيْ لَمْ يَحِضْنَ‘‘   (الطلاق: ۴)
ترجمہ : ’’تمہاری (مطلقہ) بیبیوں میں جو عورتیں (بوجہ زیادتِ سنّ کے) حیض آنے سے مایوس ہوچکی ہیں، اگر تم کو (ان کی عدّت کی تعیین میں) شبہ ہو تو ان کی عدّت تین مہینے ہیں اور اسی طرح جن عوتوں کو (اب تک بوجہ کم عمری کے) حیض نہیں آیا۔ ‘‘   (بیان القرآن)
اس آیتِ مبارکہ میں ان لڑکیوں کی عدّتِ طلاق تین ماہ بیان کی گئی ہے، جن کو ابھی تک حیض نہیں آیا، ظاہر ہے عدت کا سوال طلاق کے بعد ہی ہوسکتا ہے اور جب تک نکاح صحیح نہ ہو، طلاق کا کوئی احتمال ہی نہیں، الغرض اس آیت نے نابالغ لڑکیوں کے نکاح کو واضح طور پر جائز قرار دیا ہے۔ 
اسی طرح حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عائشہرضی اللہ عنہاکا نکاح چھ سال کی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوا۔ 
ہاں! مباشرت کے حوالے سے اسلام نے شوہر کو پابند کیا ہےکہ اگر لڑکی جماع کی متحمل نہ ہو تو اس سے صحبت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس ذمہ داری سے سبک دوشی میں تاخیر سے منع فرمایا ہے، حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ’’اے علی! تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو : نماز میں، جب اس کا وقت ہو جائے۔ جنازہ میں، جب حاضر ہو ۔ اور بےنکاح عورت کے نکاح میں، جب اس کا ہم پلہ رشتہ مل جائے‘‘:
’’عن علي بن أبي طالب، أن النبي صلی اللہ عليہ وسلم قال لہ: يا علي! ثلاث لاتؤخرہا: الصلاۃ إذا اٰنت، والجنازۃ إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لہا کفئًا.‘‘ (ترمذي، ۱ /۳۲۰، باب ما جاء في الوقت الأول من الفضل، أبواب الصلاۃ، ط:شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفی البابي الحلبي - مصر)
عقلی پہلو سے بھی جائزہ لیا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ بچے ہوں یا دیگر کمزور طبقات، سب کے حقوق کا صحیح معنیٰ میں تحفظ اُس نظام میں ہے جو تمام مخلوقات کے خالق نے دیا ہے، خالق سے بڑھ کر مخلوق کی فطرت، نفسیات، ضروریات اور تقاضوں کو کون جان سکتا ہے! اور اس کے بیان کردہ قانون سے زیادہ کون سا قانون جامع اور ہمہ جہت ہوسکتا ہے! اِسلام نے ان فرسودہ روایات و دیگر جاہلانہ رسم و رواج کا اس وقت خاتمہ کیا جب خود کو ترقی یافتہ کہلانے والی اقوام انسانیت کے لیے باعثِ عار تھیں۔ ہم مسلمان مجموعی طور پر آج جن اِسلامی ہدایات سے دست بردار ہو رہے ہیں، دنیا سالہا سال کے تجربات کرکے اور ہزار ٹھوکریں کھا کر وہاں پہنچتی ہے، انسانی عقل کمال کو بھی پہنچ جائے بسا اوقات اس سے بعض پہلو اوجھل رہتے ہیں، جب کہ شریعت نے تمام جہات اور پہلوؤں کو ملحوظ رکھ کر اصولی احکام بیان کردیے ہیں۔
کم عمری کے نکاح پر پابندی میں جہاں بچوں کے حقوق کا تحفظ نظر آتا ہے، وہیں بہت سی صورتوں میں بچوں کے حقوق بھی سلب ہوسکتے ہیں، بعض مواقع ایسے آتے ہیں جہاں بچے کے حق کا تحفظ اس کا نکاح کرنے میں ہوتا ہے، جزئیات اس کی بے شمار ہوسکتی ہیں، جن کے بیان کا یہ موقع نہیں ہے، اصولی طور پر دو اشاروں پر اکتفا کیا جاتا ہے، مثلًا: 
1-کم عمر بچی کے نفقے کے انتظام کی کوئی صورت نہ بن رہی ہو، اور کوئی شریف النفس انسان اس کی خیرخواہی میں اس کے حقوق اور شرعی احکام کی مکمل رعایت رکھتے ہوئے اس سے نکاح کرکے ساری زندگی اس کی کفالت کرے، اور غیر جانبدار ثالث بھی اس معاملے کا جائزہ لیں تو وہ اس کی خیرخواہی کی تصدیق کریں۔ ظاہر ہے یہاں بچی کی حق تلفی نہیں، بلکہ حقوق کا خیال ہے۔ 
2-ہم جانتے ہیں کہ طبعی طور پر اٹھارہ سال عمر سے پہلے ہی بچے اور بچی میں جنسِ مخالف کی طرف میلان پیدا ہوجاتا ہے، اگر اٹھارہ سال سے پہلے بچے یا بچی میں بلوغت کی علامات ظاہر ہونے کے بعد بھی اٹھارہ سال عمر ہونے تک نکاح پر پابندی ہو تو یہ جوان بچے یا بچی کی حق تلفی اور اس کے ساتھ زیادتی ہے، بلکہ اسے حلال ذریعہ چھوڑ کر، حرام ذرائع سے اپنی شہوت پوری کرنے کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ شریعت نے تو بلوغت کی علامات ظاہر ہونے کے بعد لڑکے اور لڑکی کی رائے اور آزادی کا مکمل تحفظ کیا ہے، ان کی رضامندی کے بغیر والد کے لیے بھی ان کا نکاح کرانے کی اجازت نہیں ہے؛ کیوں کہ وہ اب اپنی زندگی کے فیصلے کرنے میں خود مختار ہوچکے ہیں؛ البتہ والدین اور اولیاء کو ان کی سرپرستی و خیرخواہی کا اور اولاد کو والدین کی اطاعت کا حکم دیا ہے؛ تاکہ معاشرت و معاملات خوش اسلوبی سے جاری و ساری رہیں۔
بہرحال یہ بل منظور کرنے سے پہلے ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ میں بھیجا جانا چاہیے تھا، کونسل کی رائے اور ترمیمات کی روشنی میں اس کی اصلاح کرکے، پھر منظوری کے لیے پیش کیا جانا چاہیےتھا، لیکن جس عجلت کے ساتھ یہ بل منظور کیے جا رہے ہیں، نیز ان پر یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی ہدایات کے پیش نظر ایسا کیا جا رہا ہے، جس سے یہ معاملہ حد درجہ مشکوک ہو جاتاہے۔ یہ مداخلت اور مداہنت، دینِ اسلا م کے منشور اور مملکتِ پاکستان کے دستور میں قابلِ منظور نہیں ہے؛ کیوں کہ وطنِ عزیز کی دستور سازی یا قانون سازی میں بنیاد اور بالادست درجہ قرآن و سنت کو حاصل ہے، نہ کہ اقوامِ متحدہ یا عالمی اداروں کو، چانچہ غیر مسلم قوتوں کی ترجیحات کے دھندلکے میں جو بھی قانون سازی ہوگی وہ آئینِ پاکستان کی پہلی دفعہ سے متصادم ہونے کی بنا پر قابلِ عمل اور قابلِ قبول ہو ہی نہیں سکتی۔
دوسری جانب جن اقوام کی ایما پر یہ سب کیا جا رہا ہے، وہاں آئے روز ۱۸؍ سال سے کم سن لڑکیوں کے اسقاطِ حمل یا ماں بننے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں، بلکہ اب تو تہذیبِ مغرب کا ایسا چہرہ سامنے آیا ہے جس نے شرافت کومنہ چھپانے پر مجبور کر دیا ہے، مشرقی ممالک کی خواتین کے غم میں گھلنے والے، عورتوں کی تعلیم کے لیے فکرمند رہنے والے، بچوں کی صحت کی خاطر گھر گھر جا کر قطرے پلوانے کی مہم چلوانے والے، سائنسی ایجادات میں اپنا نام پیدا کرنے والے نام نہاد عالمی قائدین کے مخرب الاخلاق قصے عام ہو چکے ہیں، جس کےبعد یہ معمّا حل کرنا مشکل نہیں رہا کہ کیوں عالمِ کفر اسلامی دنیا کی تہذیب کا جنازہ نکال دینے کے پیچھے پڑا ہوا ہے ! درحقیقت شرم و حیا سے عاری یہ مغربی معاشرہ مسلمانوں کو بھی اسی غلاظت میں لتھڑا ہوا دیکھنا چاہتا ہے، جس کے یہ خود خوگر ہیں ۔ 
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے