
اگر ہم اپنے اسلاف واکابرین کی زندگی اور سوانح حیات کا مطالعہ کریں تو یہ بات ہم پر بالکل واضح وعیاں ہوگی کہ ہمارے اکابر علم سے محبت رکھنے والے اور کتاب دوست تھے۔ ان کی زندگی کا محور کتاب ہوتی تھی، کتابیں پڑھنا، انہیں خریدنا، اور اپنے پاس جمع کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہوتا تھا، کتابوں کے حصول کے لیے مال خرچ کرنے سے ان کو راحت وسکون ملتا تھا، کتابوں کی درمیان بیٹھنا ان کے لیے پُر کیف ہوتا تھا، انہیں کتابوں سے انتہائی لگن تھی، جس کی بناپر ان میں کسی فرد کے پاس ایک لاکھ کتابیں ہوتی تھیں (۱) تو کسی کے پاس دو لاکھ کتابیں۔ (۲) کوئی راستے میں چلتے ہوئے بھی کتاب پڑھتا تھا،(۳) تو کوئی کتابوں کی محبت میں مفلس ومقروض ہوگیا۔ (۴) الغرض کتابوں کی مجلس میں ہی ان کے شب وروز گزرتے تھے، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ علم میں کامل رسوخ حاصل ہوتا، اور بہترین استعداد واعلیٰ صلاحیتوں کے مالک ہوتے، دین وملت کی رہنمائی کرتے، اور شاندار علمی خدمات سرانجام دیتے تھے۔ ذیل میں کتاب کی اہمیت وضرورت اور اسلاف واکابرین کے کتاب دوستی کے سلسلے میں واقعات وارشادات ذکر کیے جارہے ہیں؛ تاکہ ان کا مطالعہ کرنے سے ہمیں بھی کتابوں کا ذوق ہو۔
یہ بات کسی پر مخفی نہیں ہوگی کہ اچھی کتاب ایک دوست کا کام سرانجام دیتی ہے، جس سے آپ کامیابی کا راستہ، ہدایت کی راہ، اور ضرر ونقصان دہ چیزوں سے حفاظت کا طریقہ معلوم کرسکتے ہیں، ایک حقیقی دوست کی طرح مفید کتاب کبھی نقصان نہیں پہنچائے گی، اس سے آپ ہمیشہ نفع اور بھلائی ہی پائیں گے، چنانچہ مشہور مؤرخ خطیب بغدادی (ت: ۴۶۲ھ) رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ایک جگہ کتابوں کی تعریف وتوصیف بیان کرتے ہوئے، انہیں بہترین دوست اور عمدہ ساتھی قرار دیا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’قلت: ومع ما في الکتب من المنافع العميمۃ والمفاخر العظيمۃ، فہي أکرم مال وأنفس جمال، والکتاب آمن جليس، وأسر أنيس، وأسلم نديم، وأفصح کليم۔‘‘(۵)
ترجمہ: ’’کتابوں میں موجود عمومی منافع اور بڑی قابلِ فخر چیزوں کے علاوہ، وہ بہترین مال اور انتہائی نفیس جمال وخوبصورتی ہیں۔ کتاب بہت پُرامن ہم مجلس ہے، بڑا رازدان دوست، سلامتی والا ساتھی اور انتہائی فصیح سخن گو ہے۔ ‘‘
کتابیں علم کا ستون ہیں، جس طرح عمارت کا ستون کے بغیر مضبوط وپائیدار ہونا مشکل ہے، اسی طرح کتابوں کے بغیر علم کا حصول واستحضار بھی بہت مشکل ہے۔ کتابوں کے ذریعے ہی علم میں رسوخ وپختگی حاصل ہوسکتی ہے، چنانچہ علامہ ابنِ حزمؒ نے بھی کتابوں کی کثرت کو علم کا ایک ستون شمار کیا ہے، اور پھر شاندار انداز میں کتاب کی ضرورت واہمیت اُجاگر کی ہے، وہ فرماتے ہیں:
’’ودعائم العلم مشہورۃ مستحکمۃ يؤثر بہا العلم علی سائر أعراض الدنيا ۔ ۔ ۔ والاستکثار من الکتب، فلن يخلو کتاب من فائدۃ وزيادۃ علم يجدہا فيہ إذا احتاج إليہا۔ ۔ ۔ ولولا الکتب لضاعت العلوم ولم توجد ۔‘‘(۶)
ترجمہ: ’’علم کے ستون مشہور ومضبوط ہیں، جن کے سبب علم کو دنیا کی تمام چیزوں پر ترجیح دی جائے گی ۔ ۔ ۔ ان میں سے ایک ستون کتابوں کی کثرت ہے، کوئی کتاب فائدے اور علمی زیادتی سے ہرگز خالی نہیں ہوتی، جسے پڑھنے والا اس میں پائے گا، جب بھی اس کا محتاج ہوگا، ۔۔۔ پھر فرمایا کہ اگر کتابیں نہ ہوتیں تو علوم ضائع ہوجاتے اور ان کا وجود بھی نہ ہوتا۔ ‘‘
جس شخص کو حصولِ علم کا شوق، اور کتابیں پڑھنے کا ذوق ہو، وہ کتابیں حاصل کرنے اور انہیں اپنے پاس جمع کرنے میں لذت محسوس کرے گا، اور کتابیں خریدنے کے لیے رقم خرچ کرنے میں فرحت وسرور محسوس کرے گا۔ علم کا حقیقی طالب وہی ہوسکتا ہے جو بڑے نشاط اور خوش دلی سے کتابوں پر اپنا مال صرف کرے۔ اس سلسلے میں مشہور عربی دان علامہ جاحظ (ت: ۲۵۵ھ) نے کیا خوب بات کہی ہے:
’’فالإنسان لا يعلم حتی يکثر سماعہٗ، ولا بدّ من أن تکون کتبہ أکثر من سماعہ؛ ولا يعلم، ولا يجمع العلم، ولا يختلف إليہ، حتی يکون الإنفاق عليہ من مالہ، ألذّ عندہ من الإنفاق من مال عدوّہ ومن لم تکن نفقتہ التي تخرج في الکتب، ألذّ عندہ من إنفاق عشّاق القيان، والمستہترين بالبنيان، لم يبلغ في العلم مبلغًا رضيًّا۔‘‘(۷)
’’یعنی کوئی شخص علم حاصل اور جمع نہیں کرسکتا، اور نہ اس کے پاس کوئی دوسرا علم کے لیے آسکتا ہے، یہاں تک کہ اس پر اپنا مال خرچ کرنا، دشمن کے مال میں سے خرچ کرنے سے بھی زیادہ مزیدار ہو، اور جس آدمی کو کتابوں پر لگایا ہوا خرچ، گلوکارہ باندیوں اور عمارتیں بنانے والے لاپرواہ افراد کے خرچ کرنے سے زیادہ لذید نہ ہو تو ایسا شخص علم میں کسی قابلِ قدر مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ ‘‘
یہی وجہ ہے کہ اسلاف میں سے بعض ایسے گزرے ہیں کہ تمام جمع پونجی کتابیں خریدنے میں لگادیتے تھے، چنانچہ مشہور نحوی علامہ علی بن سیف الابیاری (ت: ۸۱۴ھ) کے بارے میں تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے:
’’وکلما حصل لہٗ شيء اشتری بہ کتبا۔‘‘ (۸)
ترجمہ: ’’علامہ ابیاری کو جب بھی کوئی چیز حاصل ہوتی تو وہ اس کے بدلے کتابیں خرید لیتے۔ ‘‘
کتاب بینی ایک ایسا فرحت بخش اور پُر لذت مشغلہ ہے کہ جس شخص کو اس کی عادت ہوجائے، اور مطالعہ کا چسکا لگ جائے، وہ ہر حالت میں اس عمدہ مشغلہ سے لطف اندوز ہوگا، کتابیں پڑھ کر محظوظ ہوگا، یہی وجہ ہے کہ اکابرین اور اہلِ علم ودانش کی ایک جماعت کو اس کتاب بینی کی ایسی عادت تھی، اور علم میں اضافہ کا اتنا شوق تھا کہ وہ سفر وحضر ہر جگہ کتابیں اپنے ساتھ رکھتے۔ گھر میں مطالعہ میں انہماک کے باوجود اگرکبھی سفر درپیش ہوتا تو سفری لائبریری اپنے ساتھ لیے پھرتے، تھوڑا عرصہ بھی کتابوں سے جدائی گوارا نہیں تھی، چنانچہ مشہور ومعروف عربی دان اور لغت کے امام علامہ مجد الدین فیروزآبادیؒ (ت:۸۱۷ھ) کے بارے میں تذکرہ نگار لکھتے ہیں کہ وہ سفر میں بھی اپنے ساتھ کئی سواریوں پر کتابیں لے جاتے تھے، جیساکہ علامہ سخاویؒ رقم طراز ہیں:
’’وکان لا يسافر إلا وصحبتہ منہا عدۃ أحمال، ويخرج أکثرہا في کل منزلۃ، فينظر فيہا، ثم يعيدہا إذا ارتحلوہ۔‘‘ (۹)
ترجمہ: ’’جب بھی وہ سفر کرتے تو ان کے ساتھ کئی گٹھڑیاں کتابوں کی ہوتیں، اور وہ ان میں سے اکثر ہر منزل پر نکال کر مطالعہ کرتے، جب لوگ وہاں سے کوچ کرنے لگتے تو وہ دوبارہ ان میں ڈال دیتے تھے۔ ‘‘
اسی طرح اپنے ساتھ سفری لائبریری لے کر چلنے والوں میں سے ایک صلاح بن احمد مؤیدی (ت: ۱۰۳۸ھ) ہیں، وہ کئی وقیع کتابوں کے مصنف اور اعلی استعداد والے علمائے کرام میں سے ایک تھے، کتابوں کے ساتھ انہیں خصوصی شغف تھا، چنانچہ علامہ شوکانیؒ ان کی سفری لائبریری کا بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’وإذا سافر أول ما تضرب خيمۃ الکتب، وإذا ضربت دخل إليہا ونشر الکتب، والخدم يصلحون الخيم الأخری ولا يزال ليلہٗ جميعہ ينظر في العلم۔‘‘(۱۰)
ترجمہ: ’’جب وہ سفر کرتے تو سب سے پہلے کتابوں کا خیمہ گاڑھا جاتا، جب خیمہ لگا دیا جاتا تو اس میں داخل ہوتے اور کتابیں پھیلا دیتے، اور خادم دوسرے خیمہ صحیح کرنے لگتے، وہ پوری رات ان کا مطالعہ کرتے رہتے تھے۔ ‘‘
اسلاف میں فنا فی العلم بعض حضرات ایسے بھی گزرے ہیں جنہیں کتابوں سے عشق تھا، جن کی زندگی کتابوں کے گلستان میں گزرتی تھی، اور ان کے نزدیک کتابیں دنیا کی سب سے بڑی نعمت تھیں۔ ایسی جلیل القدر ہستیوں میں سے ایک مشہور ومعروف عربی دان عمر بن بحر المعروف علامہ جاحظ تھے۔ ان کے بعض عقائد ونظریات وغیرہ سے اختلاف کے باوجود اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ کتابوں کے سچے عاشق تھے، اور کتابیں حاصل کرنے کا ادنیٰ موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے، جاحظ کی کتابوں سے محبت کے بارے میں ایک عینی گواہ ابوہفان (ت: ۲۵۷ھ) کہتے ہیں:
’’لم أر قط ولا سمعت من أحبّ الکتب والعلوم أکثر من الجاحظ، فإنہ لم يقع بيدہ کتاب قط إلا استوفی قراءتہ کائنًا ما کان، حتی إنہ کان يکتري دکاکين الورّاقين ويبيت فيہا للنظر۔‘‘(۱۱)
ترجمہ: ’’میں ایسا کوئی شخص نہ کبھی دیکھا اور نہ سنا جس کو جاحظ سے بڑھ کر کتابوں اور علم سے محبت ہو؛ کیونکہ علامہ جاحظ کے ہاتھ میں جب بھی کوئی کتاب آتی تو اس کا پورا مطالعہ کرتے، چاہے جیسی بھی کتاب ہو، یہاں تک کہ وہ کتب فروشوں کی دکانیں کرائے پر لیتے، اور اس میں مطالعہ کے لیے رات کو ٹھہرتے۔ ‘‘
جاحظ کو کتابوں سے اس قدر الفت ومحبت تھی کہ ہر لکھی ہوئی چیز کا مطالعہ کرتے، یہاں تک کہ لکھے ہوئے کاغذات بھی ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے، اس سلسلے میں ان کا ایک واقعہ مشہور ہے، جسے محمد بن سلیمان جوہری بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم جاحظ کے ساتھ سیر وتفریح کی غرض سے نکلے، ابھی ہم بصرہ کی جامع مسجد کے دروازے تک ہی پہنچے تھے کہ ایک خاتون نے کچھ پھٹے ہوئے اوراق برائے فروخت ہمارے سامنے پیش کیے، چونکہ ان میں ہمیں کوئی فائدہ نظر نہیں آیا، اس لیے ہم انہیں چھوڑ کر آگے چلے، لیکن جاحظ اس عورت کے ساتھ پیچھے رہ گیا، ہم نے کافی انتظار کے بعد دیکھا کہ اس نے اس عورت کو قیمت دی اور وہ اوراق لیے، اور ہمیں انتظار کا کہہ کر اپنے گھر چلا گیا، پھر جب وہ لوٹا تو ہم اس کا مذاق اُڑانے لگے، اس پر اس نے کہا: ’’فزت بقطعۃ من العلم وافرۃ‘‘ یعنی میں علم کا ایک کامل حصہ لےکر کامیاب ہوگیا ہوں، یہ جواب سن کر ہم ہنسنے لگے، تو اس نے کہا:
’’أنتم حمقی، واللہ إن فيہا ما لا يوجد إلا فيہا، ولکنکم جہال، لا تعرفون النفيس من الخسيس۔‘‘(۱۲)
ترجمہ:’’ تم بے وقوف ہو، بخدا! ان اوراق میں بعض ایسی چیزیں ہیں جو صرف انہیں میں پائی جاتی ہیں، لیکن تم ناواقف ہو، قیمتی چیز کو خسیس وگھٹیا چیز سے جدا نہیں کرسکتے۔ ‘‘
نیز جاحظ کی کتابوں سے محبت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا انتقال بھی کتابوں کے درمیان ہوا، اور جس وقت روح قفسِ عنصری سے پرواز کر رہی تھی، اس وقت بھی کتابیں ان کے سینے پر تھیں، اور یوں وہ شہیدِ مکتبہ کہلائے، چنانچہ علامہ ابن العماد حنبلیؒ (ت: ۱۰۸۹ھ) تحریر فرماتے ہیں:
’’وکان موتہ بسقوط مجلدات العلم عليہ ۔‘‘ (۱۳)
یعنی ’’ان کا انتقال کتابوں کے اُن پر گرنے کی وجہ سے ہوا۔ ‘‘
اور علامہ زرکلیؒ رقم طراز ہیں:
’’ومات والکتاب علی صدرہٖ قتلتہ مجلدات من الکتب وقعت عليہ۔‘‘ (۱۴)
ترجمہ: ’’ان کی وفات اس حال میں ہوئی کہ کتاب ان کے سینے پر تھی، اس پر گرنے والی کتابوں کی جلدوں نے انہیں قتل کر ڈالا تھا۔ ‘‘
ہمارے اسلاف اور بزرگوں میں سے کتاب دوست بعض ایسے بھی گزرے ہیں جو مطلوبہ ایک کتاب کے حصول کے لیے بھی سرگرداں رہتے تھے، اور حتی المقدور اسے تلاش کرنے کی کوشش کرتے، انہی شخصیتوں میں سے ایک ابوبکر ابن اخشاد ہیں، وہ کہتے ہیں کہ علامہ جاحظ نے اپنے تالیف ’’کتاب الحیوان‘‘ کے شروع میں اپنی تمام تالیفات کا ذکر کیا تھا، من جملہ ان میں دو کتابوں ’’الفرق بین النبي والمتنبي‘‘ اور ’’کتاب دلائل النبوۃ‘‘ کا نام بھی تھا، کوشش کے بعد ’’کتاب دلائل النبوۃ‘‘ تو مل گئی، لیکن دوسری کتاب نہ مل سکی، پھر خیال ہوا کہ کہیں غلطی سے دوسری کتاب کا نام نہ لکھ دیا گیا ہو، اور حقیقت میں ایک ہی کتاب ہو، بہرحال جب میں مصر سے مکہ مکرمہ حج کرنے آیا تو میں نے میدانِ عرفات میں منادی کرائی؛ کیونکہ اطرافِ عالم سے لوگ وہاں آئے ہوئے تھے، اور اعلان کے الفاظ حسب ذیل تھے:
’’رحم اللہ من دلّنا علی کتاب الفرق بين النبي والمتنبیء لأبي عثمان الجاحظ علٰی أي وجہ کان ۔‘‘
ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو کسی بھی طرح ابو عثمان جاحظ کی کتاب ’’الفرق بین النبي والمتنبي‘‘ کی طرف رہنمائی کرے۔ ‘‘
اعلان کرنے والا میدانِ عرفات کا چکر لگاتا رہا، اور بالآخر ابن اخشاد کے پاس ناکام لوٹا، اور بتایا کہ لوگوں کو اس کتاب کے بارے میں کچھ پتا نہیں۔ (۱۵)
امام محمد اپنا اکثر وقت گلستانِ کتب میں گزارتے، اور گھر کو بھی ایک قسم کا کتب خانہ بنادیا تھا، وہ کتابوں کے درمیان گھرے رہتے، اور ہمہ وقت مطالعۂ کتب میں مشغول رہتے، چنانچہ ایک مرتبہ ان کے نواسے نے والدہ محترمہ یعنی امام محمد کی لختِ جگر سے پوچھا کہ امی! بتلایئے کہ نانا جان اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ اس پر ان کی والدہ نے جواب دیا:
’’کان واللہ يا بني! يکون في ہذا البيت وحولہ الکتب، ما کنت أسمع لہ کلمۃ غير أني کنت أراہ يشير بحاجبہ وإصبعہ۔‘‘ (۱۶)
ترجمہ: ’’اللہ کی قسم! اے میرے بیٹے! وہ اس گھر میں ہوتے تھے، چاروں طرف کتابیں رکھی ہوتی تھیں، میں انہیں باتیں کرتے ہوئے نہیں سنتی تھی، بوقتِ ضرورت بھووں یا ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔ ‘‘
دنیا میں بعض شخصیات کتاب سے محبت کرنے والی ایسی گزری ہیں، جنہوں نے کتابیں پانے کے لیے اپنا گھر بیچ ڈالا۔ بالفاظِ دیگر جسمانی سکون وآرام کے اسباب کے بدلے ذہنی راحت وسرور خریدا، اور کتابوں کے عاشقوں کے سامنے یہ سستا سودا ہے۔ انہی ہستیوں میں سے ایک ابو العلاء حسن بن احمد ہمدانیؒ (ت: ۵۶۹ھ) ہیں۔ چنانچہ طلحہ بن مظفر علی (ت: ۵۹۳) کا بیان ہے:
’’بيعت کتب ابن الجواليقي في بغداد، فحضرہا الحافظ أبو العلاء الہمداني، فنادوا علی قطعۃ منہا: ستين دينارا، فاشتراہا الحافظ أبو العلاء بستين دينارا، والإنظار من يوم الخميس إلی يوم الخميس فخرج الحافظ، واستقبل طريق ہمدان، فوصل فنادی علی دار لہ، فبلغت ستين دينارا فقال: بيعوا قالوا: تبلغ أکثر من ذٰلک قال: بيعوا فباعوا الدار بستين دينارا فقبضہا، ثم رجع إلی بغداد، فدخلہا يوم الخميس، فوفی ثمن الکتب۔‘‘(۱۷)
ترجمہ: ’’ایک مرتبہ بغداد میں ابنِ جوالیقیؒ کی کتابیں فروخت کی جارہی تھیں، حافظ ابو العلاء ہمدانی بھی وہاں پہنچ گئے، فروخت کنندہ نے ان میں سے کچھ کتابوں کی قیمت ساٹھ دینار بتائی، ابو العلاء ہمدانی نے انہیں ساٹھ دینار میں خریدا، ایک جمعرات سے دوسری جمعرات تک مہلت تھی، حافظ ابو العلاء نے ہمدان کا راستہ لیا، وہاں پہنچ کر اپنا گھر بیچنے کا اعلان کرایا، جب اس کی قیمت ساٹھ دینار تک پہنچی تو انہوں نے لوگوں سے فرمایا کہ فروخت کردو، لوگوں نے کہا کہ اس سے زیادہ قیمت لگ سکتی ہے، لیکن پھر بھی انہوں نے بیچنے کا کہا، تو انہوں نے ساٹھ ہزار میں گھر فروخت کردیا، ابو العلاء ہمدانی نے قیمت پر قبضہ کرکے بغداد کی راہ لی، اور جمعرات کو وہاں پہنچے، اور کتابوں کی قیمت ادا کردی۔ ‘‘
کتب بینی کی لذت ایسی ہے کہ انسان دنیا ومافیہا سے بےگانہ ہوجاتا ہے، اور کتابوں کے سوا اس کو کسی چیز کا ہوش نہیں رہتا، یہی وجہ ہے کہ بعض سلف صالحین کی بیویاں کتابوں کو سوکن شمار کرتی تھیں کہ جس طرح سوکن کی وجہ سے مرد کی توجہ بٹ جاتی ہے، اور بیوی کی طرف نظرِ التفات میں کمی آجاتی ہے، اسی طرح کتابوں کی وجہ سے بھی بسااوقات اہلیہ اور گھربار کی طرف توجہ کم ہوجاتی ہے، چنانچہ مشہور محدث زبیر بن بکار کی زوجہ محترمہ بھی کتابوں کو اپنے حق میں تین سوکنوں سے زیادہ مضر کہتی تھیں، جیساکہ زبیر بن بکار خود فرماتے ہیں:
’’قالت ابنۃ لأختي لأہلنا: خالي خير رجل لأہلہ لا يتخذ ضرۃ، ولا يشتري جاريۃ، قال: تقول المرأۃ: واللہ لہذہ الکتب أشد علي من ثلاث ضرائر۔‘‘(۱۸)
ترجمہ: ’’میری بھانجی نے میری اہلیہ سے کہا: میرا ماموں اپنے گھروالوں کے حق میں بہتر ہے کہ دوسری شادی کرکے کوئی سوکن نہیں لاتا، اور باندی بھی نہیں خریدتا، اس پر اہلیہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ کتابیں مجھ پر تین سوکنوں سے زیادہ بھاری ہیں۔‘‘
نیز مشہور ومعروف فقیہ ومحدث امام ابوبکر محمد بن مسلم الزہری کے بارے میں بھی سوانح نگاروں نے یہی بات کی ہے کہ کتابیں دیکھ کر آپ دنیا ومافیہا سے بیگانہ ہوجاتے تھے، اسی وجہ سے ان کی اہلیہ کتابوں کو سوکن کہتی تھیں، جیساکہ امام زہریؒ (ت: ۱۲۴ھ) کے بارے میں علامہ ابنِ خلکان (ت: ۶۸۱ھ) تحریر فرماتے ہیں:
’’وکان إذا جلس في بيتہ وضع کتبہ حولہ، فيشتغل بہا عن کل شيء من أمور الدنيا، فقالت لہ امرأتہ يومًا: واللہ لہذہ الکتب أشد علي من ثلاث ضرائر۔‘‘(۱۹)
ترجمہ: ’’امام زہریؒ جب گھر میں بیٹھتے تو اپنے اردگرد کتابیں رکھتے، اور پھر ان میں مشغول ہوکر تمام دنیاوی معاملات بھول جاتے، اسی وجہ سے ایک دن ان کی اہلیہ نے ان سے کہا: اللہ کی قسم! یہ کتابیں مجھ پر تین سوکنوں سے زیادہ بھاری ہیں۔ ‘‘
خلاصۂ کلام یہ کہ ہمارے جلیل القدر اسلاف واکابرین کتب بینی کا مشغلہ رکھنے والے اور کتاب دوست تھے، ان کو فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے سلسلے میں کتاب کی اہمیت کا اندازہ تھا، وہ سماج وثقافت پر اس کے دیر پانتائج سے بھی بخوبی واقف تھے، وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ کتاب جیسا بےضرر اور فائدہ مند دوست اور کوئی نہیں، اور کتاب حصولِ علم کا سب سے عمدہ ذریعہ ہے، اسی وجہ سے انہوں نے کتاب دوستی کی ایسی ناقابلِ فراموش داستان رقم کی ہے کہ موجودہ دور میں اس کا عشرِ عشیر ملنا بھی مشکل ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے کتاب دوستی کی روایت کو باقی رکھیں۔
۱- شذرات الذہب في أخبار من ذہب (۴/۳۷۲)، الناشر: دار ابن کثير- بيروت
۲- الوافي بالوفيات لصلاح الدين الصفدي، (۱۸/۲۰۲)، الناشر: دار إحياء التراث- بيروت
۳- سير أعلام النبلاء للذہبي، (۱۳/۴۲۴)، رقم: ۴۲۲۹، الناشر: دار الحديث- القاہرۃ
۴- رفع الإصر عن قضاۃ مصر لابن حجر، (ص: ۳۴۶)، مکتبۃ الخانجي- القاہرۃ
۵- تقييد العلم للخطيب البغدادي، (ص:۱۲۱)، الناشر: إحياء السنۃ النبويۃ- بيروت
۶- رسائل ابن حزم، (۴/۷۷)، رسالۃ مراتب العلوم، الناشر: المؤسسۃ العربيۃ للدراسات والنشر- بيروت
۷- الحيوان للجاحظ، (۱/۴۱)، الإنفاق علی الکتب، الناشر: دار الکتب العلميۃ- بيروت، ط: ۱۴۲۴ھ
۸- الضوء اللامع لأہل القرن التاسع للسخاوي، (۵/۲۳۱)، الناشر: دار الجيل- بيروت
۹- الضوء اللامع لأہل القرن التاسع للسخاوي، (۱۰/۸۱)، الناشر: دار مکتبۃ الحياۃ- بيروت
۱۰- البدر الطالع بمحاسن من بعد القرن السابع (۱/۲۹۴)، رقم: ۲۰۷، الناشر: دار المعرفۃ- بيروت
۱۱- معجم الأدباء لياقوت الحموي، (۵/۲۱۰۱)، الناشر: دار الغرب الإسلامي- بيروت
۱۲- تقييد العلم للخطيب البغدادي، (ص:۱۳۷)، الإکثار من الکتب، الناشر: إحياء السنۃ النبويۃ- بيروت
۱۳- شذرات الذہب في أخبار من ذہب لابن العماد الحنبلي، (۳/۲۳۲)، الناشر: دار ابن کثير- بيروت
۱۴- الأعلام للزرکلي، (۵/۷۴)، ترجمۃ الجاحظ عمرو بن بحر، الناشر: دار العلم للملايين- بيروت
۱۵- معجم الأدباء لياقوت الحموي، (۵/۲۱۱۵)، الناشر: دار الغرب الإسلامي- بيروت
۱۶- فضائل أبي حنيفۃ وأخبارہ لابن أبي العوام (ص:۳۵۰)، الناشر: المکتبۃ الإمداديۃ- مکۃ المکرمۃ
۱۷- ذيل طبقات الحنابلۃ لابن رجب الحنبلي، (۲/۲۷۷)، الناشر: مکتبۃ العيبکان- الرياض
۱۸- تاريخ بغداد للخطيب البغدادي، (۹/۴۸۶)، ذکر من اسمہ الزبير،الناشر: دار الغرب الإسلامي- بيروت
۱۹- وفيات الأعيان لابن خلکان، (۴/۱۷۸)، ترجمۃ: الزہري، الناشر: دار صادر- بيروت