
تدوینِ حدیث کا سلسلہ عہدِ نبوی سے شروع ہو چکا تھا، متعدد احادیثِ نبویہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذاتِ خود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو احادیثِ مبارکہ قلم بند کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی اور صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت نے احادیثِ رسول کو صحیفوں میں جمع فرمایا، مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ ۳۹ صحابہ کرامؓ کے پا س احادیث کی تحریری کتب اور مجموعے تھے(۱)، جن میں حضرت عبداللہ ابن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا حدیثی مجموعہ مشہور ہے جو ’’الصادقۃ‘‘ سے موسوم تھا، اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا جمع کردہ ’’الصحيفۃ الصحيحۃ‘‘ ہے، جو انہوں نے اپنے شاگرد ہمام بن منبہؒ کے لیے ترتیب دیا تھا اور یہ مجموعہ ’’صحيفۃ أبي ہريرۃؓ لہمام بن منبہؒ‘‘کے نام سے مشہور ہے۔
قرنِ صحابہؓ کے بعد سب سے پہلے فقہی ابواب کی ترتیب پر تدوینِ حدیث کی بنیاد امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے ڈالی، اور اپنی گراں قدر کتاب ’’کتاب الآثار‘‘ تالیف فرمائی،امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے پہلے حدیثِ نبویہ کے جتنے صحیفے اور مجموعےلکھے گئے اُن کی ترتیب فنی نہ تھی، بلکہ اُن کے جامعین نے اپنے حافظے سے جو حدیثیں ان کو یاد تھیں‘ انہیں کیف ما اتفق قلم بند کیا تھا، لیکن امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے ’’کتاب الآثار‘‘ میں احادیثِ نبویہ کو نہایت ہی خوش اُسلوبی کے ساتھ مرتب و مبوب صورت میں ابواب کی ترتیب پر جمع فرمایا اور بعد کے ائمہ کے لیے ترتیب و تبویب کا ایک عمدہ نمونہ قائم کردیا، چنانچہ علامہ خوارزمی رحمۃ اللہ علیہ ’’جامع المسانید‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’وأما النوع الثامن: من مناقبِہ وفضائلہ التي لم يشارکہ فيہا من بعدہ، أنَّہٗ أوّل من دوّن علمَ الشريعۃ ورتَّبہٗ أبوابًا، ثم تابعہٗ مالک بن أنس رضي اللہ عنہ في ترتيب الموطأ، لم يسبق أباحنيفۃ أحد؛ لأن الصحابۃ رضوان اللہ عليہم والتابعين بإحسان لم يضعوا في علم الشريعۃ أبواباً مبوبۃً ولا کتباً مرتبۃً وإنما کانوا يعتمدون علی قوۃ حفظہم، فلمّا رأی أبو حنيفۃؒ العلمَ منتشرًا، فخاف عليہ الخلف السوء أن يضيعوہ علی ما قال عليہ السلام: ’’إن اللہ تعالٰی لا يَقبض العلم انتزاعا ينتزعہٗ، وإنما يقبِضہٗ بموت العلماء، فبقي رؤوسًا جہالًا، فيفتون بغير علم فيضلون و يضلون۔‘‘ فلذلک دوَّنہٗ أبو حنيفۃؒ أبوابًامبوّبۃً وکتباً مرتبۃً، فبدأ بالطہارۃ، ثم بالصلاۃ، ثم بالصوم، ثم سائر العبادات، ثم بالمعاملات، ثم ختم الکتاب بالمواريث، وإنما بدأ بالطہارۃ والصلاۃ؛ لأنہا آخر أحوالِ النّاس۔‘‘ (۲)
’’تبييض الصحيفۃ‘‘ میں علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے، وہ فرماتے ہیں:
’’من مناقب أبي حنيفۃ التي انفرد بہا أنہٗ أوّل من دوّن علم الشريعۃ ورتَّبہٗ أبوابًا، ثم تبِعہٗ مالک بن أنس في ترتيب الموطأ، ولم يَسبِق أباحنيفۃؒ أحد‘‘(۳)
امام ابن حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ (ت:۹۷۴ھ) فرماتے ہیں:
’’إنہٗ أوّل من دوَّن علم الشريعۃ، ورتَّبہٗ أبوابًا وکتباً علی نحو ہو ما عليہ اليوم، وتبِعہٗ مالک في موطئہ۔‘‘(۴)
مذکورہ بالا عبارات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فقہی ابواب واحکام کے موضوع پر تالیف کے میدان میں اولیت کا شرف امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ ہی کو حاصل ہے اورامام صاحبؒ کی ’’کتاب الآثار‘‘ نےفقہی ترتیب، اور انتخابِ روایات میں متأخرین کے لیے اچھا نقشِ قدم چھوڑا ہے،لیکن اس کے باوجود بعض اہلِ علم نے اس بات کا سرے سے انکار کیا ہے کہ امام صاحبؒ کی حدیث میں کوئی تصنیف ہی نہیں اور ’’کتاب الآثار‘‘ کی نسبت امام اعظمؒ کے تلمیذ ِرشید امام محمد بن حسن الشیبانی رحمۃ اللہ علیہ یا امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی طرف کی ہے، اسی بات کے پیش نظر ’’کتاب الآثار‘‘ کے متعلق اہلِ علم کی تصریحات کو پیش کیا جاتا ہے، جس سے اس بات کی توثیق ہوتی ہے کہ ’’کتاب الآثار‘‘ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ہی کی تصنیف ہے ۔
’’کتاب الآثار‘‘ کو امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ان کے کئی تلامذہ نے روایت کیا ہے، جن میں سرِفہرست امام ابو یوسف، امام محمد بن حسن الشیبانی، امام زفر بن ہذیل، حسن بن زیاد، حماد بن ابی حنیفہ اور محمد بن خالد وہبی رحمۃ اللہ علیہم ہیں۔
امام عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ (ت:۱۸۱ھ) نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مدح میں جو اشعار کہے ہیں، ان میں ’’کتاب الآثار‘‘ کا ذکر اس طرح فرمایا ہے:
روی آثارہٗ فأجاب فيہا
کطيران الصقور من المنيفۃ
فلم يک بالعراق لہٗ نظير
ولا بالمشرقين ولا بکوفۃ(۵)
’’انہوں نے آثار کو روایت کیا تو اس سرعت سے رواں ہوئے جیسے بلندی سے شکرے اُڑتے ہیں،سو نہ تو عراق میں ان کی نظیر تھی، نہ مشرق و مغرب میں اور نہ کوفہ میں۔‘‘
حافظ ابو الشیخ ابن حیان رحمۃ اللہ علیہ (ت:۳۶۹ھ) نے اپنی کتاب ’’طبقات المحدثين‘‘میں احمد بن رُستہ کے ترجمہ میں لکھا ہے:
’’أحمد بن رُستۃ بن بنت محمد بن المغيرۃ کان عندہ السنن عن محمد بن حکم عن زفر عن أبي حنيفۃؒ۔‘‘(۶)
’’احمد بن رُستہ کے پاس محمد بن حکم اَز زفر اَز ابو حنیفہ کی روایت سے کتاب السنن تھی۔‘‘
حافظ ابن ماکولا رحمۃ اللہ علیہ (ت:۴۷۵ھ) نے ’’الإکمال‘‘ میں ذکر فرمایا ہے:
’’أحمدُ بن بکر بن سيف، أبو بکر الجُصَيني، ثقۃ يميل إلٰی أہل النظر، روی عن أبي وہب عن زفر بن ہذيل عن أبي حنيفۃؒ کتابَ الآثار۔۔۔‘‘(۷)
’’احمد بن بکر بن سیف ابوبکر الجصینی ثقہ راوی ہیں، اہلِ نظر کی طرف میلان رکھتے ہیں، وہ کتاب الآثار ابووہب سے روایت کرتے ہیں،وہ امام زفر بن ہذیل سے روایت کرتے ہیں، امام زفربن ہذیل امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں۔‘‘
علامہ سمعانی رحمۃ اللہ علیہ (ت:۵۶۲ھ) نے’’ الأنساب‘‘ میں لکھا ہے:
’’والمشہور بالانتساب إليہا أبو بکر أحمد بن بکر بن سيف الجصيني، ثقۃ يميل ميل أہل النظر، يروي عن أبي وہب عن زفر بن الہذيل عن أبي حنيفۃ کتاب الآثار۔۔۔‘‘(۸)
’’ابو بکر احمد بن بکر بن سیف الجصینی کی نسبت (محلہ جصین) کی طرف مشہور ہے، ثقہ، مائل باہلِ نظر ہیں، وہ کتاب الآثار روایت کرتے ہیں ابووہب سے،وہ امام زفر بن ہذیل سے،وہ امام ابو حنیفہ سے روایت کرتے ہیں۔‘‘
علامہ کاسانی رحمۃ اللہ علیہ (ت: ۵۸۷ھ) نے ’’بدائع الصنائع‘‘ میں ’’کتاب الآثار‘‘ کی نسبت امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف واضح فرمائی ہے:
’’کذا ذُکر في آثار أبي حنيفۃؒ۔‘‘(۹)
’’اسی طرح امام ابو حنیفہؒ کی ’’کتاب الآثار‘‘ میں مذکور ہے۔‘‘
علامہ خوارزمی رحمۃ اللہ علیہ (ت:۶۵۵ھ) نے ’’جامع المسانيد‘‘ میں نقل فرمایا ہے:
’’ وأما المسند الثالث عشر الذي يرويہ حماد بن أبي حنيفۃ عن أبيہ أبي حنيفۃ رضي اللہ عنہ۔۔۔‘‘(۱۰)
’’تیرہویں مسند جسے حماد بن ابی حنیفہ اپنے والد ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں۔‘‘
حافظ عبد القادر قرشی رحمۃ اللہ علیہ (ت:۷۷۵ھ) نے ’’الجواہر المضيۃ‘‘ میں یوسف بن ابی یوسف کے ترجمہ میں فرمایا ہے:
’’روی کتاب الآثار عن أبيہ، عن أبي حنيفۃ، وہو مجلد ضخم۔۔۔‘‘(۱۱)
’’انہوں نے کتاب الآثار اپنے والد (ابو یوسف) سے روایت کی ہے، وہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں اور ’’کتاب الآثار‘‘ ایک ضخیم کتاب ہے۔‘‘
حافظ عبدالقادر قرشی رحمۃ اللہ علیہ (ت:۷۷۵ھ) ’’ الجواہر المضيۃ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’يروي عن أبي وہب، عن زفر بن الہذيل، عن أبي حنيفۃ ’’کتاب الآثار‘‘ (۱۲)
امام ابن بزاز کردری رحمۃ اللہ علیہ (ت:۸۲۷ھ) نے ’’مناقب الإمام الأعظم رضي اللہ عنہ‘‘ میں امام حفص بن غیاثؒ کے ترجمے میں بروایت امام جوزجانیؒ نقل کیا ہے:
’’وفي روايۃ الإمام الجوزجاني قال: سمعتہٗ يقول: سمعت من الإمام آثارہٗ...‘‘(۱۳)
’’امام جوزجانیؒ کی روایت میں یہ بات مذکور ہے، وہ فرماتے ہیں :میں نے حفص بن غیاثؒ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے امام صاحبؒ سے ان کی ’’کتاب الآثار‘‘ سماعت کی ہے۔‘‘
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ (ت:۸۵۲ھ) نے ’’تعجيل المنفعۃ‘‘ میں فرمایا ہے :
’’والموجود من حدیث أبي حنيفۃؒ مفرداً إنما ہو کتابُ الآثار التي رواہا محمد بن الحسن عنہُ۔۔۔‘‘(۱۴)
’’حدیث میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی جو مستقل کتاب پائی جاتی ہے وہ ’’کتاب الآثار‘‘ ہے، جسے امام محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابو حنیفہؒ سے روایت فرمایا ہے۔‘‘
اسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ (ت:۸۵۲ھ) ’’ الإيثار بمعرفۃ رواۃ الآثار‘‘ کے مقدمے میں فرماتے ہیں:
’’فإنّ بعض الإخوان التمس منِّي الکلامَ علی رواۃ کتابِ الآثار للإمام أبي عبداللہ محمد بن الحسن الشيباني التي رواہا عن الإمام أبي حنيفۃ ۔۔۔‘‘ (۱۵)
’’بعض بھائیوں نے مجھ سے امام ابو عبداللہ محمد بن الحسن الشیبانیؒ کی ’’کتاب الآثار‘‘ کے رُوات پر کلام کرنے کی درخواست کی، جو انہوں نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت فرمائی ہے۔‘‘
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ (ت: ۸۵۲ھ) ’’لسان الميزان‘‘ میں محمد بن ابراہیم بن حبیش کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
’’روی عن محمد بن شجاع البلخي عن الحسن بن زياد اللؤلؤي عن محمد بن الحسن عن أبي حنيفۃ کتاب ’’الآثار‘‘(۱۶)
’’محمد بن ابراہیم بن حبیش نے کتاب الآثار محمد بن شجاع بلخی سے روایت کرتے ہیں، وہ حسن بن زیاد لؤلؤی سے، وہ امام محمد بن حسن سے، وہ امام ابو حنیفہ سے روایت فرماتے ہیں۔‘‘
مذکورہ بالا عبارت پر محدث سید مہدی حسن شاہجہانپوری رحمۃ اللہ علیہ نے ’’قلائد الأزہار علی کتاب الآثار‘‘ کے مقدمے میں نقد فرمایا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے: ’’حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کا سند میں محمد بن الحسنؒ کا اضافہ صحیح نہیں ہے، شاید اس میں اضافہ اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ ’’کتاب الآثار‘‘کی نسبت امام محمد بن الحسن کی طرف مشہور ہے، لیکن حسن بن زیاد‘ امام ابوحنیفہؒ کے اولین تلامذہ میں سے ہیں اور انہوں نے امام محمدؒ سے کوئی روایت نہیں لی،بلکہ خود امام محمد ؒنے ان سے استفادہ کیا ہے،پس ابن زیادؒ ‘ امام ابو حنیفہ ؒسے بغیر کسی واسطہ سے ’’کتاب الآثار‘‘ روایت کرتے ہیں ۔‘‘(۱۷)
صحیح سند وہی ہے جو علامہ خوارزمی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’جامع المسانيد‘‘ میں نقل کی ہے:
’’قال: أخبرنا أبو الحسن محمد بن إبراہيم بن الخنيس البغوي قال: حدثنا أبو عبداللہ محمد بن الشجاع البلخي قال: حدثنا الحسن ابن زياد اللؤلؤي صاحب أبي حنيفۃ رحمہ اللہ عن أبي حنيفۃ رضي اللہ عنہ۔‘‘(۱۸)
شیخ محمد عابد سندھی انصاری رحمۃ اللہ علیہ (ت:۱۲۵۷ھ) ’’حصر الشارد‘‘میں ’’کتاب الآثار‘‘ کے متعلق اپنی سند یوں بیان کرتے ہیں:
’’الآثار: روايۃ محمد بن الحسن الشيباني عن أبي حنيفۃ وغيرہ: فأرويہ عن۔۔۔إلخ‘‘(۱۹)
علامہ ابو الوفاء افغانی رحمۃ اللہ علیہ (ت:۱۳۹۵ھ) ’’کتاب الآثار‘‘ کے مقدمے میں رقم طراز ہیں:
’’وإنَّ أوّل کتاب ألِّف في علم الحديث النبوي وآثارہٖ وأخبارہٖ وأقوال أصحابہٖ وأتباعہم وأحسن ترتيبا وانتخابا مرتّبا علی الأبواب کتاب الآثار لإمام الأئمۃ الإمام الأعظم أبي حنيفۃ النعمان بن ثابت التيمي الفارسي الکوفي ۔۔۔‘‘(۲۰)
’’امام الائمہ امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت تیمی فارسی کوفی رحمۃ اللہ علیہ کی ’’کتاب الآثار‘‘ علم حدیثِ نبوی اور اخبار وآثار اور صحابہؓ وتابعینؒ کے اقوال میں بترتیبِ ابواب سب سے پہلے جمع کی گئی ہے اور ترتیب و انتخاب کے اعتبار سے انتہائی بہترین ہے۔‘‘
شارح ’’کتاب الآثار‘‘ مفتی سید مہدی حسن شاہجہانپوری رحمۃ اللہ علیہ (ت: ۱۳۹۶ھ) ’’قلائد الأزہار‘‘ کے مقدمے میں تصریح فرماتے ہیں:
’’وکتاب الآثار أوّل کتاب دوِّن في الإسلام بعد قرن الصحابۃ رضي اللہ عنہم، ألَّفہ الإمام الأعظم نعمان ابن ثابت الکوفي التابعي والإمام محمد بن الحسن راويہ عن الإمام۔‘‘(۲۱)
’’اسلام میں قرنِ صحابہؓ کے بعد سب سے پہلی کتاب’’کتاب الآثار‘‘ تدوین کی گئی ہے، امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کوفی تابعی رحمۃ اللہ علیہ اس کتاب کے مؤلف ہیں، اور امام محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ کتاب امام اعظمؒ سے روایت کرتے ہیں۔‘‘
ایک دوسرے مقام پر علماء کی تصریحات نقل کرنے کے بعد یوں تبصرہ فرماتے ہیں:
’’فالکتاب معروفٌ مشہورٌ فيما بين القوم أنہ للإمام۔‘‘(۲۲)
’’پس علماء کے درمیان یہ بات مشہور ومعروف ہے کہ کتاب (الآثار) امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی (تالیف) ہے۔‘‘
محقق العصر مولانا محمد عبد الرشید نعمانی رحمۃ اللہ علیہ (ت:۱۴۲۰ھ) ’’کتاب الآثار‘‘ کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:
’’اس سلسلہ میں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ ’’کتاب الآثار‘‘ کے سوا آج ہمارے پاس سنن کی کوئی کتاب ایسی موجود نہیں کہ جس کے مصنف کو تابعیت کا شرف حاصل ہو اور یہ وہ فضیلت ہے جس میں امام ابو حنیفہؒ اس عہد کے تمام نامور ائمہ میں ممتاز ہیں۔‘‘(۲۳)
ائمہ حدیث وفقہ کی تصریحات کے بعد یہ بات معلوم ہوئی کہ ’’کتاب الآثار‘‘ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تالیف ہے، اور ان کے تلامذہ نے ان سے یہ کتاب روایتاً اخذ کی ہے، ورنہ ایک ہی کتاب، ایک ہی نام سے، ایک ہی استاذ کے تلامذہ کی تالیف کیونکر ہو سکتی ہے؟ جس طرح امام مالکؒ سے ان کے متعدد تلامذہ ’’کتاب الموطّا‘‘ روایت کرتے ہیں، اسی طرح امام ابو حنیفہ ؒ سےان کے متعددتلامذہ ’’کتاب الآثار‘‘ روایت کرتے ہیں، ’’کتاب الآثار‘‘ کے نسخوں کے درمیان فرق کے پیش نظر ’’کتاب الآثار‘‘ کی ان کے رُوات کی طرف نسبت کی جاتی رہی ہے، جس سے بعدکے زمانے میں یہ تأثر پیدا ہوا کہ ’’کتاب الآثار‘‘ امام صاحبؒ کی تالیف نہیں ہے، لیکن مذکورہ بالا نصوص کی روشنی میں یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوچکی ہے کہ ’’کتاب الآثار‘‘ امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے تلامذہ کی تالیف نہیں ہے، بلکہ خود امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت کوفی رحمۃ اللہ علیہ ہی کی تالیف ہے،واللہ اعلم۔
وما توفيقي إلا باللہ، عليہ توکلت، وإليہ أنيب
۱- عہد بنو امیہ میں محدثین کی خدمات، از ڈاکٹر عبد الغفار بخاری، ط: نشریات، لاہور
۲-جامع مسانيد الإمام الأعظم للإمام الخوارزمي(۱/۳۴) ط: مجلس دائرۃ المعارف، حيدرآباد دکن، الہند.
۳- تبييض الصحیفۃ في مناقب أبي حنیفۃ للإمام السيوطي(۱۱۹)، ط: دار الکتب العلميۃ.
۴-الخيرات الحسان لابن حجر الہيتمي المکي(۷۳)، ط: مطبعۃ المدني، القاہرۃ، مصر.
۵- مناقب الإمام الأعظم أبي حنيفۃ لصدر الأئمۃ( ۲/۱۹۰).
۶- طبقات المحدثين بأصبہان والواردين عليہا لأبي الشيخ الأصبہاني (۴/ ۱۵۷) ط: مؤسسۃ الرسالۃ، بيروت
۷-الإکمال في رفع الإرتياب عن المؤتلف والمختلف في الأسماء والکنی والأنساب لابن ماکولا ( ۳/ ۳۹)، ط: دائرۃ المعارف بحيدرآباد دکن، الھند.
۸-الأنساب لأبي سعيد عبد الکريم السمعاني (۲/۶۴۲) ط: دار الفکر، بيروت، لبنان.
۹- بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع للعلامۃ الکاساني (۱/۱۵۷)، ط: مطبعۃ شرکۃ المطبوعات العلميۃ، مصر.
۱۰-جامع مسانيد الإمام الأعظم للإمام محمد بن محمود الخوارزمي ( ۱/۷۵)، ط: دائرۃ المعارف حیدرآباد، الہند.
۱۱- الجواہرالمضيۃ في طبقات الحنفيۃ لمحي الدين عبد القادر القرشي الحنفي (۳/۶۴۵)، ط: دار الہجر، القاہرۃ.
۱۲- المصدر السابق (۱/۱۵۲).
۱۳- مناقب الإمام الأعظم للإمام الکردري ( ۲/۲۰۶)، ط: المکتبۃ الإسلاميۃ کويتۃ، پاکستان
۱۴- تعجيل المنفعۃ بزوائد رجال الأئمۃ الأربعۃ لابن حجر العسقلاني (۱/ ۲۳۹)، ط: دار البشائر، بيروت.
۱۵- الإيثار بمعرفۃ الآثار لابن حجر العسقلاني( ۳۸۴)، الرحيم اکيدمي، کراتشي.
۱۶- لسان الميزان لابن حجر العسقلانی (۶/۴۸۷)، ط: دار البشائر الإسلاميۃ، بيروت.
۱۷- قلائد الأزہار علی کتاب الآثارللسيد مہدي حسن الشاہجانفوري ( ۲/۱)، مطبعۃ آزاد، ديوبند، الہند.
۱۸- جامع مسانيد الإمام الأعظم للإمام الخوارزمي (۱/۳۷).
۱۹- حصر الشارد من أسانيد محمد عابد لمولانا محمد عابد السندي الأنصاري (۱/۱۱۶)، ط: مکتبۃ الرشد، ریاض.
۲۰- مقدمۃ کتاب الآثار لأبي الوفاء الأفغاني (۱)، دار الکتب العلميۃ۔
۲۱- قلائد الأزہار علي کتاب الآثار (۱/۲).
۲۲- المصدر السابق.
۲۳- کتاب الآثار للإمام أبي حنيفۃ (۵)، ط: الرحيم اکيدمی، کراتشي.