بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

پاکستان کے ساتھ احسان فراموشی کیوں ؟ !

پاکستان کے ساتھ احسان فراموشی کیوں ؟ !

الحمد للہ وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی!

جس طرح قرآن کریم کی دولت مسلمانوں کو ماہِ رمضان میں نصیب ہوئی تھی ، اسی طرح مملکتِ خداداد پاکستان کی عظیم نعمت بھی ماہِ رمضان کی ستائیسویں تاریخ کو حاصل ہوئی تھی۔ چوں کہ اس کی بنیاد اسلامی نظریے اور کلمہ طیبہ ’’لا إلہ إلا اللہ‘‘ پر تھی ، اس لیے روزِ اول سے اس کا وجود اسلام دشمن طاقتوں کی نظر میں کھٹکنے لگا اور وہ اسے کمزور کرنے کی سازشوں میں جت گئے۔ ۱۹۷۱ ء میں یہ ملک دو لخت ہوا تو دشمنوں کے گھروں میں خوشیوں کے شادیانے بجائے گئے اور یہ کہا جانے لگا کہ اب یہ ملک زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ پائے گا ، لیکن ’’جسے خدا رکھے اُسے کون چکھے ‘‘ کے مصداق پاکستان آج تک الحمد للہ ! قائم ہے اور ان شاء اللہ ! قیامت تک قائم و دائم رہے گا ۔ 
پاکستان اپنے قیام کے ساتھ ہی دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں ہمیشہ آواز اٹھاتا آیاہے ۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح  ؒ نے فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کو ناجائز ٹھہرایا ، عرب اسرائیل جنگ میں پاکستان نے سفارتی سطح پر فلسطین کے حق میں آواز اُٹھانے کے ساتھ ساتھ جنگ میں بھی عملاً حصہ لیا اور عرب افواج کی مدد کی ۔ بوسنیا اور چیچنیا میں سرب اور روسی افواج کے مظالم کے خلاف پاکستان کے حکمرانوں نے عالمی سطح پر صدائےاحتجاج بلند کی اور وہاں اپنی بساط بھر رفاہی خدمات میں بھی حصہ لیا۔ افغانستان پر جب روس حملہ آور ہوا تو پاکستان ہی تھا ، جس نے یہ جنگ اگلے محاذوں پر لڑی اور روس کو مار بھگانے میں افغانستان کا بھرپور ساتھ دیا ، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جسے پوری دنیا تسلیم کرتی ہے ، روس کے جانے کے بعد جب افغان قوم باہم اختلاف و انتشار کا شکار ہوئی ، تو ان کے مابین ہر ممکن سطح پر مصالحت کی بارہا کوشش کی ، ملا عمر v کی قیادت میں اُٹھنے والی طالبان تحریک نے جیسے ہی افغانستان کے بعض علاقوں میں امن قائم کیا تو ریاستِ پاکستان اور اہالیانِ پاکستان نے ہر اعتبار سے ان کے موقف کی تائید کی اور آج تک کرتے آئے ہیں۔ ریاستِ پاکستان اور اہلِ پاکستان ہمیشہ سے ہی پُر امن مستحکم اور خوشحال افغانستان کے قیام کے خواہاں رہے ہیں، طالبان کی سابقہ حکومت کے قیام کے بعد پاکستان نے جس طرح ان کا ساتھ دیا یہ بھی تاریخی حقیقت ہے، بعد ازاں افغانستان پر امریکی حملے کے وقت اگرچہ اس وقت کے پاکستانی پالیسی سازوں پر نکتہ چینی کی جا سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ افغان قیادت کو اگر کہیں جائے پناہ ملی تو وہ یہی ملک پاکستان تھا ، جس نے پڑوسی ہونے کا حق ادا کیا ، اور امریکا کے خلاف افغان قوم کی تحریکِ مزاحمت کی ہمیشہ تائید کی، بالآخر امریکا کے انخلا اور امریکا و افغان قیادت کے درمیان ثالثی اور معاہدے کی تکمیل  سے لے کر ما بعد کے مراحل میں جو کردار ادا کیا وہ پوری دنیا کے سامنے ہے۔
اس وقت دنیا کے حالات بہت تیزی سے بدل رہے ہیں ۔ ۲۰۲۳ ء میں اسرائیل پر طوفان الاقصیٰ شروع ہونے کے بعد شام میں بشار الاسد کی طویل آمریت کی شب ِ تاریک کاخاتمہ ہوا۔ طوفان الاقصیٰ شروع ہونے کے بعد پاکستان ایک مرتبہ پھر فلسطین کے مظلوموں کی حمایت میں کھڑا ہوا اور ان کے حق میں عالمی سطح پر بھرپور اور مؤثر آواز اُٹھائی، جس کے نتیجے میں یہود و ہنود نے سازش کرکے مئی ۲۰۲۵ء میں پاکستان پر حملہ کردیا، اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے افواجِ پاکستان نے بھارت پر ہر اعتبار سے برتری ثابت کر دکھائی تھی ۔ بنگلہ دیش میں طویل عرصے سے قائم ایک جابر حکومت کے عروج کو بھی زوال دیکھنا پڑا اور حال ہی میں وہاں نئی منتخب حکومت کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات قائم ہیں۔ یہ واقعات پاکستان کے حق میں مثبت اشارے اور عالمی سطح پر اس کے قائدانہ کردار کی طرف ایک قدم تھے۔ دشمنانِ پاکستان کو یہ استحکام اور ترقی ایک آنکھ نہ بھائی، اس دوران پاکستان کی مغربی سرحد سے دراندازی کا سلسلہ شروع ہو گیا اور پاکستان کے اندر کالعدم ٹی ٹی پی کے حملے بڑھ گئے ، جسے مبینہ طور پر موجودہ افغان رجیم کی پشت پناہی حاصل ہے ۔ پاکستان کی جانب سے صلح اور مذاکرات کی دو بار بھرپور کوششیں کی جا چکی ہیں، پہلے حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم اور پھر حضرت مولانا فضل الرحمٰن دامت برکاتہم نے بنفسِ نفیس افغانستان تشریف لے جا کر طالبان قیادت کو پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا اور انھیں ان کے ازالہ کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی۔ افغان طالبان اگرچہ بظاہر کالعدم ٹی ٹی پی سے اظہارِ براءت کرتے ہیں، لیکن افغانستان میں قائم ان کے روابط اور ان کے کیمپوں کا قیام ایک حقیقت ہے، جسے جھٹلا نہیں سکتے ۔ پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بالآخر پاکستان کی جانب سے کارروائی کی گئی اور افغانستان میں موجود ان کے اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 
یہ بہت الم ناک صورتِ حال ہے کہ دو اسلامی بھائی آپس میں لڑ پڑیں ۔ ایک طرف یہود و نصاریٰ متحد ہو کر مسلمانوں پر حملہ آور ہیں ،کئی ممالک کو تخت و تاراج کرنے کے بعد ان کی تازہ جارحیت کا شکار اب ایران بن چکا ہے ، جس کے بعد ان کےناپاک عزائم کی اگلی منزل خاکم بدہن ! کہیں پاکستان ہی نہ ہو ، اور دوسری جانب پاکستان اور موجودہ افغان رجیم کو آپس میں اُلجھا دیا گیا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ بھارت و اسرائیل کی اس منصوبہ بندی کی پیش قدمی ہے جو حال ہی میں بھارتی و اسرائیلی حکمرانوں کی ملاقات کی صورت میں کی گئی۔ بھارت پاکستان کے ہاتھوں گزشتہ جنگ میں لگے زخموں کو بھلا نہیں پا رہا ہے اور اسرائیل بھی فلسطینی مجاہدین کی کاری ضربوں سے زخمی اور باؤلا ہوچکا ہے، اب دونوں نے مل کر پاکستان اور افغانستان کو باہم الجھانے کے لیے یہ جال بُنا ہے؛ تاکہ ایران کے راستے سے پاکستان پر اسرائیل حملہ آور ہو اور مشرقی سرحد سے بھارت اسے کمک فراہم کرے۔ لیکن ان شاء اللہ! ان کے یہ عزائم ناکام ہوں گے اور یہود و ہنود پہلے کی طرح منہ کی کھائیں گے ، کیوں کہ :

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زَن
پھونکوں سے یہ چراغ بُجھایا نہ جائے گا
 

مسلمانوں کو ’’الکفر ملۃ واحدۃ‘‘ کے مقابلے پر ’’المسلم أخو المسلم‘‘ کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ خصوصاً موجودہ افغان رجیم کو نہ بھولنا چاہیے کہ پاکستان آپ کا وہی بھائی ہے جس نے ہمیشہ آپ کے زخموں پر مرہم رکھا،امدادفراہم کرنے سے مہاجرین کو اپنے وطن میں آباد کرنے تک آپ کے اس اسلامی بھائی نے کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی اور اسی وجہ سے ہزاروں پاکستانی علماء وعوام نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا ، جس کے نتیجے میں پاکستان میں بتدریج بدامنی ، مہنگائی اور عدمِ استحکام بڑھتا گیا، اوراسی وجہ سے بیرون ملک ہر جگہ پاکستان کو بھی مشکوک نظروں سے دیکھا گیا۔ اور دیگر بہت سی خرافات بھی اسی کا تحفہ ہیں، جنھیں بیرونی دنیا میں پاکستانیوں کے ساتھ جوڑا گیا ۔ موجودہ طالبان قیادت کے ۱۵؍اگست ۲۰۲۱ ء کو برسرِ اقتدار آنے پر پاکستان نے تو خیر مقدم کیا تھا، اور یہ توقع تھی کہ افغان قوم حالات سے سیکھ کر اب اپنی ترقی و خوش حالی اور اپنے نظم کے استحکام پر توجہ دے گی اور معاہدے کے مطابق اقتدار کی منتقلی کا عمل انجام پذیر ہوگا۔
بہرحال ! پاکستان ہمارا وطن ہے ، اسے ہمارے بزرگوں نے اپنے خون سے سینچا ہے ، کوئی بھی پاکستانی اپنے ملک کی سالمیت پر سمجھوتا نہیں کر سکتا ۔پاکستان اور موجودہ افغان رجیم کی صورتِ حال کی تصویر اور منظرکشی ایک عرب شاعر کے الفاظ میں کچھ اس طرح ہے ،

قال شہل بن شيبان الزماني:
صَفَحْنَا عَنْ بَنِيْ ذُہْلٍ وَقُلْنَا القَوْمُ إِخْوَانُ

عَسَی الْاَیَّامُ اَنْ يُرْجِعْنَ قَوْمًا کَالَّذِيْ کَانُوْا
فَلَمَّا صَرَّحَ الشَّرُّ فَاَمْسٰی وَہْوَ عُرْیَانُ

وَلَمْ يَبْقَ سِوَی الْعُدْوَانِ دِنَّاہُمْ کَمَا دَانُوْا
مَشَيْنَا مِشْيَۃَ اللَّيْثِ غَدَا وَاللَّيْثُ غَضْبَانُ

بِضَرْبٍ فِيْہِ تَوْہِيْنٌ وَتَخْضِيْعٌ وَإِقْرَانُ
وَطَعْنٍ کَفَمِ الزَّقِّ إِذًا وَالزَّقُّ مَلْآنُ 

وَبَعْضُ الحِلْمِ عِنْدَ الجَہْـلِ لِلذِّلَّۃِ إِذْعَانُ
وَفِي الشَّرِّ نَجَاۃٌ حِيْنَ لَا يُنْجِيْکَ إِحْسَانُ
(شرح دیوان الحماسۃ للمرزوقي ۱ ـ  ۳۲)

ترجمہ :’’ ہم نے بنی ذُہل سے درگزر کیا اور کہا کہ یہ لوگ ہمارے بھائی ہیں۔ شاید آنے والے دن انہیں دوبارہ ویسا ہی بنا دیں جیسے وہ پہلے تھے۔ لیکن جب شر اور دشمنی کھل کر سامنے آگئی اور وہ بالکل عیاں ہوگئی، اور دشمنی کے سوا کچھ باقی نہ رہا تو ہم نے بھی انہیں ویسا ہی بدلہ دیا جیسا انہوں نے کیا تھا۔ ہم شیر کی طرح چل پڑے جیسے شیر غصے میں ہوتا ہے۔ ایسی ضربیں لگائیں جن میں دشمن کی کمزوری، اس کی ذلت اور اسے زیر کرنا تھا۔ اور ایسے نیزے مارے جیسے بھرا ہوا مشکیزہ پھٹ جائے۔ اور کبھی کبھی جہالت کے مقابلے میں زیادہ حلم (بردباری) ذلت قبول کرنے کے مترادف ہوجاتا ہے۔ اور بعض اوقات برائی (جنگ) ہی میں نجات ہوتی ہے، جب احسان بھی تمہیں بچا نہیں سکتا۔‘‘
جن لوگوں کی آشیرباد سے پاکستان کے عوام اور افواجِ پاکستان کو نشانہ بنایا جائے گا، مسجدوں اور امام بارگاہوں میں دھماکے کیے جائیں گے، سیاسی و مذہبی شخصیات کو چُن چُن کر شہید کیا جائے گا تو پاکستان پورا حق رکھتا ہے کہ ان حملوں کا جواب دے اور اپنے بھائی کو جھنجھوڑے کہ کل تمھارے مشکل وقت میں بھی ہم ہی تمھارے ساتھ کھڑے تھے، نہ کہ امریکا ، اسرائیل اور بھارت ، اور آئندہ کل بھی ہم ہی تمھارے کام آئیں گے نہ کہ تمھارے یہ نئے نئے دوست، جن سے آج تم محبت کی پینگیں بڑھا رہے ہو ، اور ان کی خوشنودی کے حصول کے لیے اپنے حقیقی محسن اور خیر خواہ کو زک پہنچانے کا سبب بن رہے ہو۔ بہرحال ! پاکستان اور افغانستان کے کشیدہ حالات کو درست کرنے کے لیے قرآن کریم رہنمائی کر رہا ہے کہ :
’’وَاِنْ طَـآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَـہُمَا ۚ فَاِنْ بَغَتْ اِحْدٰہُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَقَاتِلُوْا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰـی تَفِيٓءَ اِلٰٓی اَمْرِ اللہِ ۚ فَاِنْ فَـآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَـہُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا  اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُـوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْکُمْ ۚ وَاتَّقُوْا اللہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُـوْنَ‘‘  (الحجرات:۹،۱۰)
ترجمہ : ’’ اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دیا کرو، پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے گروہ سے لڑو ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، پھر اگر وہ لوٹ آئے تو دونوں کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو، یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرایا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘
چنانچہ اس بات کی ضرورت ہے کہ جنگ سے گریز کرتے ہوئے دونوں مسلم ممالک کے درمیان صلح کی راہ نکالی جائے اور دونوں ملکوں کی مدبر سیاسی قیادت اور با اختیار اربابِ حکومت سر جوڑ کر بیٹھیں، تاکہ موجودہ افغان رجیم کی جانب سے پاکستان کے اندر اس کی دراندازی کا سلسلہ بند ہو اور دونوں ملکوں کے عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔اس موقع پر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی مدد و نصرت کے بعد پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والی تمام سیاسی وفوجی قیادت، بالخصوص ایٹمی سائنس دانوں کا شکریہ ادا کرنا بے حد ضروری ہے ،جنھوں نے مشکل حالات کا مقابلہ کر کے مادرِ وطن کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ آج ان ہی کی محنت کا ثمر ہے کہ کوئی دشمن اس ملک کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ آج ہم اس ملک میں محفوظ ہیں، ہماری سرحدوں پر ہمارے فوجی جوانوں کا کڑا پہرا ہے، ہماری فضائیہ، نیوی اور برّی افواج جذبۂ شہادت سے معمور اور سرشار ہیں ، جن کی بہادری اور شجاعت ہی کی بنا پر ہمارا دشمن ہماری انھیں افواج کے ہاتھوں کئی بار منہ کی کھا چکا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی ہماری حکومت آگے بڑھ رہی ہے اور کامیابیاں سمیٹ رہی ہے ۔ سعودی عرب سے پاکستان کا دفاعی معاہدہ ہو چکاہے ، ایران پر امریکی حملے کے بعد پاکستان ہی نے سعودی عرب اور ایران کو باہمی چپقلش سے محفوظ رکھا ہوا ہے، غرضے کہ یہ تمام تر سفارتی اور دفاعی کامیابیاں اس وقت ہمارے وطن کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ خدا اِسے ہمیشہ سلامت رکھے ، آمین!

نورِ حق شمعِ الٰہی کو بُجھا سکتا ہے کون
جس کا حامی ہو خُدا اُسے مٹا سکتا ہے کون

اللہ تعالیٰ عالَمِ اسلام سمیت ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے اورہمیں باہمی جنگوں کی بجائے کفر کے مقابلے پر متحد فرمائے ، ہماری صفوں میں گھسے ہوئے دین دشمن اور وطن دشمن غداروں کی سازشیں ناکام بنائے، پاکستان دشمنوں کو باہم دست و گریبان کر کے ان کی طاقت کو پاش پاش کرے اور ملت اسلامیہ کوہر جگہ سرخرو فرمائے ، آمین بجاہ سید المرسلین!

وصلّی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیّدنا محمّد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین!
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے