بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

پاک بھارت جنگ کے فوائد و نتائج!

پاک بھارت جنگ کے فوائد و نتائج!


الحمد للہ وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی

انگریزوں کو برِصغیر سے نکالنے کے بعد پاک بھارت دونوں نے ایک ساتھ آزادی کا اعلان کیا ،  اور پھر دو ماہ کے اندر ہی بھارت نے اکتوبر ۱۹۴۷ کو انگریزوں کی شہہ پر کشمیر میں اپنی فوجیں گھسادیں، گویا انگریز جاتے جاتے سازش کرکے پا کستان اور بھارت کو کشمیر میں اُلجھا گیا۔ اس پر پاک بھارت کئی جنگیں ہو چکی ہیں ، پہلی جنگ ۱۹۴۷ ء میں جب مجاہدینِ آزادی جیت رہے تھے ، مظفر آباد اور میرپور کا علاقہ قبضہ میں لے لیا جو آج آزاد کشمیر کہلاتا ہے ، تو اس وقت نہرو گاندھی سیز فائر کے لیے اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں پہنچے اور سیز فائر کرالیا ۔ 
اقوامِ متحدہ نے اس وقت کہا کہ پورا خطۂ کشمیر متنازع علاقہ ہے ، اس پر وہاں کے لوگوں کی رائے شماری سے فیصلہ کیا جائے گا ۔ اس کے لیے اقوامِ متحدہ میں پندرہ سے زائد قراردادیں پاس کی جا چکی ہیں ، لیکن تاحال ان قرادادوں پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ۔
 بھارت کی تاریخ اگرچہ ہمیشہ سے ریاستی سازشوں اور خود ساختہ حملوں سے بھری پڑی ہے، لیکن وہاں کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کے دور میں تو ان سازشوں اور خود ساختہ حملوں کی انتہاہو چکی ہے ، اس لیے کہ اس نے وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے گجرات کے مسلمانوں کا خون بہایا ، اور اس کے بعد سے آج تک بھارتی مسلمانوں کو آرام اور سکون سے کہیں بھی نہیں رہنے دیا، جس کے درد اور تکلیف سے بھارت کے عوام چاہے ہندو ہوں یا مسلمان ، سب مضطرب اور پریشان ہیں، خصوصاً جب بھی بھارت کے کسی صوبے میں الیکشن قریب ہوں تو ان کے دور میں الیکشن سے پہلے کوئی نہ کوئی دہشت گردی کا واقعہ ضرور ہو جاتا ہے ، جس سے بھارتی عوام یقین کی حد تک جان گئے ہیں کہ یہ بھارت اور مودی سرکار کا ہی سب کیا دھرا ہوتا ہے ، اس کے علاوہ کچھ نہیں ۔ 
حال ہی میں چونکہ صوبہ بہار کے الیکشن قریب ہیں تو ۲۲ ؍ اپریل ۲۰۲۵ ء کو مقبوضہ کشمیر کے علاقہ پہلگام میں دہشت گردی کا واقعہ کرایا جاتا ہے ، جس میں ۲۶؍ افراد مارے جاتے ہیں ۔ بھارت اس کا الزام پاکستان کے سر تھوپ دیتا ہے، حالانکہ پاکستان پر حملے سے صرف تین روز پہلے بھارتی وزیرِ خارجہ کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں خود تسلیم کیا تھا کہ پہلگام حملے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور کسی غیر ملکی عنصر کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود نہیں ۔ یہ اعتراف اس بات کی دلیل ہے کہ فوجی کارروائی قبل از وقت ، بے بنیاد اور بین الاقوامی قانون کے سراسر خلاف ہے ۔ اس ڈرامہ کاخود ساختہ ہونا اس سے بھی عیاں ہوتا ہے کہ یہاں چپے چپے پر فوج کی چوکیاں موجود ہیں ، لیکن اس واقعہ سے پہلے ان چوکیوں سے فوج کو ہٹا دیا جاتا ہے ، اس واقعہ کے دس منٹ کے اندر اندر ایف-آئی-آر پاکستان کے خلاف کٹ جاتی ہے ، جب کہ تھانہ جہاں یہ ایف-آئی-آر کاٹی گئی ، وہ اس جگہ سے تقریباً ۴۵ منٹ دور ی پر ہے۔ ان تمام شواہد سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ یہ واقعہ اور ڈرامہ خود نریندر مودی کی سرکار کا تخلیق کردہ ہے ، اسی لیے تو بھارت نے پہلگام ڈرامے کے ساتھ ہی پاکستان کے خلاف جنگ کا ماحول گرما دیا تھا اور مودی سرکار نے پاکستان کی سلامتی پر اوچھا وار کرنے کے ایجنڈے کے مطابق جنگی جنونی اقدامات اُٹھانے کے فیصلے شروع کر دیے تھے ۔
پاکستان نے پہلگام ڈرامے کا جھوٹا ہونا ثبوتوں کے ساتھ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ۔ پاکستان کی سیاسی اورعسکری قیادتوں نے بھارت سرکار کو دوٹوک الفاظ میں باور کرایا کہ اس کی شر انگیزیوں کے باوجود پاکستان علاقائی اور عالمی امن کی خاطر جنگ میں پہل نہیں کرے گا ، مگر اس کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا،لیکن بھارت نے آپریشن سندور کی شکل میں براہِ راست پاکستان پر حملہ کر دیا ۔ یہ عمل بین الاقوامی قوانین ، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور جنگی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی تھا ۔ پاکستان نے عالمی برادری کو موقع دیا کہ وہ بھارت کی اس اشتعال انگیزی کا نوٹس لے اور بھارت کو کٹہرے میں لائے ، لیکن افسوس کہ اقوامِ متحدہ ، امریکا اور دیگر ذمہ دار ممالک اور اداروںنے حسبِ روایت پاکستان جیسے ایک اسلامی ملک کی سلامتی کے بارہ میں ایک بار پھر مجرمانہ خاموشی اختیار کی ۔
 پاکستان نے بھارت کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ کو پیش کش کی کہ پاکستان غیر جانب دارانہ تحقیق کرانے پر راضی ہے، لیکن بھارت پر جنگی جنون سوار تھا، اس نے ۶ اور ۷ ؍مئی کی درمیانی رات پاکستان کے پانچ مقامات : بہاولپور ، مریدکے، مظفر آباد ، کوٹلی اور سیالکوٹ میں سویلین آبادی پرمیزائل داغے، جس کے نتیجے میں ۳۱ ؍معصوم شہری شہید ، پانچ مسجدیں اور سول عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ پاکستان نے اپنے دفاع میں اسی رات بھارت کے چھ جہاز مار گرائے، جن میں فرانس کے تیار کردہ تین رافیل جہاز بھی شامل ہیں ، جس پر بھارت کو بڑا گھمنڈ اور ناز تھا ۔ اس کے علاوہ ۲۴؍ گھنٹوں میں سو سے زائد ڈرون طیارے بھارت نے پاکستانی حدود میں بھیجے ، جن میں سے اسّی (۸۰) کے قریب پاکستان کے حاضر باش فوجی جوانوں نے ہدف پر پہنچنے سے پہلے مار گرائے۔ 
پاکستانی حکومت اور فوج نے تین دن بڑے تحمل ، برداشت اور بُردباری سے بھارت ، اقوامِ متحدہ اور دوسرےممالک سے ذمہ دارانہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ میں پہل بھارت نے کی ہے، ہماری مساجد، قرآن کریم ، اور بے گناہ سول شہریوں کو اس نے نشانہ بنایا ہے ، اور پاکستان بین الاقوامی قانون کے تحت اس کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس سے اگلی رات پھر بھارت نے کئی میزائل داغے ، جن میں سے ایک نور بیس راولپنڈی میں گرا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے بقول آرمی چیف جناب حافظ سید عاصم منیر نے صبح کے وقت مجھے فون کیا اور کہا کہ بھارت نے نور بیس پر میزائل سے حملہ کیا ہے ، آپ ہمیں جواب دینے کی اجازت دیں ، میں نے اجازت دی اور پاک فوج نے آپریشن ’’بنیانٌ مرصوصٌ ‘‘ کے نام سے بھارت کے ان تمام ٹھکانوںکو چُن چُن کر نشانہ بنایا ، جہاں جہاں سے پاکستان پر حملہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ پاکستان نے آپریشن ’’بنیانٌ مرصوصٌ‘‘ کا آغاز کرتے ہوئے بھارتی جارحیت پر جوابی کارروائی کی۔ پہلے حملے میں متعدد اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے ادھم پور ایئر پورٹ، پٹھان کوٹ، سرسہ، سورت گڑھ، برنالہ،بھٹنڈا اور سسرام ایئر فیلڈز، براہموس سٹوریج سائٹ، بھارتی بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کے جی ٹاپ اور اُڑی میں سپلائی ڈپو سمیت ۱۲ ؍اہداف کو تباہ کر دیا گیا ، جبکہ بھارتی وزارتِ دفاع نے ۲۶؍مقامات پر حملے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں بیاس کے علاقے میں براہموس میزائل کا ڈپو بھی شامل ہے۔ ایئربیس، ادھم پور اور پٹھان کوٹ میں ایئر فیلڈ کو بھی تباہ کر دیا گیا، ادھم پور ایئربیس کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ادھم پور ایئر فیلڈ سے پاکستان، امرتسر اور افغانستان پر میزائل داغے گئے تھے، بھارتی آرٹلری گن پوزیشن دہرنگیاری کو تباہ کر دیا گیا۔ بھٹنڈا سے پاکستان پر حملہ کرنے والے بھٹنڈا ایئرفیلڈ کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب سائبر اٹیک کے ذریعے بھارت کے ۷۰ فیصد بجلی کے گرڈز کو ناکارہ کر دیا گیا ، جس کے باعث ہندوستان پر اندھیرا چھا گیا۔ 
جنگ شروع ہوتے ہی یا تو یہ حالت تھی کہ امریکہ سمیت برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک نہ صرف یہ کہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے تھے ، بلکہ بھارت کو ہلہ شیری بھی دے رہے تھے کہ وہ کارروائی جاری رکھے اور ہم نہ صرف یہ کہ رکاوٹ نہیں بنیں گے ، بلکہ پاکستان کو دباؤ میں لانے میں ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ جب پاک فوج نے جوابی کارروائی شروع کی تو چند گھنٹوں میں سیز فائر کی آوازیں آنے لگیں ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق بھارت نے سیز فائر کے لیے امریکا ، برطانیہ ، سعودی عرب، حتیٰ کہ چین تک سے رابطہ کیا۔ پاکستان کی صرف دو شرطیں تھیں : مسئلہ کشمیر کا تصفیہ اور سندھ طاس معاہدہ پر عمل درآمد۔ امریکا نے پاکستان کو بتایا کہ بھارت ان شرائط پر آمادہ ہے ، اور ساتھ ساتھ امریکا دونوں ممالک سے وسیع پیمانے پر تجارت کے لیے بھی تیار ہے ، جس پر امریکی صدر نے بار بار کہا کہ میں نے تجارت کو جنگ بندی کے لیے استعمال کیا۔
 بھارت نے تو پاکستان کی جوابی کارروائی شروع ہوتے ہی کہہ دیا تھا کہ پاکستان اگر جنگ بندی پر آمادہ ہو جائے توہم بھی اس کے لیے تیار ہیں، لیکن پاکستان نے ان پر اعتماد نہیں کیا تھا اور اس کو بھی ایک جنگی چال کے طور پر لے رہا تھا ، لیکن سعودی عرب ، ترکی، آذربائیجان، امریکہ اور برطانیہ کی یقین دہانیوں پر یقین کیا اور سیز فائر کے لیے آمادہ ہوا۔ 
اس پاک بھارت جنگ میں دونوں ممالک نے کیا کھویا، کیا پایا؟ سرسری طور پر جو نتائج عوامی سطح پر نمودار ہوئے، وہ درج ذیل ہیں : 
1 : اس جنگ سے پہلے بھارت اپنے طور پر بھی اور بین الاقوامی رجحان کے مطابق بھی ایشیا میں طاقتور ملک تصور کیا جاتا تھا ، اس لیے کہ وہ ایک ارب چالیس کروڑ سے زائد آبادی والا ملک ہے اور وہ ایشیا کی بڑی تجارتی منڈی ہے، لیکن اس جنگ نے اس کے غبارہ سے ہوا نکال دی ۔ 
2 : اس جنگ سے پہلے بھارت دفاعی طور پر ایک مضبوط ملک خیال کیا جاتا تھا ، لیکن سب پر عیاں ہو گیا کہ وہ دفاعی طور پر کتنا کمزور ہے ۔ 
3 : فرانس سے رافیل طیارے لینے کے بعد بھارتی حکومت کا غرور آسمانوں کو چھو رہا تھا ، لیکن اس جنگ نے اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا ۔
4 : اس جنگ سے پہلے اسرائیل کو اپنے پارٹنر بھارت پر بڑا گھمنڈ تھا کہ ہم بھارت کے ذریعے پاکستان کو قابو کرلیں گے اور جھکا لیں گے ، لیکن بھارت نہ صرف یہ کہ خود شکست خوردہ ہوا، بلکہ اسرائیل کی اُمیدوں پر بھی پانی پھیر دیا ۔ 
5 : بھارت خود شکست خوردہ ہونے کے ساتھ ساتھ فرانس ، روس اور اسرائیل کی بھی ذلت اور رسوائی کا سبب بنا ، کیونکہ رافیل طیارے جو پاکستانی ہوا بازوں نے گرائے، وہ فرانس کے تیار کردہ تھے ، اسّی (۸۰) سے زائد جو ڈرون گرائے گئے وہ اسرائیل کے تھے، اور رافیل کے علاوہ بھی کچھ طیارے گرائے گئے، اسی طرح روس کا تیار کردہ بھارتی دفاعی سسٹم S-400 بھی تباہ کردیا گیا۔ میڈیا میں آیا کہ رافیل طیارے بنانے والی کمپنی کےشیئرز کافی حد تک گر گئے اور چینی کمپنی کے تیار کردہ جہاز جن سے پاکستانی ہوا بازوں نے رافیل جیسے طیاروں کو نشانہ بنایا ، ان کے شیئرز میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ اور چین کی اس کمپنی نے کہا کہ پاک بھارت جنگ میں ہماری کمپنی کی بہترین پبلسٹی ہوگئی اور اس سے ہماری کمپنی کو بہت فائدہ ہوا ۔ 
6 : اس پاک بھارت جنگ سے بھارتی حکومت پر لرزہ طاری ہے اور اسے اندرونی طور پر بغاوتوں کا اتنا خوف ستا رہا ہے کہ وہ کوئی بھی صحیح اور حقیقی خبر باہر نہیں آنے دے رہا۔ مقامی لوگوں پر قدغنیں اور بڑھا دی گئی ہیں۔
اس پاک بھارت جنگ میں پاکستان کو درج ذیل فوائد ہوئے : 
۱ : پاکستانی قوم جو تقسیم در تقسیم نظر آتی تھی ، الحمد للہ !اس پاک بھارت جنگ کے آثار شروع ہوتے ہی ان میں یکسوئی اور یک جہتی پیدا ہوگئی ، اور اس کے لیے دینی و مذہبی جماعتوں کی محنت اور کوشش نمایاں تھی، خصوصاً حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی ، جمعیت علمائے اسلام کے قائد حضرت مولانا فضل الرحمٰن اور حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن کا کردارسب سے زیادہ رہا۔ اس جنگ میں اللہ تعالیٰ نے پوری پاکستانی قوم کو یکجان کردیا اور سب نے کہا کہ بھارت نے جارحیت کی تو پاکستانی قوم اپنی افواج کے نہ صرف یہ کہ شانہ بشانہ ہوگی ، بلکہ فوجی نظم کے تحت ان سےایک قدم آگے جانے کے لیے بھی تیار ہے۔ 
۲ : پاکستان کا وقار پوری دنیا میں بلند ہوا، اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک پوسٹ میں ایک عرب بھائی کہہ رہا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں ہر جگہ مسلمانوں پر بمباری ، حملے اور خون ریزی کو دیکھا اور سنا ، یہ پہلی دفعہ ہوا کہ ایک مسلمان ملک نے ایک کافر ملک کو جواب دیا اور اس میں فاتح اور کامیاب رہا۔
۳ : اس جنگ سے ظاہر ہوگیا کہ پاکستانی افواج ، خواہ بری ہوں یا بحری یا فضائی ، اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے مالا مال اور دشمن کو جواب دینے کی مکمل اوربھر پور صلاحیت اور طاقت رکھتی ہیں۔ آج ہماری فضائی افواج کا شمار دنیا بھر کی فضائی افواج میں پہلے نمبر پر آگیا ہے۔ 
۴ : مسئلۂ کشمیر ؛ جو منظر سے پسِ پشت چلا گیا تھا اور خصوصاً بھارت نے دو تہائی اکثریت کی بنیاد پر اس کی متنازعہ حیثیت کو ختم کر کے بھارت کا حصہ بنا دیا تھا، اس جنگ کے نتیجے میں الحمد للہ ! وہ آج پہلے ایجنڈے پر آچکا ہے۔ امریکہ اس میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہو چکا ہے اور یہ پاکستان و اہلِ کشمیر کی بڑی فتح ہے۔
۵ : دنیا کو معلوم ہوگیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور اس کی سول قیادت ہو یا سیاسی اور فوجی قیادت، تحمل ، برداشت اور تدبیر و تدبر جیسی اعلیٰ صفات سے مزین اور آراستہ ہے۔ 
۶ : اس حالیہ جنگ میں بھارت کوایسے کاری زخم لگے جنھیں وہ چھپانے کی بظاہر کوشش تو کر رہا ہے، لیکن اندر ہی اندر وہ سسک رہا ہے، کیونکہ چھ لڑاکا طیاروں کی تباہی، بقول اس کے ۲۶ ؍سے زائد مقامات پر فوجی اڈوں کی تباہی، ریڈار سسٹم کی ناکامی ، ستر فیصد علاقے کا بجلی سے محروم ہونا ، یہ سب ایسے نقصانات ہیں جن کی قیمت شاید کئی اَرب ڈالر کی صورت میں اُسے بھگتنا پڑے گی ۔ 
۷ : بھارت کے میڈیا کی پوری دنیا میں ذلت اور رسوائی۔ بھارتی میڈیا نے جنگ کے دوران ایسی من گھڑت اور جھوٹی خبریں چلائیں کہ جن کا اعتبار کرنا ایک عام آدمی کے لیے بھی مشکل تھا ، چہ جائیکہ بیرنی دنیا اس پر اعتبار کرتی! آج پوری دنیا ان کی خبروں کو جھوٹ کا پلندہ کہہ رہی ہے اور بھارتی میڈیا ہے کہ وہ خود بھارتی لوگوں کے سوالوں کے جواب دینے کی بجائے منہ چھپائے پھر رہا ہے، اور آج ان کی خبروں پر خود بھارتی بھی اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔ 
۸ : کالم نگار جاوید چوہدری صاحب کے بقول: پاکستان ائیرفورس نے سات مئی کی صبح تین ریکارڈ قائم کیے:
1: دنیا کا پہلا رافیل بلکہ تین اکٹھے رافیل گرا دیے، جس سے رافیل طیاروں کے شیئرز گرگئے اور اس کی مارکیٹ ویلیو ختم ہو گئی۔ 2 :دوسرا ریکارڈ چینی طیارے جے ۱۰ سی سے رافیل گرانا تھا‘ چین نے جے ۱۰ سی ۲۰۰۳ءمیں بنایا تھا‘ یہ ۲۰۲۵ء تک کسی جنگ میں استعمال نہیں ہوا اور اس نے کوئی مخالف جہاز نہیں گرایا‘ پاکستان نے ۷ ؍ مئی کی جنگ میں جے ۱۰  سی استعمال کیا اور اس سے پہلا طیارہ گرایا اور وہ بھی دنیا کا بہترین فائیٹر جیٹ رافیل۔ 3 :اور تیسرا ریکارڈ پاکستان نے پہلی مرتبہ چینی میزائل پی ایل ۱۵  ؍استعمال کیے‘ یہ ۲۰۱۲ء میں بنے تھے اور یہ آج تک کسی جنگ میں ٹیسٹ نہیں ہوئے تھے‘ پاکستان نے یہ ٹیسٹ بھی کیے اور کمال کر دیا۔ 
۹ : آپ ۹؍ مئی کی رات یاد کریں، آپ کو سوشل میڈیا سے بھارت کے مختلف شہروں سے دھماکوں‘ میزائلوں اور ڈرونز پھٹنے کی خبریں ملی ہوں گی‘ یہ دھماکے ہمارے ہیکرز کا کمال تھا‘ انھوں نے بھارت کے ڈرونز اور میزائلوں کا رخ بھارت کی طرف موڑ دیا تھا اور یہ دھماکے اس کا نتیجہ تھا۔ 
۱۰ :پاکستان نے ثابت کردیا کہ وہ ٹیکنالوجی سے لے کر جنگی حکمتِ عملی تک کسی میدان میں پیچھے نہیں۔
۱۱ : پوری دنیا پاکستانی ہوا بازوں کی مہارت مان رہی ہے اور اس جنگ نے ثابت کیا کہ پاک فضائیہ فضائی دنیا میں بادشاہ ہے اور بھارت اُسے اس میدان میں بھی شکست نہیں دے سکتا، ان شاء اللہ۔
  الحمد للہ! پاکستانی قوم نے اپنی افواج کی بہادری اور جرأت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور افواج کے شانہ بشانہ لڑنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ۱۶؍ مئی ۲۰۲۵  بروز جمعہ ملک بھر کی تمام مساجد میں حکومت ، ریاست اور افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے بیانات ہوئے اور پورے ملک کی تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں بالخصوص وفاق المدارس العربیہ پاکستان ،جمعیت علمائے اسلام اور عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کی اپیل پرملک بھر میں ریلیاں نکالی گئیں اور جلسے جلوس کیے گئے۔ ادھر پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا، جس میں مکمل اتحاد واتفاق سے اپنی افواج کی صلاحیتوں پر اعتماد اور ان کی پشت پر کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا گیا، جس سے دشمن کو معلوم ہوگیا کہ پاکستانی قوم متحد ہے اور وہ اپنی مسلم افواج کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ 
آپریشن ’’ بنیانٌ مرصوصٌ ‘‘ کی شکل میں صرف پاکستان کی فوج ہی نہیں ، بلکہ پوری پاکستانی قوم نے حقیقتاً سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد و یکجا ہوکر وسائل و اسباب کے اعتبار سے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کی طاقت کا بھرم بھسم کر کے رکھ دیا، ذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء !
خلاصہ یہ کہ دہشت گردی کے سراسر جھوٹے الزام کے بہانے مودی حکومت نے پاکستان کو خوفناک جارحانہ فوجی کارروائی کا ہدف بنا کر بھاری نقصان پہنچانے کی جو سازش کی تھی ، اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت سے افواجِ پاکستان نے اس کا منہ توڑ جواب دے کر پوری دنیا میں بھارت کی رسوائی اور پاکستان کی سرخروئی کا سامان کر دیا۔ 
 اللہ تعالیٰ پاکستان کو تاقیامت قائم و دائم رکھے، پاکستان جس نظریۂ اسلام کی بنیاد پر بنایا گیا تھا ، اللہ تعالیٰ ہماری حکومت اور اربابِ اختیار کو اس کے نفاذ کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے کشمیری بھائیوں کو جلداز جلد آزادی کی نعمت نصیب فرمائے، ہمارے ملک پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی ہمیشہ حفاظت فرمائے، جس طرح آج بھارتی جارحیت کے خلاف پوری قوم متحد ومتفق ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ ہمیشہ اسے متحد اور متفق رہنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!

وصلّی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیّدنا محمّد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین !
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے