بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

پانی کا انتظام اور اُس کے فضائل!

پانی کا انتظام اور اُس کے فضائل!


اسلام نے بہت سے اعمال کو انسان کے لیے سعادت ونجات، بخشش ومعافی کا ذریعہ بنایا ہے، چنانچہ ان ہی میں سے ایک ’’پانی پلانا‘‘ بھی ہے۔ پانی انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ہے، انسان کیا ہر جاندار پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، اس لیے اسلام نے پانی پلانے کے عمل کی ترغیب دی ہے اور اس عمل میں بہت زیادہ اجر و ثواب اور ذریعۂ نجات سامان ہے۔
نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’جو کسی مسلمان کو بھوک کی حالت میں کھانا کھلائے، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے پھل اور میوے کھلائے گا، اور جو مسلمان کسی مسلمان کو پیاس کی حالت میں پانی (یا کوئی مشروب) پلائے، اللہ تعالیٰ اس کو نہایت نفیس(جنت کی ) شرابِ طہور پلائے گاجس پر غیبی مہر لگی ہوگی اورجو مسلمان کسی مسلمان کو عریانی کی حالت میں کپڑے پہنائے، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے سبزجوڑے عطا فرمائے گا۔‘‘  (ابوداؤد شریف)
طویل حدیث میں ہے کہ : ’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ چند باتوں کے بارے میں بندے سے سوال فرمائے گا، جن میں ایک یہ ہوگا کہ اے ابن آدم !میں نے تجھ سے پینے کے لیے پانی مانگا تھا، تونے مجھے پلایا نہیں، بندہ عرض کرے گا: میں آپ کو پانی کیسے پلاتا؟ آپ تو رب العالمین ہیں،آپ کو پینے سے کیا واسطہ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی پینے کے لیے مانگا تھا، تو نے اس کو نہیں پلایا، سن! اگر تو اس کو پانی پلاتا تو مجھے وہاں پاتا۔‘‘ (مسلم شریف)
اس حدیث میں پانی پلانے کو کس درجہ اہم ترین عمل بتایا گیا اور یہاں تک اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کسی پیاسے بندے کو پانی پلانا، یہ اللہ تعالیٰ کے قربِ خاص حاصل کرنے کا سبب ہوگا۔
پانی پلانا ایک بہت بڑی خدمت اور حصولِ ثواب کا ذریعہ ہے۔ عام طور پر لوگ اس کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے یا اس خدمت کو کوئی بڑی اور عظیم خدمت نہیں سمجھتے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پیاسوں کو پانی پلانا بھی بڑا کارِ ثواب ہے ۔اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ نے بہت سے اجر وثواب کے وعدے فرمائے ہیں اور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے پانی پلانے کی اہمیت اور ضرورت کو اپنے مختلف ارشادات میں بیان کیا ہے، پانی پلانے کی ترغیب دی اور انسانوں کو راحت پہنچانے کی تلقین فرمائی ہے۔
سیدنا انس  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’سات چیزوں کا اجر و ثواب بندے کو مرنے کے بعد قبرمیں بھی پہنچتا رہتا ہے۔ کسی کو علم سکھائے، نہر کھودے، کنواں کھودے، کھجور کا درخت لگائے، مسجد تعمیر کرائے، قرآن کریم کا نسخہ اپنے پیچھے چھوڑ کر جائے یا ایسی اولاد چھوڑے جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے مغفرت کی دعا کرے۔‘‘ (الترغیب والترہیب)
سیدنا ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :
’’پانی پلانے سے بڑھ کر ثواب والا صدقہ کوئی نہیں ہے۔‘‘ (الترغیب والترہیب)
امام قرطبی  رحمۃ اللہ علیہ  بعض تابعین عظام w کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: ’’ جس کے گناہ زیادہ ہوں وہ لوگوں کو پانی پلائے، تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو معاف کر دیا جس نے ایک کتے کو پانی پلایا تھا تو اللہ اس شخص کو کیسے معاف نہیں کرے گا جو ایک موحد مومن کو پانی پلائے۔‘‘                    (تفسیر قرطبی)
مولانا منظور نعمانی  رحمۃ اللہ علیہ  اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ: ’’بعض اوقات ایک معمولی عمل دل کی خاص کیفیت یا خاص حالات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑی قبولیت حاصل کرلیتا ہے اور اس کا کرنے والا اسی پر بخش دیا جاتا ہے،اس حدیث میں جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اس کی نوعیت بھی یہی ہے۔‘‘ (معارف الحدیث)
جس وقت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لائے، وہاں میٹھے پانی کی بڑی قلت تھی، بئرِ رومہ کے علاوہ کوئی کنواں نہ تھا جس سے میٹھا پانی حاصل کیا جاتا، اس موقع پر نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’جو کوئی بئرِ رومہ کو خرید کر مسلمانوں کے لیے عام کردے، اس کو جنت میں اس سے بہتر ملے گا۔‘‘ جب یہ بات حضرت عثمان غنی  رضی اللہ عنہ  کو پہنچی تو انہوں نے پینتیس ہزار درہم میں اس کو خرید لیا، پھر نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آئے اور عرض کیا: مجھے بھی وہی ملے گا جو آپ نے اس شخص کے لیے فرمایا تھا؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ہاں! عثمان  رضی اللہ عنہ  نے عرض کیا: میں نے اس کو مسلمانوں کے لیے عام کردیا۔‘‘ (حضرت عثمانؓ، شخصیت اور کارنامے)
صاف، میٹھا اور ٹھنڈا پانی پلانے سے پیاسے انسان کو بہت راحت ملتی ہے اور یہی پانی تلخی اور پیاس میں بہت عمدہ بھی لگتا ہے،اس لیے پانی پلانے میں اس کا بھی اہتمام کرنا چاہیے کہ جس سے پینے والوں کو راحت بھی ملے اور سخت گرمی میں سکون بھی حاصل ہو۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کوٹھنڈا پانی پسند تھا، حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں کہ : ’’آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو پینے میں ٹھنڈا اورمیٹھا پانی محبوب تھا، اسی لیے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے لیے اس کااہتمام بھی کیا جاتا تھا۔‘‘                                                        (ترمذی شریف)
سیدنا عرباض بن ساریہ  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ : ’’میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب بندہ اپنی بیوی کو پانی پلاتا ہے تو اس کو اجر ملتا ہے۔‘‘ عرباض بن ساریہ  رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں: پس میں اُٹھا اور اپنی بیوی کو پانی پلایا اور اسے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی یہ حدیث سنائی۔                   (مسند احمد)
حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو  رضی اللہ عنہما  سےروایت ہے کہ : ’’ایک شخص رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آیا اور کہا: میں اپنے تالاب میں پانی بھرتا ہوں تو جس وقت میں اُسے اپنے اونٹوں کے لیے بھر دیتا ہوں تو اتنے میں کسی دوسرے کا اونٹ آ جاتا ہے اور میں اسے بھی پانی پلا دیتا ہوں تو کیا مجھے اس کا ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’ہر پیاسے جاندار کو پانے پلانے سے ثواب ملتا ہے ۔‘‘            (الترغیب والترہیب)
ایک روایت کے لفظ ہیں : ’’جو کھود کر پانی نکالے گا تو جو بھی جاندار اور پیاسا جن، انسان یا پرندہ اس سے پیے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُسے اس کا ثواب دے گا۔‘‘                (الترغیب والترہیب)
انسان کو پانی پلانا تو بہت اجر وثواب کا باعث ہے ہی، اسی طرح جانوروں کو بھی پانی پلانا اتنا بڑاکارِ ثواب ہے کہ یہ عمل انسان کے لیے نجات وبخشش کا ذریعہ و سبب بن جاتا ہے، جیسا کہ حدیث مبارک میں پیاسے کتے کو پانی پلانے پر مغفرت کا ذکر موجود ہے۔
علی بن حسن بن شقیق  رحمۃ اللہ علیہ  بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے امام عبداللہ بن مبارک  رحمۃ اللہ علیہ  سے اپنے زخم کے متعلق سوال کیا جو سات سال سے اس کے گھٹنے میں تھا جس سے خون رس رہا تھا، اس شخص نے کہا: میں نے کافی اطباء سے رجوع کیا، لیکن اِفاقہ نہیں ہوا ۔ امام صاحب نے کہا: کسی ایسی جگہ پر کنواں کھدوا دے جہاں لوگوں کو پانی کی ضرورت ہے، مجھے اُمید ہے کہ اِدھر پانی کا چشمہ پھوٹ نکلے گا اُدھر تیرا خون رک جائے گا۔ پس اس شخص نے امام صاحبؒ کے مشورے پر عمل کیا اور اس کا خون رک گیا ۔ (سیر أعلام النبلاء)
 پانی پلانا اور اس کا انتظام کرنا صدقہ جاریہ ہے، جس کا ثواب مرنے کے بعد انسان کو ملتا رہتا ہے۔ نلکا، ٹینکی، کنواں، ٹیوب ویل وغیرہ کی شکل میں غریبوں اور ناداروں کے لیے پانی کا انتظام کرنا مرحومین کے ایصالِ ثواب اور اُن کے لیے اجرِ عظیم ہے۔ انسان کی پانی کی ضروریات کی تکمیل نہایت اجروثواب اور بلندیِ درجات کا باعث ہے۔ نہ صرف انسانوں کو پانی پلانا اجروثواب، رضائے خدا اور دخولِ جنت کا ذریعہ ہے، بلکہ پیاسے جانوروں کے لیے پانی کا نظم کرنا بھی ثواب اور ذریعۂ نجات ہے۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے