بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

ٹیوبولر احرام پہننے کا حکم

ٹیوبولر احرام پہننے کا حکم

سوال

ایک خاص قسم کا احرام آج کل رائج ہو رہا ہے، جسے ’’ٹیوبولر احرام‘‘ (Tubular Ihram) کہا جاتا ہے، اس میں نیچے پہننے والی لنگی ایک گول (tube نما) کپڑے کی شکل میں ہوتی ہے، یعنی اس کے دونوں کنارے آپس میں ملے ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ سلا ہوا محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ عام سلے ہوئے کپڑوں (جیسے شلوار یا پاجامہ) کی طرح نہیں ہوتا، بلکہ کمپنی کی جانب سے اُسے اِسی ساخت میں تیار کیا جاتا ہے۔ کیا یہ احرام پہننا جائز ہے؟ نیز بعض لوگ اس لنگی کو جسم کا ناف سے اوپر والا حصہ ڈھکنے لیے یعنی چادر کی جگہ پر بھی استعمال کرتے ہیں۔ کیا یہ جائز ہے؟ برائے کرم راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں احرام کے لیے کھلی ہوئی چادریں استعمال کی جاتی تھیں، جب کہ سلا ہوا یا بدن کے مطابق تیار کردہ لباس استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔ اس قسم کے لباس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی تھی۔
’’ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، بیان فرماتے ہیں کہ : ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ: مُحرِم ( حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والا) کیا کپڑے پہن سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: (حالتِ احرام میں) نہ تو کرتا، قمیص پہنو اور نہ سر پر عمامہ اور نہ شلوار پاجامہ پہنو اور نہ سرپوش پہنو اور نہ پاؤں میں موزے پہنو، سوائے اس کے کہ کسی آدمی کے پاس پہننے کے لیے چپل جوتا نہ ہو تو وہ (مجبوراً پاؤں کی حفاظت کے لیے) موزے پہن لے اور ان کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ کے جوتا سا بنالے (آگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حالت احرام میں) ایسا بھی کوئی کپڑا نہ پہنو جس کو زعفران یا ورس لگا ہو۔‘‘                       (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
محدثین فرماتے ہیں کہ: اس حدیث میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اُن کپڑوں کا ذکر فرمایا جو اُس زمانے میں رائج تھے۔ اصل ممانعت اُن کپڑوں سے ہے جو بدن کے مطابق سلے ہوں۔ اس لیے یہی حکم ہر اُس لباس پر لاگو ہوتا ہے جو بعد کے زمانوں میں یا مختلف قوموں میں انہی مقاصد کے لیے استعمال ہو، جن مقاصد کے لیے قمیص، شلوار یا عمامہ استعمال کیے جاتے تھے۔
لہٰذا احرام کی لنگی ایسی ہونی چاہیے کہ اس کے دونوں کنارے (پاٹ) الگ الگ ہوں، یعنی وہ عام چادر یا کپڑے کی شکل میں ہو، جسے لپیٹا جاتا ہے، اس لیے بلا ضرورت ایسی لنگی استعمال نہیں کرنی چاہیے جس کے دونوں پاٹ پہلے سے جُڑے ہوئے ہوں۔ تاہم اگر کسی کو احرام کی عام چادر پہننے میں ستر کھلنے کا اندیشہ ہو، تو اس کے لیےمذکورہ ٹیوب نما احرام کی لنگی (جو کہ جسم یا اعضاء کی ساخت کے مطابق [جیسے شلوار] سلی ہوئی نہیں ہے) استعمال کی گنجائش ہے، اس صورت میں کوئی دم لازم نہیں آئے گا، البتہ جسم کا اوپر والا حصہ ڈھکنے کے لیے اس ٹیوب نما لنگی کا استعمال درست نہیں۔
’’صحيح مسلم‘‘ میں ہے:
’’عن ابن عمر رضي اللہ عنہما أن رجلا سأل رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: ما يلبس المحرم من الثياب؟ فقال رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: لا تلبسوا القمص، ولا العمائم، ولا السراويلات، ولا البرانس، ولا الخفاف، إلا أحد لايجد النعلين، فليلبس الخفين، وليقطعہما أسفل من الکعبين، ولا تلبسوا من الثياب شيئًا مسہ الزعفران ولا الورس۔‘‘ (کتاب الحج، باب ما يباح للمحرم بحج، أو عمرۃ، وما لا يباح، وبيان تحريم الطيب عليہ، ج:۴، ص:۲، ط:دار الطباعۃ العامرۃ)
اس حدیث کے تحت ’’شرح النووي علی مسلم‘‘ میں ہے:
’’وأجمع العلماء علی أنہ لا يجوز للمحرم لبس شيء من ہٰذہ المذکورات وأنہ نبہ بالقميص والسراويل علی جميع ما في معناہما وہو ما کان محيطا أو مخيطا معمولا علی قدر البدن أو قدر عضو منہ کالجوشن والتبان والقفاز وغيرہا ونبہ صلی اللہ عليہ وسلم بالعمائم والبرانس علی کل ساتر للرأس مخيطا کان أو غيرہ حتی العصابۃ، فإنہا حرام، فإن احتاج إليہا لشجۃ أو صداع أو غيرہما شدہا ولزمتہ الفديۃ ونبہ صلی اللہ عليہ وسلم بالخفاف علی کل ساتر للرجل من مداس وجمجم وجورب وغيرہا وہٰذا کلہٗ حکم الرجال۔‘‘ (کتاب الحج، باب ما يباح للمحرم بحج، أو عمرۃ، وما لا يباح، وبيان تحريم الطيب عليہ، ج:۸، ص:۷۳، ط:دار إحياء التراث العربي)
’’امداد الفتاویٰ‘‘ میں ہے:
’’سوال: احرام باندھنے میں سیاہ کپڑا یا گیرو سے رنگا ہوا کپڑا یا کسی دوسری چیز سے رنگا ہوا پہننا جس میں کوئی خوشبو نہ ہو جائز ہے یا نہیں؟
دوسرے کوئی ازار یا چادر جو کہ کم عرض ہونے کی وجہ سے دو پاٹ کرکے پہن لی جاوے اسی حالت میں احرام میں تو اس واسطے کیا حکم ہے؟
الجواب: في الدر المختار، باب الإحرام: (ولبس إزار)... (ورداء) ...(جديدين أو غسيلين طاہرين) أبيضين ککفن الکفايۃ، وہٰذا بيان السنۃ الخ۔
في رد المحتار: (قولہ: وہٰذا) أي لبس الإزار والرداء علی ہٰذہ الصفۃ بيان للسنۃ وإلا فساتر العورۃ کاف فيجوز في ثوب واحد وأکثر من ثوبين وفي أسودين أو قطع خرق مخيطۃ أي المسماۃ مرقعۃ والأفضل أن لا يکون فيہا خياطۃ لباب.‘‘

اس سے معلوم ہو ا کہ سفید ہونا جامۂ احرام کا مستحب ہے، ورنہ سیاہ وغیرہ بھی جس میں خوشبو نہ ہو جائز ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ گو افضل یہی ہے کہ اس میں بالکل سلائی نہ ہو، لیکن اگر دونوں پاٹوں کے جوڑنے کو سلائی کی جاوے تب بھی جائز ہے۔‘‘( باب الاحرام، ج:۲، ص:۱۹۵، ط: مکتبہ دار العلوم، کراچی)
’’فتاویٰ رحیمیہ‘‘ میں ہے:
’’سوال: احرام کی چادر لنگی کی طرح سلی ہوئی ہو تو اس کے استعمال کی گنجائش ہے یا نہیں؟ بعض لوگوں کو کھلی چادر بطورِ لنگی استعمال کرنے کی عادت نہیں ہوتی تو ستر کھلنے کا اندیشہ ہوتا ہے، خاص کر سونے کی حالت میں، تو کیا یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے؟
ج: ستر کھلنے کا اندیشہ ہو تو احرام کی چادر سی لینے کی گنجائش ہے، بلاضرورت سینا مکروہ ہے۔ 
’’غنیۃ الناسک‘‘ میں ہے: 
’’عقد الإزار والرداء بأن یربط طرف أحدہما بطرف الآخر و أن یخللہ بخلال أو یشدہٗ بحبل ونحوہ۔‘‘ (غنیۃ الناسک، ص:۴۷، فصل في مکروہات الإحرام ومحظوراتہ التي لأجزاء فیہا سوی الکراہۃ)     (احرام سے متعلق احکامات، ج:۸، ص:۷۵، ط: دارالاشاعت)
’’معلم الحجاج‘‘ میں ہے:
مسئلہ: تہبند کے دونوں پلوں کو آگے سے سینا مکروہ ہے، اگر کسی نے سترِ عورت کی خاطر حفاظت کی وجہ سے سی لیا تو دم واجب نہ ہوگا۔
مسئلہ: چادر میں گرہ دے کر گردن پر باندھنا، چادر اور تہبند میں گرہ لگانا یا سوئی اور پن وغیرہ کا لگانا، تاگے یا رسی سے باندھنا مکروہ ہے۔‘‘                   (مکروہاتِ احرام، ص:۱۲۰، ط:مکتبہ تھانوی)‘‘
 

فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر :144701101333

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے