بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

ولیمہ اورنکاح کی مشترکہ دعوت  اور ولیمہ کا مسنون وقت

ولیمہ اورنکاح کی مشترکہ دعوت  اور ولیمہ کا مسنون وقت


سوال

ہماری بیٹی کی شادی کی تقریبِ نکاح اور ولیمہ مشترکہ کرنے کا ارادہ ہے، اس تقریب کی دعوت دولہا اور دلہن دونوں کے خاندانوں کی جانب سے تمام مدعوین کو دی جائے گی، اور جملہ عزیزوں اور احباب کی دعاؤں میں اس نئے خاندان کی بنیاد رکھی جائے گی ،یہ ارادہ موجودہ حالات کے پیش نظر اور کفایت کی غرض سے کیا ہے؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ یہ مشترکہ تقریب اور کفایت کی یہ کوشش دینی نقطۂ نظر سے مناسب ہے؟    والسلام

جواب

واضح رہے کہ نکاح میں سنت یہ ہے کہ مرد کی طرف سے پہلی مرتبہ شبِ زفاف کے بعد ولیمہ کی دعوت کا اہتمام ہو، چنانچہ حضور اقدس  صلی اللہ علیہ وسلم  سے شبِ زفاف کے بعد ولیمہ کرنا ثابت ہے، جیسا کہ صحیح بخاری(ج: ۲، ص: ۷۷۶، باب الولیمۃ) میں اس کی صراحت موجود ہے، اس لیے ولیمہ کا مسنون وقت زفاف کے بعد ہے، تاہم نکاح کے بعد کسی بھی وقت یعنی رخصتی سے پہلے یا بعد میں دعوتِ نکاح تو منعقد ہو جائے گی، مگر رخصتی سے پہلے جو کھانا کھلایا جائے گا، اس سے ولیمہ کے مسنون وقت کی سنت ادا نہیں ہوگی، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سنت یہی ہے کہ مرد کی طرف سے شبِ زفاف کے بعد حسبِ استطاعت صرف سنت دعوتِ ولیمہ کا ہی اہتمام کیا جائے، تاہم اگر لڑکی والے بھی خوشی کے موقعہ پر بلا جر واِ کراہ کسی سماجی دباؤ کے بغیر لڑکے والوں کے ساتھ مل کر کھانا کھلانا چاہیں تو اس کی مناسب صورت یہی ہے کہ ایسی مشترکہ تقریب شبِ زفاف کے بعد منعقد کی جائے، تاکہ ولیمہ کی سنت ادا ہو جائے۔ حدیث مبارکہ میں ہے:
’’عن أنس رضي اللہ عنہ أن النبي صلی اللہ عليہ وسلم رأی علٰی عبد الرحمن بن عوف أثر صفرۃ فقال : ماہٰذا؟ قال : إني تزوجت امرأۃ علی وزن نواۃ من ذہب، قال : بارک اللہ لک، أوْلِمْ ولو بشاۃٍ۔‘‘ (مشکوۃ المصابيح، باب الوليمۃ : ۲۷۷)
’’إعلاء السنن‘‘ میں ہے:
’’وحديث أنسؓ في ہٰذا الباب صريح في أنہا أي الوليمۃ بعد الدخول الخ۔‘‘ (إعلاء السنن، ج: ۱۱، ص:۱۱، ط: إدارۃ القرآن)
فتویٰ نمبر : 8767-1434

دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے