بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

وقت کے تقاضے اور بسنت

وقت کے تقاضے اور بسنت

صوبہ پنجاب میں ۲۵ سال بعد بسنت پر عائد پابندی اُٹھالی گئی، حکومتی سرپرستی اور حکومتی ترغیب و تحریص کی بنا پر فروری ۲۰۲۶ء کے پہلے عشرے میں پنجاب بالخصوص لاہور میں یہ تہوار منایا گیا اور اس کے اختتام پر قوم کو یہ مژدہ بھی سنایا گیا کہ آئندہ پنجاب کے دوسرےشہروں میں بھی اس کی اجازت دی جائے گی۔ اس تہوار کے حامی اسے اگرچہ موسمِ بہار کے ساتھ جوڑتے ہیں اور برِصغیر کا قدیم ثقافتی تہوار قرار دیتے ہیں، لیکن محقق تاریخ دان ابو ریحان البیرونیؒ کی تصنیف ’’ کتاب الہند‘‘ کے مطابق یہ ہندو مت کا مذہبی تہوار ہے۔
بسنت کا جو بھی پس منظر ہو، اسلامی تعلیمات کے ساتھ یہ میل نہیں کھاتا، کیوں کہ اس موقع پر ہونے والی فضول خرچیاں، مرد و زن کا بے محابا اختلاط اور بے ہودہ لہو و لعب کسی بھی اعتبار سے اسلامی تعلیمات سے میل نہیں کھاتا، یہ موقع ہو یا کوئی اور، مرد و زن کا اختلاط اور ناچ گانا جائز نہیں ہے، اور بہت سے غیر شرعی شنیع امور کا سبب و ذریعہ ہے ، اس لیے اس سے بچنا ضروری ہے ۔ حضرت ابوہریرہرضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: ’’کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی اور فضول باتوں کو چھوڑ دے۔‘‘ :
’’عَنْ أبِيْ ہُرَيْرَۃَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم: مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْـمَرْءِ تَرْکُہٗ مَا لَا يَعْنِيْہِ.‘‘(سنن الترمذي، کتاب الزہد عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث: ۲۳۱۷)
بہرحال! یہ فیصلہ افسوس ناک ہے، بالخصوص ایسے موقع پر جب ہمارا ملک اندرونی دہشت گردی کا شکار ہے اور صوبہ بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں فوج اور پولیس کے جوان مادرِ وطن کی بقا، عوام کے تحفظ اور ملک میں امن کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، آج اگر ہم سُکھ اور چَین کا سانس لے رہے ہیں اور دشمن کی اعلانیہ جنگ سے محفوظ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور ظاہری اسباب میں افواجِ پاکستان کی غیرمتزلزل قربانیوں اور مضبوط فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ مئی ۲۰۲۵ء میں ہم دشمن کے ناپاک عزائم دیکھ چکے ہیں ، الحمد للہ ہماری افواج نے دشمن کو ہر محاذ پر پسپا ہی نہیں کیا، بلکہ دنیا کے سامنے ہمارا دشمن روسیاہ بھی ہوا، اب وہ در پردہ ہماری بنیادوں کو کھوکھلا کرکے، ملک کا امن تباہ کرکے خاکم بدہن اپنے منصوبوں کی تکمیل چاہتا ہے۔ اسلام آباد میں امام بارگاہ کے اندر نمازِ جمعہ کے دوران دہشت گردی کا دل خراش سانحہ بھی ایسے ہی موقع پر پیش آیا ہے، جس میں کئی بے گناہ جانیں چلی گئیں، اس لیے ایسے موقع پر تو ضرور ان تمام خرافات اور فضولیات سے اجتناب کرنا انتہائی ضروری تھا، لیکن افسوس کے سوا کیا کیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو سمجھ بوجھ عطا فرمائے، انہیں ملک و ملت کے مفاد پر مبنی فیصلوں کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے، ملک دشمن عناصر کی سازشوں اور چالوں کو ناکام فرمائے، فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے جوانوں اور عوام کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور آئندہ ہر قسم کے سانحات سے ملک اور قوم کو محفوظ رکھے، اور حکومت و اَربابِ اقتدار کو اس سلسلے میں درپیش مشکلات سے نجات عطا فرمائے، ان کے فیصلوں کو صائب کرکے ان کی دست گیری فرمائے، آمین یا رب العالمین !

وصلّی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیّدنا محمّد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین!
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے