بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

وضعِ حدیث (حدیث گھڑنے) کی ابتدا  اور دور ِصحابہ  رضی اللہ عنہم  میں اُس کی روک تھام کی کوششیں 

وضعِ حدیث (حدیث گھڑنے) کی ابتدا 

اور دور ِصحابہ  رضی اللہ عنہم  میں اُس کی روک تھام کی کوششیں 


تمہید

حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذات گرامی‘ صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  اور کفارِ مکہ کے درمیان کئی نسبتوں کی حامل تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کفّارِ مکہ کے درمیان صادق و امین، فیصل و ثالث، اور وفاء عہد جیسی کئی اہم نسبتوں سے متّصف ومعروف تھے۔
اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کے درمیان بھی حضور پر نور  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ہستی مبارک کئی نسبتوں کی حامل تھی، لہٰذا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم  اور رسولِ خدا ہونے کے ساتھ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  ان کے استاذ و معلم بھی تھے، مربی و مرشد بھی تھے،تمام انسانوں سے زیادہ محبوب تھے، نمونۂ حیات اور اُسوۂ حسنہ بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا قول و فعل ان کے لیے ان کی زندگی میں جزء ترکیبی کی حیثیت رکھتا تھا، جس کے لیے وہ اپناسب کچھ قربان کرنے کو تیار رہا کرتے تھے، لہٰذا جب یہ حال تھا کہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے قول و فعل کو شریعت کا جزء بنا لیا جاتا، جس کی گواہی خود اللہ تبارک وتعالیٰ نے بھی دی کہ: 
’’وَ مَآ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰىکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا‘‘  (۱)
ترجمہ: ’’اور رسول تم کو جو کچھ دے دیا کریں وہ لے لیا کرو اور جس چیز (کے لینے ) سے تم کو روک دیں (اور بعمومِ الفاظ یہی حکم ہے افعال اور احکام میں بھی ) تم رُک جایا کرو ۔‘‘
 ایک ادنیٰ انسان بھی اپنی طرف جھوٹی بات کی نسبت کو برداشت نہیں کر سکتا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذات گرامی جو اتنی نسبتوں اور اہمیتوں کی حا مل ہیں، یہ کس طرح گوارہ کریں گے کہ ان کی اَن کہی بات کو ناپاک مقاصد کے پیشِ نظر ان کی طرف منسوب کرکے شریعت کا جزء بنالیا جائے، چنانچہ آنے والے زمانے میں اس خطرے کو محسوس کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’إِنَّ کذبا عليَّ ليس ککذبٍ علٰی أحدٍ‘‘(۲) یعنی ’’مجھ پر جھوٹ بولنا (سنگینی کے اعتبار سے )کسی عام شخص پر جھوٹ باندھنے جیسا نہیں ہے۔‘‘
بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وعید کے طور پر فرمایا :’’من کذب عليّ متعمّداً فليتبوّأ مقعدہٗ من النّار‘‘ (۳) یعنی’’ جس نے مجھ پر افتراء بازی کی تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنّم بنا دے۔‘‘ 
 ان ارشادات کا مقصد یہ تھا کہ کوئی بدنیت انسان اپنی کہی ہوئی بات کی تشہیر و ترویج کے لیے اور اس کو شریعت کا جزء بنانے کی فاسد نیت سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف منسوب نہ کرے۔اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی احتیاط کے پہلوؤں کو اختیار کرتے ہوئے صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  کو حفظِ حدیث کی بھی ترغیب دی، اور حدیث کو پہنچانے میں الفاظ کے تغیر و تبدیلی سے حفاظت کی بھی ترغیب دی،ارشاد فرمایا: 
’’نَضَّرَ اللہُ امْرَاً سَمِعَ مَقَالَتِيْ فَوَعَاہَا وَحَفِظَہَا وَبَلَّغَہَا‘‘ (۴)
ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ تروتازہ رکھے اس شخص کو جس نے میری بات سنی، پھر اس کی حفاظت کی اور اسے یاد کیا اور پھر اس کو آگے پہنچایا۔‘‘ 
اور ایک روایت میں ہے کہ : ’’فَبَلَّغَہٗ کَمَا سَمِعَ‘‘ کہ’’ بغیر کسی تبدیلی کے اس کو آگے پہنچا دیا۔‘‘

خلافتِ راشدہ اور کبار صحابہؓ کے دور میں نقدِ روایات
 

جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا وصال ہوا، اور خلافتِ راشدہ کا دور شروع ہوا تو حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی رضی اللہ عنہم  اور بہت سے صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  کثرت سے احادیث کے حافظ ہونے، اور صدق و امانت اور خیر القرون کا زمانہ ہونے کے باوجود روایت ِحدیث میں انتہا درجہ کی احتیاط فرماتے تھے،جس کی بنیادی وجہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے وہی ارشادات گرامی تھےجو روایتِ حدیث میں کمالِ احتیاط پر مبنی تھے،لہٰذا صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  نے اس کے پیش نظر نقد ِحدیث کے لیے اور روایت کی جانچ پرکھ کرنے کے لیے مختلف ذاتی معیارات بھی منتخب کیے تھے اور عمومی معیارات وضع کیے تھے، مثلاً: روایت کا نصوصِ قرآنیہ، اور قواعدِ دینیہ سے موازنہ کیا جاتا، اگر موافقت ہوتی تو حدیث کو قبول کر لیا جاتا، ورنہ رد کردیتے، جیسے حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  نے فاطمہ بنتِ قیس  رضی اللہ عنہا  سے مروی روایت کو قرآن کے مخالف ہونے کی بنا پر رد کردیا، جب ان کے سامنے فاطمہ بنت قیس  رضی اللہ عنہا  کی روایت آئی، جس میں ذکر ہے کہ ان کے شوہر نے ان کو تین طلاقیں دیں اور حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کے لیے شوہر پر نہ ہی رہائش کو لازم فرمایا اور نہ ہی نان ونفقہ مقرر فرمایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے فرمایا: ’’ماکنّا نترک کتاب اللہ وسنّۃ نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم لقول إمرأۃ، لاندري لعلہا حفظت أم نسیت، لہا السّکنیٰ والنّفقۃ، قال اللہ تعالیٰ: لَا تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُيُوْتِہِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفٰحِشَۃٍ مُّبَيِّنَۃٍ‘‘
ترجمہ: ’’ہم قرآن وسنتِ نبوی کو کسی عورت کی کہی ہوئی بات کی وجہ سے نہیں چھوڑیں گے، جس کے بارے میں یہ علم نہیں کہ وہ اس بات کو یاد رکھ پائی ہے یا بھول چکی ہے، لہٰذا اس کے لیے سکنیٰ ونفقہ ہوگا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ’’ان عورتوں کو ان کے (رہنے کے) گھروں سے مت نکالو، اور نہ وہ عورتیں خود نکلیں، مگر ہاں کوئی کھلی بے حیائی کریں۔‘‘ (۵)
اسی طرح حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا  نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کی حدیث: ’’إن الميّت لَيُعَذَّبُ ببکاء أہلہٖ‘‘ یعنی(یقیناً مردے کو ان کے اہل وعیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا) کو نصِ قرآن کے مخالف ہونے کی بنا پر رد کیا اور فرمایا: ’’حسبکم القرآن‘‘. قال اللہ تعالی: اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی‘‘ (۶)
اس طرح احتیاط کے لیے ذاتی طور پربھی نقدِ روایت کےلیےکئی صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  نے معیارات وضع کیے تھے، مثلاً: حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  اور حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  نے روایت کی توثیق کے لیے یہ معیار مقرر کیا کہ وہ راوی سے اس کی روایت پر شاہد اور مؤیّد طلب کیا کرتے تھے، جیسے : حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کے سامنے ایک بڑھیا کے لیے میراث کا فیصلہ آیا، تو فرمایا : ’’میں اس کے بارے میں کتاب اللہ میں کوئی حکم نہیں پاتا، اور نہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے حوالہ سے کوئی فیصلہ پاتا ہوں۔‘‘ پھر لوگوں سے پوچھنے پر حضرت مغیرہ بن شعبہ  رضی اللہ عنہ  نے فرمایا کہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مذکورہ صورت میں ’’سدس‘‘ (چھٹا حصہ) عطا فرمایا ہے، حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  نے اس وقت اُن سے فرمایا: ’’ہل معک أحد؟‘‘ یعنی تمہارا کوئی تائید کنندہ ہے؟ تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ  نے گواہی دی، تب ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  نے فیصلہ صادر فرمایا۔ (۷)
اسی طرح جب حضرت ابو موسیٰ اشعری  رضی اللہ عنہ  نے حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  کو یہ روایت سنائی: ’’إذاستأذن أحدُکم ثلاثاً فلم يؤذن لہٗ فليرجع‘‘ یعنی (جب تم میں سے کسی ایک نے تین مرتبہ اجازت طلب کی اور اس کو نہ مل سکی تو اس کو چاہیے کہ وہ لوٹ جائے ) تو حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  نے اس پر گواہ طلب کیا، پھر حضرت ابی بن کعب  رضی اللہ عنہ  نے حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  کے پاس جا کر ان کے حق میں گواہی دی،تب انہوں نے روایت کو قبول فرمایا۔ (۸)
حضرت علی  رضی اللہ عنہ  نے یہ معیارمقرر فرمایا تھاکہ وہ راوی سے اس کے سماع پر قسم لیا کرتے تھے کہ اس نے حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  سے یہ روایت سنی ہے، خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ  نے ذکر کیا ہے: 
’’عن علي بن أبي طالب قال: کنت إذا سمعت من النبي صلی اللہ علیہ وسلم حديثاً نفعني اللہ بما شاء منہ، وإذا حدثني غيري عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم لم أرض حتی يحلف لي أنہ سمعہ من النبي صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘
ترجمہ :’’حضرت علی  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں :جب میں (براہِ راست )حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  سے کوئی حدیث سنتا تو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق مستفید ہوتا، اور جب کوئی اور مجھے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی حدیث سنا تا تو میں اس وقت تک اس پر راضی نہیں ہوتا جب تک وہ قسم نہ کھا لیتا کہ اس نے یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنی ہے ۔‘‘(۹)
بہر حال اس دور میں ذخیرۂ حدیث اور شریعت کی اس اَساس کی مختلف طریقوں سے حفاظت کی گئی، کسی نے کتابتِ حدیث سے، کسی نے کثرتِ روایت سے، اور کسی نے قلّتِ حدیث میں حفاظت کا پہلو جان کر اپنا حصہ ڈالا۔

وضعِ حدیث کے ابتدائی مراحل

حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ  کے دور ِآخر میں جوقرنِ اول کے دوسرے ثلث کا ابتدائی زمانہ تھا، ان کی شہادت کا المناک واقعہ پیش آیا، اور اُمتِ مسلمہ میں مختلف فرقِ ضالّہ کا وجود اور ظہور ہونا شروع ہوا، اور ہر ایک اپنی آراء وافکار کی تائید ودفاع کی آڑ میں اپنی رائے کو ہی دین سمجھ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف اس کی نسبت کرنے لگا، جس کی وجہ سے ذخیرۂ حدیث اور شریعت کی اس اَساس و بنیاد پر وضعِ حدیث کی اصطلاح کی صورت میں ایک نیا فتنہ اُبھر کر سامنے آیا،اور’’ مختار ثقفی‘‘ جیسے زنادقہ کے کوفہ اور دوسرے شہروں میں ظہور سے اس میں خاصی شدت آئی، جس نے اُمتِ مسلمہ کے لیے پُر خطر صورت اختیار کی، پھر بعد کی صدیوں میں اس فتنے نے کبھی آہستگی اور کبھی سرعت رفتاری کے ساتھ بدعت اور فتن کے بڑھنے کے باعث کثرتِ موضوعات کی صورت اختیار کی، یہاں تک کہ ایک ایک راوی حدیث کے نام پر کئی کئی مجموعے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف منسوب کرکے وضع کرلیا کرتا تھا، خلیفہ محمد مہدی کہتے ہیں: 
’’أقرّ عندي رجل من الزنادقۃ أنہ وضع أربع مائۃ حديث، فہي تجول في أيدي الناس۔‘‘ 
ترجمہ: ’’ میرے پاس زنادقہ میں سے ایک شخص نے چار سو احادیث گھڑنے کا اعتراف کیا، وہ احادیث لوگوں کے درمیان گردش کر رہی ہیں۔‘‘
دوسرا واقعہ حماد بن زید  رضی اللہ عنہ  کاہے، ان کا بیان ہےکہ:
’’وضعت الزنادقۃ علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أربعۃ عشر ألف حديث۔‘‘(۱۰)
ترجمہ: ’’ زنادقہ نے حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف تقریباً چودہ ہزار احادیث گھڑکر منسوب کیں۔‘‘
اور اس نوعیت کے مختلف اسباب کے تحت احادیث کو گھڑ لیا جاتا تھا، زمانے کے آگے بڑھنے اور بدلنے کے ساتھ یہ اسبا ب مختلف ہوتے گئے، صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  کے زمانہ میں زنادقہ کا مقصد، دین میں تخریب کاری تھا، اسی طرح ہر فرقہ کے وضعِ حدیث کا مقصد،احادیث کے ذریعہ سے اپنے افکار کی تائید اور ترویج و تشہیر ہوا کرتی تھی، اور بعد کی صدیوں میں بھی کبھی ترغیب و ترہیب اور کبھی دنیا کی لالچ ملحوظ ِنظر ہوا کرتی۔

وضعِ حدیث کے ابتداء زمانہ میں اختلاف

بہرکیف! اس بات کا یقینی علم تو مؤرخین کو نہیں ہو سکا کہ متعین واقعہ کی طرف اور کس متعین شخصیت کی طرف وضعِ حدیث کی ابتدا کی نسبت ہوئی ہے ؟ اس بنا پر آج بھی اس بارے میں مختلف آراء ہیں، تفصیل حسب ذیل ہے: 
پہلا قول: وضع حدیث اور کذب علی الرسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ابتدا کو حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس ارشاد ’’من کذب علي متعمدا فليتبوأ مقعدہٗ من النار۔ الحدیث‘‘ کے شانِ ورود کی طرف منسوب ہے، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانے میں ہی وضع حدیث کے کسی واقعہ کے پیش آنے کے وقت آپ نے ارشاد فرمایا ہوگا،جیسے امام ابن الجوزی  رضی اللہ عنہ  نے ’’الموضوعات ‘‘(ص:۱/۵۵) میں مختلف طرق سے اس سے متعلق ایک واقعہ ذکر کیا ہےکہ ایک آدمی مدینہ منورہ کے اطراف میں ایک قوم کے پاس آکر کہنے لگاکہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مجھے تمہارے بارے میں اور تمہارے اموال کے بارے میں اپنی رائے سے فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے،اور اس نے زمانۂ جاہلیت میں ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا تھا جس کو اس کے گھر والوں نے مسترد کردیا تھا، پھر اس نے جاکر اس عورت کے ہاں پڑاؤ ڈالا، لوگوں نے حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس اس کے متعلق پیغام بھیجا، تو حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے،اور پھر ایک صحابیؓ کو یہ فرما کر بھیجا کہ اگر اس کو زندہ پاؤ تو قتل کردو،اور اگر مردہ پاؤ تو جلا دینا،وہ صحابیؓ گئے تو اس کو مرا ہوا پاکر آگ میں جلادیا۔اس موقع پر حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے۔‘‘ (۱۱)
دوسرا قول:  وضعِ حدیث کی ابتدا ’’مختار ثقفی‘‘ کے کوفہ میں ظہور سے ہوئی اور یہی پہلی شخصیت ہے جس نے لوگوں کو اور بعض نام نہاد محدثین کو وضع حدیث جیسے رکیک عمل پر آمادہ کیا، یہ قرنِ اول کے ثلثِ اخیر کا زمانہ تھا، اس قول کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جسے علامہ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ  نے ’’الموضوعات‘‘ میں اپنی سند کے ساتھ ذکر کیا ہے: ’’قال المختار لرجل من أصحاب الحديث: ضع لي حديثاً عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم، إني کائن بعدہٗ خليفۃ وطالب لہ۔۔۔۔۔‘‘ (۱۲)
ترجمہ: ’’مختار ثقفی نے ایک شخص سے یہ حدیث وضع کرنے کا کہا کہ میں حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد خلیفہ ہوں، (اور آگے ہے کہ) اس کے بدلے یہ دس ہزار درہم اور سامان، سواری، اور خادم ہے۔اس آدمی نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف یہ بات منسوب نہیں کر سکتا، البتہ کسی بھی صحابیؓ کی طرف منسوب کرکے اس کا قول وضع کر لوں گا، اور اس کا معاوضہ کم دے دو، مختار ثقفی نے کہا : ’’عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم أوکد۔‘‘ اس شخص نے کہا: ’’والعذاب أشدّ۔‘‘ یعنی ’’اگر حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف منسوب کرنے میں زیادہ تاکید ہے تو عذاب بھی اتنا ہی سخت ہے۔‘‘
بہرحال اس شخص نے اگرچہ قبول تو نہیں کیا، لیکن کم از کم اس بات کا علم ضرور ہو جاتا ہے کہ یہ مختار ثقفی اس سلسلے کا محرِک تھا،اور اسی کے درپے رہا کرتا تھا، اور اس سے نہیں تو کسی اور آدمی سے ضرور حدیثیں وضع کرائی ہوں گی، لہٰذا اس کی طرف وضعِ حدیث کی ابتدا کومنسوب کیا جا سکتا ہے۔
تیسرا قول:وضعِ حدیث کی ابتدا حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ  کے قتل کے المناک واقعہ پیش آنےکے بعد سے ہوئی؛ کیونکہ اس کے بعد خوارج و روافض جیسےفرقِ ضالہ کا ظہور ہوا، جو کذب و افتراء علی الرسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کا سبب بنا ہے۔
اور اس قول کی تائیدحضرت ابن عباس  رضی اللہ عنہما ، اور ابن سیرین  رحمۃ اللہ علیہ  کی روایات سے بھی ہوتی ہے،ابن سیرین  رحمۃ اللہ علیہ  کی روایت ہے : 
’’لم يکونوا يسألون عن الإسناد، فلما وقعت الفتنۃ، قالوا: سموا لنا رجالکم، فينظر إلی أہل السنۃ فيؤخذ حديثہم، وينظر إلی أہل البدع فلا يؤخذ حديثہم.‘‘ (۱۳)
ترجمہ: ’’صحابہ  رضی اللہ عنہم  سند کے حوالے سے سوال نہیں کیا کرتے تھے، البتہ جب فتنوں کا ظہور ہوا تو پھر وہ کہنے لگے: ہمیں اپنی روایات کے رجال کی شناخت کراؤ، تاکہ جو اہلِ سنت میں سے ہو تو اس کی روایت کو قبول کر لیا جائے اور بدعتی کی روایت کو نہ لیا جائے۔‘‘
ابن عباس  رضی اللہ عنہ  کی روایت ہے: 
’’إنّا کنّا نحدّث عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا لم يکن يکذّب عليہ، فلما رکب الناس الصّعب والذّلول ترکنا الحديث عنہ.‘‘ (۱۴)
ترجمہ:’’ ہم حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کی نسبت حدیثیں بیان کیا کرتے تھے،لیکن جب لوگ ہر قسم کی سواریوں پر سوار ہونے لگے (یعنی ہر رطب و یابس بات نقل کرنے لگے) تو ہم نے (احتیاطاً) حدیث بیان کرنا چھوڑ دیا۔‘‘
مذکورہ روایات کے پیش نظر یہ راجح معلوم ہوتا ہے کہ وضعِ حدیث کی ابتدا اگرچہ کم اور غیر منظم ہی سہی، لیکن قتلِ عثمان  رضی اللہ عنہ  کے نتیجے میں پیش آنے والے فتن اور فرقِ ضالہ کا ظہور ہوا جس سے زنادقہ کو دین میں تخریب کاری کرنے کا بہترین موقع میسر ہوا، جیسےابن سیرینؒ کی روایات میں صراحت ہے، البتہ یہ ضرور ہے کہ اگلے دور میں ابن سبا اور مختار ثقفی اور دوسرے زنادقہ کے دور میں اس کی ترویج و تشہیر ہوئی۔ اور یہی وجہ تھی کہ یہ سمندر یہاں تھما نہیں، بلکہ جب جب علماء کا فقدان ہوتا گیا، علمی مجالس کی رونقیں مدہم ہوئیں، اور اس کے نتیجے میں شریعت کے احکام کے لیےغیر معتبر مراجع کی طرف رجوع ہوا، اور ہر طرح کےکھرے کھوٹے کو لیا جانے لگا، جس کا نقشہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے کھینچا ہے: 
’’إن اللہ لا يقبض العلم إنتزاعاً ينتزعہٗ من الناس، ولکن يقبض العلم بقبض العلماء، حتی إذا لم يبق عالماً إتخذ الناس رؤوساً جہالاً، فسئلوا فأفتوا بغير علم، فضلوا وأضلوا۔‘‘ (۱۵)
ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں (کے سینوں )سے اچک کر ختم نہیں کریں گے، بلکہ علم کو علماء کے مفقود کرنے سے ختم کرلیں گے، اور جب کوئی عالم نہیں رہے گا تو لوگ جاہل سر داروں پر لپک پڑیں گے، جب ان سے سوال کیا جائے گا اور وہ جہالت پر مبنی فتویٰ دیں گے تو خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔‘‘
بہر حال! اسی صورت حال کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان ضعیف جھوٹی اور من گھڑت احادیث کی ترویج ہوئی، جس سے انسانیت کے اہم ترین انقلابی عہد کا معتبر ترین ذخیرہ داغدار ہونے کے قریب ہوا،لیکن اللہ تعالیٰ نے چونکہ بذات خود اس وحی شریعت کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے، جس کا ذکر قرآن کریم میں فرمایا ہے :
’’إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا  لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ۔‘‘ (۱۶)
ترجمہ:’’ ہم نے قرآن نازل کیا ہے اور ہم اس کے محافظ ( اور نگہبان) ہیں ۔‘‘
لہٰذا ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے ایسے رجال کار اس اُمت کو عطا فرمائے، جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کرکے اور احادیث کی خدمت کرتے ہوئے ہر صحیح و سقیم، کھرے کھوٹے میں فرق کرکے ایک طرف مفسدینِ دین اور زنادقہ کے ہر پتھر کا بدلہ چٹان سے دیا، وہیں دوسری طرف اُمتِ مرحومہ کی بہت بڑی گمراہی سے حفاظت کی، جیسے علامہ خطیب بغدادی ( رحمۃ اللہ علیہ ) نے ’’الکفايۃ في علم الروايۃ‘‘ میں عبد اللہ بن المبارک  رحمۃ اللہ علیہ  کے حوالہ سے نقل کیا ہے :
’’قيل لابن المبارک:ہٰذہ الأحاديث المصنوعۃ؟ قال: یعيش لہا الجہابذۃ.‘‘ (۱۷)
ترجمہ: ’’جب ابن مبا رکؒ سے موضوع و مصنوع احادیث کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا : اس کے لیے تو کھرے کھوٹے کو پرکھنے کے ماہرین زندہ ہیں۔‘‘
اسی طرح حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے: 
’’يحمل ہٰذا العلم من کل خلف عدولہٗ، ينفون عنہ تحريف الغالين، وانتحال المبطلين، وتأويل الجاہلين.‘‘  (۱۸)
ترجمہ: ’’اس علم کو اگلی نسل کے ایسے انصاف پسند اہلِ علم اُٹھائیں گے، جو غلو کرنے والوں کی تحریفات، اہلِ باطل کے غلط انتسابات اور جاہلوں کی غلط تاویلات کی بیخ کنی کریں گے۔‘‘
اور پھر گزر تے وقت کے ساتھ ساتھ وضعِ حدیث میں شدت کے بالمقابل محدثین اور ان رجال کار ائمہ کرامؒ نے بھی اپنے صحابہ کرامؓ کے دور سے ہی حصولِ علم اور روایت ِ حدیث میں احتیاط کے لیے علمی اسفار کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، جس کی بنا پر وضّاعین کی گرفت کی جاتی تھی، بعد کے زمانہ میں خاص احادیثِ موضوعہ کو بھی تالیف و تصنیف کرکے باقاعدہ جمع کیا گیا، جس کی بنا پر بہت سارا ذخیرۂ ِموضوعات اُمت کے سامنے پیش کیا گیا، جیسے: ’’الموضوعات لابن الجوزي‘‘، ’’ تذکرۃ الموضوعات لأبیِ الفضل محمد بن طاہر المقدسي‘‘،’’ کتاب الموضوعات من الاحادیث المرفوعات لأبي عبد اللہ الجوزقاني ‘‘، ’’اللآلي المصنوعۃ في الأحادیث الموضوعۃ للسیوطي‘‘، اور ان کے علاوہ بہت ساری کتابیں ہیں، جن میں ذخیرۂ موضوعات کو صحیح احادیث سے الگ کرکے یکجا جمع کیا گیا۔ (۱۹)

خاتمہ
 

محدثین کی انہی خدمات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم ذخیرہ اور وحیِ شریعت کی حفاظت فرمائی، لہٰذا یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ ذخیرۂ حدیث جس طرح وضعِ حدیث سے پہلے قابلِ اعتماد تھا،آج بھی صحابۂ کرام  رضی اللہ عنہم  اور محدثین کی خدمات کی بنا پر اسی طرح قابل اعتماد ہے،اور تخریب کاروں اور مفلوج ذہنوں سے متاثر ہونے کی وجہ سے اس میں کسی قسم کے کوئی شک و شبہ کرنے کی گنجائش نہیں ر ہی۔ 
ہماری ذمہ داری ہے کہ ذخیرۂ حدیث کی حفاظت کی خاطر معتبر احادیث کی اشاعت اور موضوع روایات کی روک تھام میں اپنی وسعت کے مطابق کردار ادا کریں۔
اللہ تعالیٰ ہماری صلاحیتوں کو اس کارِ خیر کے لیے قبول فرمائیں، آمین! 

 حواشی وحوالہ جات

۱- سورۃ الحشر، الآيۃ (۷)
۲-مقدمۃ مسلم، باب:تغليظ الکذب علی الرسول: ۱/۵۷، رقم الحديث (۵)، ط:مکتبۃ البشری
۳-مقدمۃ مسلم، باب:تغليظ الکذب علی الرسول: ۱/۵۵،رقم الحديث (۴)، ط:مکتبۃ البشری
۴-سنن الترمذي، باب ما في الحث علی تبليغ السماع، ص:۲/۹۴، ط:قديمي کتب خانہ
۵-صحيح مسلم، باب:المطلقۃ البا ئن النفقۃ لہا، ص:۲/۹۷۹،رقم الحدیث (۳۷۰۹)، ط: مکتبۃ البشری
۶-صحيح مسلم، کتاب الجنائز، ص:۱/۶۱۷، رقم الحدیث (۲۱۵۰)، ط:مکتبۃ البشری
۷- سنن أبي داؤد، باب في الجدۃ، ص:۲/۵۳، رقم الحديث (۲۸۹۴)، ط: مکتبۃ رحمانيۃ
۸-سنن أبي داؤد، باب:کم مرۃ يسلم الرجل في الإستيذان، ص:۲/۳۶۳، رقم الحدیث (۵۱۸)، ط: مکتبۃ رحمانيۃ
۹-الکفايۃ في علم الروايۃ للخطيب البغدادي، ص(۳۸)، ط:مؤسسۃ الرسالۃ
۱۰-الموضوعات لإبن الجوزي، ص:۱/۳۸، ط:دار الفکر
۱۱- الموضوعات لإبن الجوزي، ص:۱/۳۸، ط:دار الفکر
۱۲-الموضوعات لإبن الجوزي، ص:۱/۳۹، ط:دار الفکر
۱۳-مقدمۃ مسلم، باب:بيان أن الإسناد من الدين، ص:۱/۶۲، رقم الحديث (۲۷)، ط:مکتبۃ البشری
۱۴-مقدمۃ مسلم، باب:النہي عن الروايۃ عن الضعفاء والإحتياط في تحملہا، ص:۱/۶۰، رقم الحديث (۱۹)، ط: مکتبۃ البشری
۱۵-صحيح مسلم، باب:رفع العلم وقبضہ، ص:۳/۱۶۳۴، رقم الحديث(۶۷۹)، ط: مکتبۃ البشری
۱۶-سورۃ الحجر : ۹
۱۷-الکفايۃ في علم الروايۃ للخطيب البغدادي، ص:۴۸، ط:مؤسسۃ الرسالۃ
۱۸-التمہيد لابن عبد البرؒ، باب معرفۃ المرسل والمسند والمنقطع والمتصل، ص:۱/۷۰، ط:دار إحياء التراث العربي
۱۹-الرسالۃ المستطرفۃ للکتاني، ص:۱۴۸، ط:دار البشائر الإسلاميۃ 

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے