بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

نقدونظر، تبصرہ وتعارف

نقدونظر، تبصرہ وتعارف

سیرتِ خاتم الانبیاء  صلی اللہ علیہ وسلم    [جدید اسلوب میں](اسباق کی تقسیم اور مشقوں کے ساتھ)

مؤلف: حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ ۔ ترتیب جدید: مولانا محمد ارسل کوہاٹی (استاذ ندوۃ التحقیق الاسلامی، کوہاٹ)۔ صفحات: ۲۷۵۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر:مکتبۃ السنان، کوہاٹK.P.K۔ رابطہ نمبر: 03355743887
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   کی سیرت و حیات مسلمانوں کے لیے اُسوہ اور نمونہ ہے۔ اس موضوع پر بلاشبہ لاکھوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں ، بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ یہ وہ موضوع ہے جس پر دنیا بھر میں سب سے زیادہ کتابیں لکھی گئی ہیں تو مبالغہ نہ ہوگا۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’سیرتِ خاتم الانبیاء  صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ ایک مختصر کتاب ہے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کی جامع سوانح عمری ہے ، اس کے مؤلف سابق مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ  ہیں جنہوں نے تقریباً ایک صدی پہلے یہ کتاب تالیف کی تھی۔  اُس وقت کے اکابر میں سے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ  اور حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ  ودیگر اکابر نے کتاب کی افادیت و اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے نصاب میں داخل کرنے کی تجویز دی تھی۔ یہ کتاب ہمارے ہاں معروف اور متداول ہے، مختلف مدارس کے نصاب میں شامل رہی ہے۔ مختصر وقت میں سیرت کی مختصر کتاب کا مطالعہ کرنے کے لیے یہ کتاب اولین انتخاب ہوسکتی ہے۔ چونکہ یہ کتاب کئی مدارس میں درساً پڑھائی جاتی ہے، اس کی درسی افادیت کو سامنے رکھتے ہوئے جامعہ بنوری ٹاؤن کے فاضل جناب مولانا محمد ارسل کوہاٹی صاحب نے اس کتاب کو ترتیب جدید کا جامہ پہناکر نصابی کتاب کی شکل دی ہے۔ ترتیبِ جدید میں جن امور کا خیال رکھا گیا ہے، ان سے متعلق مُرتب ’’عرضِ مرتب‘‘ کے ذیل میں ’’ترتیب جدید‘‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں:
’’سب سے پہلے پوری کتاب کو ۲۶ ؍اسباق میں تقسیم کیا گیا ہے۔
ہر سبق کے آخر میں اس سبق میں مذکور مشکل الفاظ کے معانی دیے گئے ہیں۔
ہر سبق کے آخر میں چار مشقیں دی گئی ہیں اور کوشش کی گئی ہے کہ اس سبق کی اہم باتوں کا ان میں اِحاطہ ہوجائے، تاکہ طالب علم کو وہ باتیں اَزبر ہوجائیں۔پہلی مشق میں ہر جملے کے آخر میں چار الفاظ دیے گئے ہیں، ان میں سے درست لفظ کا انتخاب کرکے خالی جگہ پُر کرنی ہے۔
دوسری مشق میں بعض جملوں میں رد وبدل کی گئی ہے، تاکہ طالب علم صحیح اور غلط کی پہچان کرکے درست جواب یاد کرلے۔ 
تیسری مشق میں کالم الف کے جملوں کے بقیہ حصوں کی کالم ب میں ترتیب دی گئی ہے، تاکہ طالب علم خود درست جملہ بناسکے۔
چوتھی مشق میں چند سوالات دیے گئے ہیں، جن کو حل کرکے طلباء نے یاد کرنا ہوگا۔
 اللہ تعالیٰ سے قوی اُمید ہے کہ مبتدی طلباء کو اس ترتیب پر کتاب پڑھانے اور حل کرانے سے انہیں سیرت کی اہم اہم باتیں یاد ہوجائیں گی۔ ‘‘
سیرتِ طیبہ سے مناسبت پیدا کرنے کے لیے بچوں کو اس ترتیب جدید سے کتاب پڑھانا ان شاء اللہ انتہائی مفید ثابت ہوگا ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مؤلف اور مرتب کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائے اور مسلمانوں کو اس کتاب سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے، آمین
کتاب کا کاغذ ہلکااور جلد کا گتّا کافی کمزور ہے۔ اُمید ہے اگلے ایڈیشن میں اس کتاب کے شایانِ شان کاغذ اور جلدی بندی کا اہتمام کیا جائے گا۔ 

شعورِ دین

تالیف: مولانا عبدالمنان معاویہ ۔ صفحات:۲۵۴۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: دارالتصنیف، الٰہ آباد، تحصیل لیاقت پور، ضلع رحیم یار خان۔ رابطہ نمبر:03042070754
زیرِتبصرہ کتاب ’’شعورِ دین‘‘ اسلامی ، اصلاحی اور تاریخی موضوعات پر پندرہ مضامین کا مجموعہ ہے۔ مؤلف نے ان مضامین کے تحریر کرنے کا مقصد خود یوں بیان کیا ہے:
’’عرض یہ ہے کہ بڑے ہی سادہ لفظوں میں ہم نے اپنا مدعا آپ کے سامنے رکھ دیا ہے اور ان مضامین کو تحریر کرنے کا محرک صرف اور صرف یہ حدیث مباکہ: ’’عن تمیم الداریؓ أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: الدین النصیحۃ۔ قلنا: لمن؟ قال: للہ ولکتابہ ولرسولہ ولأئمۃ المسلمین وعامتھم۔‘‘ ، ’’سیدنا تمیم الداری  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: دین خیرخواہی کا نام ہے، ہم نے پوچھا: کس کی خیرخواہی؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، ائمہ مسلمین کی، اور عام مسلمانوں کی۔ ‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، رقم الحدیث:۱۹۶) بس اسی حدیث مبارکہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم نے یہ علمی و اصلاحی مضامین ترتیب دیے ہیں، تاکہ اس مجموعہ کے قاری کو دینِ اسلام کو سمجھنے اور اس سمجھ پر عمل کرنے میں آسانی ہو اور اگر اس کتاب کے قاری نے دین پر عمل اس کتاب کی وجہ سے کرلیا تو ہم اپنی کاوش میں کامیاب ہیں۔ ‘‘
کتاب کے بنیادی پندرہ مضامین کے عنوانات درج ذیل ہیں:
۱-دعوتِ دین، طریقہ اور تقاضے۔ ۲-وحدتِ اُمت کا اسلامی نظریہ۔ ۳- مواخاتِ اسلامی کا فلسفہ وحکمت۔ ۴-ارکانِ اسلام، اہمیت وفضیلت۔ ۵-ایمان کی حقیقت۔ ۶-اسلام کا نظامِ زکوٰۃ۔ ۷-صومِ رمضان کا مقصد اور فرضیت۔ ۸- اسلام میں علم کی اہمیت۔ ۹-اسلام کا معاشرتی نظام۔ ۱۰-اسلام میں رزقِ حلال کی اہمیت وفضیلت۔ ۱۱-والدین کے حقوق، سورۂ بنی اسرائیل کے تناظر میں۔ ۱۲- اولاد کی تربیت، سورۂ لقمان کے تناظر میں۔ ۱۳- اصلاحِ نفس انسانی، سورۃ الحجرات کی روشنی میں۔ ۱۴- دورِ حاضر کی معاشرتی برائیوں کا سدِ باب، ’’سورۃ العصر‘‘ کے تناظر میں۔ ۱۵- اپنا حصار کیجیے!۔
کتاب پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہےکہ مؤلف نے مضامین کا مواد جمع کرنے میں کافی محنت کی ہے اور تمام آیات و احادیث اور واقعات باحوالہ نقل کیے ہیں۔ چونکہ مقصد دعوت و تبلیغ ہے، اس لیے انداز ناصحانہ اور مشفقانہ ہے۔ تمام افکار اور نتائج مدلل ہیں، دلائلِ نقلیہ اور عقلیہ سے خوب کام لیا گیا ہے۔ فتنوں سے بھرپور اور پر خطر دور میں یہ کتاب عقائد اور اعمال سے متعلق قاری کی بہترین دینی رہنمائی کرتی اور دینی شعور عطا کرتی ہے۔ بعض فروعی مسائل سے متعلق بھی کتاب میں عمدہ ابحاث ہیں۔ 
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف کے اخلاص اور دردِ دل کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو اصلاح اور دینی راہنمائی کا ذریعہ بنائے ۔ 
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے