
جمع وترتیب: مولانا محمد حنیف عبدالمجید صاحب و مولانا حماد حسین صاحب۔ صفحات: ۴۲۷۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: مکتبہ بیت العلم، فدا منزل، نزد مقدس مسجد، اردو بازار، کراچی۔ رابطہ نمبر: 03222583199
دعا اللہ تعالیٰ کی ایک خاص عبادت ہے، بلکہ حدیث میں اُسے ’’مخّ العبادۃ‘‘ (عبادت کا مغز)کہا گیا ہے۔ دعا کے مفہوم اور آداب کا تقاضا اور قبولیت کی شرط یہ ہے کہ مکمل توجہ اوراستحضار کے ساتھ مانگی جائے، کیونکہ حدیث شریف میں ہےکہ اللہ تعالیٰ غافل دل کی دعا قبول نہیں کرتا۔ دعا محض پڑھنے اور رَٹّا لگانے کی چیز نہیں ہے، دعا تو مانگنے کی چیز ہے۔ اصل دعا وہ ہے جس کا مانگنے والا اپنے منہ سے ادا کیے ہوئے الفاظ کا مطلب بھی جانتا اور سمجھتا ہو، اُسے یہ معلوم ہو کہ میں اپنی زبان سے پڑھی جانے والی دعا میں مانگ کیا رہا ہوں۔ اسی سوچ اور فکر کی روشنی میں یہ کتاب مرتب کی گئی ہے۔ قارئین کو دعا کے آداب اور تقاضے سمجھائے گئے ہیں۔ مختلف مواقع کی مسنون دعاؤں کا ترجمہ اور تشریح کرکے اُس موقع کی مناسبت سے آداب و احکام بتائے گئے ہیں۔ اِفادیت کے لیے ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ چند آداب ملاحظہ فرمائیں: ۱- مکمل توجہ اور مقصود کو مدِنظر رکھ کر دعا مانگی جائے،۲ - حلال کمانا اور حلال کھانا، حرام سے بچنا، ۳- عبادت یا خدمت کے بعد دعا مانگنا۔ ۴- دعا کی قبولیت کے یقین کے ساتھ دعا مانگنا،۵- بے قراری کے ساتھ دعا مانگنا، ۶- اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور درود شریف کے ساتھ دعا مانگنا، وغیرہ۔
کتاب میں کل ۱۶۸ دعائیں مذکور ہیں، جن کو بنیادی اور مرکزی عنوانات کے اعتبار سے چھ ابواب پر تقسیم کیا گیا ہے: پہلا باب: گھر، سفر، کھانے، مجلس اور سوتے وقت کی دعائیں۔ دوسرا باب: صبح وشام کی دعائیں۔ تیسرا باب: اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی دعائیں۔ چوتھا باب: بیماری سے متعلق دعائیں و اذکار۔ پانچواں باب: نیند سے بیدار ہونے اور اس کے بعد کی دعائیں۔ چھٹا باب: نماز سے متعلق دعائیں۔
کتاب معنوی خوبیوں کے ساتھ ظاہری خوبیوں سے بھی مزین ہے، کاغذ اعلیٰ، سیٹنگ بہترین، طباعت دو رنگہ، جلد مضبوط اور ٹائٹل دیدہ زیب ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کتاب کا نفع عام فرمائے ، قارئین کو زیادہ سے زیادہ استفادہ کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین۔
مؤلف: مفتی خالد محمود صاحب(استاذ الحدیث آسٹریلیا مسجد، لاہور) ۔صفحات: ۹۶۔ قیمت:درج نہیں۔ ناشر:جامع مسجد محمدی، رحمان گلی نمبر:۳، نشترروڈ، لاہور۔ رابطہ نمبر: 03214093108
زیرِ تبصرہ کتاب ایک اہم مالی عبادت اور حکمِ شرعی ’’عُشر‘‘ سے متعلق ہے۔ کتاب میں زکوٰۃ و عُشر کا لغوی و شرعی مطلب ومفہوم بیان کرنے کے بعد ان کی اہمیت و فرضیت اور شرعی اور فقہی اعتبار سے عُشر کے اہم اہم مسائل بیان کیے گئے ہیں۔کتاب میں مذکور بنیادی اور مرکزی عنوانات درج ذیل ہیں: زکوۃ، قرآن حکیم اور عُشر، عُشر کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی برکات اور اس سلسلہ میں کچھ واقعات، عُشر کے تین پہلو، ثواب ہی ثواب، تاریخِ عشر، مسائلِ عُشر، عُشری زمینیں، عُشر کے مستحق کون ہیں؟، عُشر کی ادائیگی سے متعلق متفرق مسائل، کھیت، باغات اور پھلوں کی حفاظت وبرکت کے وظائف۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے، زراعت سے متعلق ایک اہم عبادت عُشر ہے، جس سے کسان اور زمیندار طبقہ کافی حد تک غفلت کا شکار ہے، کتاب کی ضرورت و اہمیت اس سے سمجھ آسکتی ہے، خاص کر کسانوں اور زمینداروں کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے مسلمان کسان بھائیوں کو اس عبادت و فریضہ کی اہمیت ، اس کے شرعی مسائل کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
کتاب کا کاغذ اعلیٰ، طباعت دو رنگہ، سیٹنگ بہترین اور جلد مضبوط اور ڈسٹ کورکے ساتھ ہے۔
مرتب: مولانا سہیل باوا صاحب زید مجدہٗ (لندن)۔ صفحات: ۲۳۲۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: ختمِ نبوت اکیڈمی، لندن۔ رابطہ نمبر: 03333346875 03352102186
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اولوا العزم انبیاء میں سے ایک جلیل القدر پیغمبرہیں۔ قرآن کریم اور احادیثِمبارکہ کی رو سے قیامت کی ایک خاص نشانی ہیں۔ ویسے تو ہر نبی نے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت دی ہے، مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف بشارتِ محمدی کی صفت کو خاص طور پر قرآن کریم میں یوں بیان فرمایا: ’’وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ م بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ ‘‘، یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی خاص صفات میں ایک صفت یہ بیان کی کہ میں اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت دینے والا ہوں جن کا نامِ نامی اسم گرامی ’’احمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ہے۔ واضح رہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام ذاتی ہیں : ایک محمد ، دوسرا احمد۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دیگر امتیازی خصوصیات کے ساتھ ایک خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو زندہ آسمان پر اُٹھالیا اور قربِ قیامت وہ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ یہ عقیدہ اِجماعی اور متفق علیہ ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعینؒ، مفسرینؒ، محدثینؒ، ائمہ کرامؒ، فقہاء کرامؒ، اور تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے اور اس پر ایمان لانا فرض ہے۔ اس عقیدہ کا منکر کافر ہے۔ اس عقیدہ میں تاویل کرنا زیغ وضلال اور کفر و اِلحاد ہے، اس عقیدہ میں کسی قسم کی تاویل کی گنجائش نہیں ہے۔
اسی عقیدہ سے متعلق ایک استفتاء ختمِ نبوت کے عالمی مبلغ حضرت مولانا سہیل باوا صاحب کی طرف سے پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک کے ممتاز دینی مدارس بشمول دارالعلوم دیوبند اور جامعہ بنوری ٹاؤن اوردیگر اداروں کے دارالافتاء کو بھیجا گیا، اس استفتاء کے جوابات کو زیرِتبصرہ کتاب میں جمع کردیا گیا ہے۔ یہ تمام فتاویٰ مستند اہلِ افتاء کے ہیں۔ یہ ایک دستاویز ہے جو تاقیامت مسلمانوں کے اس اِجماعی اور متفق علیہ عقیدہ کی گواہی دیتی رہےگی، ان شاء اللہ۔
فتاویٰ جات علمی اور تحقیقی ہیں، قرآن کریم، احادیث، تفاسیر اور کتبِ عقائد وفتاویٰ جات سے تفصیلی نقلی وعقلی دلائل دیے گئے ہیں۔ عقل کی روشنی میں بھی رفع و نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کو سمجھایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمانوں پر اُٹھایا جانااور دوبارہ قربِ قیامت میں نازل ہونا قدرتِ الٰہی کے اعتبار سے عجیب بالکل بھی نہیں ہے، عقلی اعتبار سے بھی ممکن ہے اور موجودہ ترقیاتی ایجادات کی مناسبت سے بھی اس میں کوئی استبعاد اور تعجب نہیں ہونا چاہیے۔
کتاب کے کل صفحات ۲۳۲ ہیں۔ ۱۳۶ صفحات میں اردو زبان کے فتاویٰ اور تحریرات ہیں، اور 96 صفحات میں انگلش زبان کے فتاویٰ ہیں۔
کتاب میں متعلقہ موضوع پر بعض اکابرؒ کی تحریرات بھی شامل کی گئی ہیں، جیسے: بصائر وعبر کتاب سے محدث العصر حضرت علامہ محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی تحریر بعنوان ’’نزولِ مسیح علیہ السلام کا عقیدہ اسلامی اصول کی روشنی میں‘‘ اور حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کی تحریر بعنوان ’’رفع و نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا منکر کافر ہے، ایک سوال اور اس کا جواب‘‘ ۔ کتاب کا کاغذ اعلیٰ، سیٹنگ بہترین، ٹائٹل دیدہ زیب اور جلد مضبوط ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، مرتب ، مُصحح،اور تمام معاونین ومفتیانِ کرام کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائے۔ اس کتاب کو مسلمانوں کے عقیدہ کی حفاظت اور قادیانیوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے، آمین ثم آمین