
موجودہ دور فتنوں، خواہشات اور غفلتوں کا دور ہے، جہاں انسان کی توجہ باہر کی دنیا کی اصلاح پر تو مرکوز ہے، مگر اپنے باطن کی خبر کم ہی لی جاتی ہے، حالانکہ اصل کامیابی کا دار و مدار اسی اندرونی اصلاح پر ہے جو فکر، نیت اور عمل کو درست رُخ دیتی ہے۔ آج کا انسان علم، ترقی اور سہولتوں میں آگے ہے، مگر دل کا سکون، عمل کی پاکیزگی اور اخلاقی توازن تیزی سے کمزور پڑتا جا رہا ہے۔
نفس کی بے مہار خواہشات نے حلال و حرام کی سرحدوں کو دھندلا دیا ہے اور اخلاص کی جگہ نمود و نمائش نے لے لی ہے، ایسے ماحول میں اصلاحِ نفس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ محسوس ہوتی ہے، جب تک انسان اپنے اندر جھانکنے، اپنی کمزوریوں کو پہچاننے اور انہیں درست کرنے کا عزم نہیں کرتا، اس کی ظاہری نیکیاں بھی بے اثر رہتی ہیں۔ اصلاحِ نفس انسان کو جواب دہی کا احساس دلاتی ہے اور اسے ہر قدم پر اللہ کی رضا کو مقدم رکھنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر فرد کی درستگی اور پھر پورے معاشرے کی اصلاح کی عمارت کھڑی ہوتی ہے، اسی لیے اہلِ بصیرت نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنی ذات سے اصلاح کا سفر شروع کرے۔ جو شخص اپنے نفس کا محاسبہ کرنا سیکھ لیتا ہے، وہی درحقیقت دوسروں کے لیے خیر کا ذریعہ بنتا ہے۔ اصلاحِ نفس انسان کو عاجزی، صبر اور برداشت جیسی صفات عطا کرتی ہے، جو اجتماعی زندگی میں نہایت ضروری ہیں۔ جب دل سنور جاتا ہے تو زبان، نظر اور عمل خود بخود سنورنے لگتے ہیں۔
موجودہ دور میں جہاں گناہ کے اسباب آسان اور نیکی کے مواقع مشکل بنا دیے گئے ہیں، وہاں نفس کو قابو میں رکھنا ایک مستقل جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے، یہی مجاہدہ انسان کو اللہ کے قریب کرتا اور دنیا کی فریب کاریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اگر ہر فرد اپنی اصلاح کو اپنا شعار بنا لے تو شکایتوں اور الزام تراشیوں کا سلسلہ خود بخود ختم ہو سکتا ہے، یوں اصلاحِ نفس نہ صرف انفرادی نجات کا ذریعہ بنتی ہے، بلکہ اجتماعی فلاح کا دروازہ بھی کھولتی ہے۔
اصلاحِ نفس کی اہمیت کو قرآنِ کریم نے نہایت واضح اور مؤثر انداز میں بیان فرمایا ہے۔ اس سلسلے میں چند آیات ملاحظہ ہوں:
ترجمہ: ’’ تحقیق مراد کو پہنچا جس نے اس (نفس) کو سنوار لیا، اور نامراد ہوا جس نے اس (نفس) کو (فسق و فجور کرکے) خاک میں ملا چھوڑا ۔ ‘‘ (سورۃ الشمس:۹،۱۰)
دوسری جگہ ارشاد باری ہے:
ترجمہ: ’’واقعی اللہ تعالیٰ کسی قوم کی (اچھی) حالت میں تغیر نہیں کرتا جب تک وہ لوگ خود اپنی (صلاحیت کی) حالت کو نہیں بدل دیتے۔ ‘‘ (سورۃ الرعد: ۱۱)
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: ’’ اور جو شخص (دنیا میں) اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا ہوگا اور نفس کو حرام خواہش سے روکا ہوگا، سو جنت اس کا ٹھکانا ہوگا۔ ‘‘ (سورۃ النازعات: ۴۰-۴۱)
ان آیات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انسان کی کامیابی یا ناکامی کا اصل تعلق اس کے باطن اور نفس کی کیفیت سے ہے، قرآنِ کریم بتاتا ہے کہ محض ظاہری اعمال کافی نہیں، بلکہ دل کی پاکیزگی اور خواہشات پر قابو پانا اصل معیارِ فلاح ہے، نفس کی اصلاح کے بغیر حالات کی بہتری کی اُمید محض خوش فہمی ہے، کیونکہ اجتماعی تبدیلی کی ابتدا فرد کی اندرونی تبدیلی سے ہوتی ہے، یہ آیات انسان کو مسلسل محاسبۂ نفس کی دعوت دیتی ہیں اور غفلت سے بیدار کرتی ہیں۔ اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس انسان کو گناہوں سے روکتا اور نیکی کی طرف مائل کرتا ہے۔ جو شخص اپنے نفس کو خواہشات کا غلام بننے سے بچا لیتا ہے، وہی حقیقی آزادی حاصل کرتا ہے۔ قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ اصلاحِ نفس ایک وقتی عمل نہیں، بلکہ مستقل جدوجہد کا نام ہے۔ اسی جدوجہد کے نتیجے میں انسان کو دنیا میں سکون اور آخرت میں جنت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔
اسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد احادیث میں محاسبۂ نفس کی تعلیم ارشاد فرمائی ہے، چنانچہ ایک روایت میں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا مستقل محاسبہ کرتا رہے اور موت کے بعد والی زندگی کی خاطر عمل کرے۔‘‘ (سنن الترمذي، المستدرک للحاکم)
’’حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : انہوں نے کہا: میں تمہیں اسی طرح بتاتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی آنے سے اور سستی اور بزدلی اور بخیلی اور بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے، یا اللہ! میرے نفس کو تقویٰ دے اور پاک کر دے اس کو، تو اس کا بہتر پاک کرنے والا ہے، تو اس کا آقا اور مولیٰ ہے، یا اللہ!میں پناہ مانگتا ہوں تیری اس علم سے جو فائدہ نہ دے اور اس دل سے جو تیرے سامنے نہ جھکے اور اس جی سے جو آسودہ نہ ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ ہو۔‘‘ (صحیح مسلم)
نفس کی اصلاح کے لیے تصوف، سلوک اور تزکیۂ قلب درحقیقت ایک ہی حقیقت کے مختلف عنوانات ہیں۔ دل جب آلودگیوں سے صاف ہوجاتا ہے تو فطری طور پر اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت اور کشش بڑھنے لگتی ہے، کیونکہ بندے کا قربِ الٰہی اس کے باطن کی درستگی اور دل کی صلاح پر موقوف ہے۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ سے جب کسی نے تصوف کے بارے میں سوال کیا تو آپؒ نے نہایت جامع اور بامعنی جواب دیا، فرمایا کہ: تصوف کی ابتدا حدیثِ نبوی ’’إِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ‘‘ سے ہوتی ہے اور اس کی انتہا حدیثِ جبریل ’’اَنْ تَعْبُدَ اللہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ‘‘ پر جا کر مکمل ہوتی ہے۔ بظاہر یہ چند الفاظ ہیں، مگر حقیقت میں تصوف و سلوک کا پورا نقشہ ان ہی میں سمٹ آیا ہے۔
اس کا حاصل یہ ہے کہ انسان کے اعمال کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، اگر نیت میں اخلاص نہ ہو تو وہ اعمال بارگاہِ الٰہی میں وزن نہیں رکھتے، اسی لیے تصوف کی راہ پر چلنے والے کو سب سے پہلے اپنی نیت کی اصلاح کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے، یہی اس روحانی سفر کی بنیاد ہے۔ جب نیت درست ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں متوجہ ہونے لگتی ہیں اور معرفتِ الٰہی کا راستہ کھل جاتا ہے، پھر رفتہ رفتہ بندہ اس کیفیت تک پہنچ جاتا ہے کہ عبادت میں اس کا دل اس طرح حاضر ہوجاتا ہے، گویا وہ اپنے رب کو دیکھ رہا ہو، جسے یہ مقام نصیب ہوجائے، اس کی سعادت اور شرافت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، درحقیقت تصوف کا اصل مقصد شریعتِ مطہرہ کی کامل پیروی ہے۔ شریعت کے دائرے سے باہر طریقت کا کوئی تصور نہیں۔ اکابر مشائخ نے اصلاحِ نفس کے لیے جو اذکار، معمولات اور طریقے بتائے ہیں، وہ بذاتِ خود مقصود نہیں، بلکہ محض ذرائع اور وسائل ہیں۔ ان بزرگوں کی صحبت، نگرانی اور تربیت میں رہ کر انسان وہ کمالِ انسانیت حاصل کرتا ہے، جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور جو شریعت کی روح اور مطلوبِ اصلی ہے۔
حضرت مولانا حکیم محمداختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک موقع پر فرمایا:
’’آج ہمارا حال مختلف ہے، اللہ والوں کی مجلس سے ہم بھاگتے ہیں، ہم جس ماحول میں رہتے ہیں وہ گناہ وعصیان کا ماحول ہے، گردوپیش سے عام انسان تو عام انسان ہے، ’’ولی‘‘ بھی متاثر ہوجاتا ہے، سنیما اور گانوں کی آواز، دنیا کی فحاشی یہ سب کچھ انسان کو متاثر کرتے ہیں۔ صحابہؓ کا عادوثمود کی بستی سے جب گزر ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ چھپالیا اور صحابہؓ کو جلدی سے گزرجانے کے لیے فرمایا۔ دیکھیے! ماحول کا اثر، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں کس قدر اہمیت کا حامل ہے، اگر اثر کا خوف نہ ہوتا تو جلدی سے کیوں گزرتے؟! اسی لیے کہا جاتا ہے کہ برے ماحول سے کٹ کر اللہ والوں کی مجلس میں بیٹھو، نورانیت پیداہوگی اور اچھے اثرات پڑیں گے۔ (باتیں اُن کی یاد رہیں گی، صفحہ: ۳۵، از مولانا محمد رضوان القاسمی)
خلاصۂ تحریر یہ ہے کہ نفس کی اصلاح دراصل انسان کی پوری زندگی کی اصلاح ہے، کیونکہ نفس ہی خیر و شر کا اصل میدان ہے۔ جب تک نفس خواہشات کا غلام رہے، بندہ چاہ کر بھی راہِ حق پر استقامت اختیار نہیں کر سکتا۔ نفس کو شریعت کا تابع بنانا ہی تقویٰ کی حقیقی بنیاد ہے۔ جو شخص اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے باطن کو منور فرما دیتے ہیں۔ نفس کی اصلاح صبر، مجاہدہ اور دوامِ ذکر کے بغیر ممکن نہیں۔ اکابرِ اُمت نے اسی مجاہدۂ نفس کو ولایت اور قربِ الٰہی کی کنجی قرار دیا ہے۔ جس نے اپنے نفس کو قابو میں کر لیا، اس نے بڑے بڑے فتنوں سے نجات پا لی۔ نفس کی اصلاح انسان کو عاجزی، اخلاص اور خشیتِ الٰہی کی دولت عطا کرتی ہے۔ یہی اصلاح‘ فرد کو صالح اور معاشرے کو پاکیزہ بناتی ہے۔ پس کامیابی اسی کے لیے ہے جو اپنے نفس کو سنوار لے کہ قرآن کی گواہی ہے: ’’قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰىہَا‘‘