بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

میرے  والد گرامی مولانا امین الرحمٰن  رحمۃ اللہ علیہ 

میرے  والد گرامی مولانا امین الرحمٰن  رحمۃ اللہ علیہ 


والدین جن کے سہارے انسان جیتا ہے، جو اولاد کے لیے سائبان اور اُن کے وجود کا ذریعہ ہوتے ہیں، اُن کے فراق پر غم واندوہ کا پہاڑ ٹوٹ پڑنا عین فطرت ہے۔ غمِ فراق سے کیا کیفیت ہوتی ہے، دل پر کیا گزرتی ہے، ان کیفیات کو بیان کرنا اور اس غم واندوہ کو الفاظ کے ترازو میں تولنا میرے بس کی بات نہیں۔ حضرت سید نفیس شاہ الحسینی  رحمۃ اللہ علیہ  نے اس کا نقشہ کچھ یوں کھینچا ہے،کہتے ہیں :

اُٹھا سائبانِ شفقت بڑی تیز دھوپ دیکھی
نہیں دور دور چھاؤں کہاں اپنا سر چھپاؤں

اسی شدت کی وجہ سے تو رب کریم نے اس غم وحزن پر صبر کرنے والوں کے لیے بشارتیں اور خوشخبریاں سنائیں ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ’’وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ‘‘ لہٰذا ’’کُلُّ نَفْسٍ ذَاۗئِقَۃُ الْمَوْتِ‘‘، اور ’’کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَانٍ‘‘کے پیش نظر سنتِ الہیہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے اور ربِ غنی کے فیصلوں پر راضی ہو کر اس کو راضی اور خوش کرنا چاہیے۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے سکھلائے ہوئے کلمات کے ساتھ مہرباں رب کے فیصلے پر اپنی رضا کا اعلان کریں، اور اسی کی توفیق کے ساتھ ہم یہی کریں گے: ’’إن للہ ما أخذ ، ولہٗ ما أعطی ، وکل شيء عندہٗ بأجل مسمی، فلانقول إلا ما يُرضِي ربنا، فإنا للہ وإنا إليہ راجعون۔‘‘
ابا جان نے ۴۹ ؍سال اور ۶ ماہ کی مختصر سی عمر میں بہت کچھ کر دکھایا، ساری زندگی قرآن وسنت کی خدمت اور تعلیم وتعلم میں گزاری، کہیں حفظ وناظرہ قرآن کی تدریس تو کہیں معانی قرآن کی تعلیم تو کہیں مسجد میں امامت۔ ذیل میں ان کے مختصر حالاتِ زندگی ذکر کیے جاتے ہیں۔ والد ماجد ۱۳۹۵ھ مطابق ۱۹۷۵ء میں کراچی میں پیدا ہوئے، بچپن ہی میں قرآن مجید پڑھا، سنِ شعور کو پہنچے تو علومِ نبوت کی تحصیل میں مشغول ہوئے۔ ثانویہ خاصہ تک جامعہ احسن العلوم کراچی میں پڑھتے رہے، اور ۱۴۱۶ھ مطابق ۱۹۹۶ میں درجہ رابعہ تک تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد محدث العصر حضرت علامہ محمد یوسف بنوری  رحمۃ اللہ علیہ  کے لگائے ہوئے چمنستانِ علم‘ جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ محمدیوسف بنوری ٹاؤن وارد ہوئے، اور دورہ حدیث تک وہیں پڑھتے رہے، ۱۴۲۰ھ مطابق ۱۹۹۹ءکو وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا متعین کردہ سولہ سالہ نصاب پڑھ کر آپ جامعہ ہی میں دورہ حدیث سے فارغ ہوئے، اور سالانہ امتحان دے کر کامیابی حاصل کی۔ اس دوران جن اکابر اساتذ ہ کرام سے خصوصی تعلق رہا، اور اکثر ذکر بھی کیا کرتے تھے، ان میں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا عطاء الرحمٰن شہید  رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا ڈاکٹر مفتی نظام الدین شہید  رحمۃ اللہ علیہ  اور مولانا مفتی امداد اللہ یوسف زئی صاحب دامت برکاتہم شامل ہیں۔ علاوہ ازیں جامعہ عمرؓ گڈاپ ٹاؤن کراچی سے تجوید القرآن ، اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے اللسان العربي  کورس مکمل کیا۔
رسمی طالب علمی سے فارغ ہوکر وراثتِ نبوی کی سعادت کے حصول کے لیے نشرِ علومِ نبویہ کا عزم کرکے عملی میدان میں وارد ہوئے، اور ۲۰۰۱ء تا ۲۰۱۳ء جمعیت تعلیم القرآن ٹرسٹ میں انچارج اور نگرانِ اساتذہ رہے، پورے خلوص اور دلجمعی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ بعد ازاں ۲۰۱۴ء میں اباجان اقرأ روضۃ الاطفال باتھ آئی لینڈ کراچی میں بحیثیت نگران شعبہ قاعدہ متعین کیے گئے، اور اسی کی بدولت میری چھوٹی ہمشیرہ نے مکمل قرآن پاک حفظ کیا، اور چھوٹے بھائی حماد نے ۱۵ پارے اپنے سینے میں محفوظ کیے، یہاں تک کہ۲۰۲۰ء میں والد گرامی کو شوگر ، بلڈ پریشراور وجع القلب جیسی مختلف بیماریوں کی صورت میں آزمائشوں اور امتحانا ت کا سامنا کرنا پڑا، انھی امراض اور آزمائشوں کی وجہ سے شہر کراچی کو الوداع کہنا پڑا، اور اہل وعیال سمیت اپنے آبائی گاؤں نانسیر ضلع بونیر منتقل ہوئے، مشیتِ باری تعالیٰ سے آپ کو وہاں کی آب وہوا راس آئی، اور ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگے۔ گاؤں میں اشاعتِ دین کے سلسلے کو جاری رکھا، اور قریبی آبادی کی ایک مسجد میں قاعدہ وناظرہ قرآن، گھر میں چند طلبہ کو تفسیر قرآن مجید کی تعلیم بغیر کسی معاوضے کے دینے لگے، بعد میں اسی مسجدمیں بحیثیت امام آپ کا تقرر ہوا، کچھ عرصہ گزرنے پر ایک نجی سکول میں بحیثیت استاذ آپ کی تقرری عمل میں آئی۔
گاؤں میں والد صاحب کی صحت کافی اچھی رہی،یہاں تک کہ ۱۲؍دسمبر بروز جمعہ دوپہر کے تقریباً ۱۲ بجے آپ کا داہنا پہلو مفلوج ہوا، مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت بخشی کہ ایک ہفتے تک ہسپتال میں اباجان کی تیمارداری اور خدمت کی توفیق عطا فرمائی، یہ ایک ہفتہ کیسے گزرا؟ کچھ نہ پوچھیے، امید وبیم کی کیفیت رہی، وہ پیر نصیر الدین نصیر صاحب کیا خوب کہہ گئے ہیں:

شبِ غم کیسے تِرے مبتلا پہ گزری
کبھی آہ بھر کے گِرنا کبھی گِرکے آہ بھرنا

بہرکیف! اباجان کی حالت آہستہ آہستہ کافی بہتر ہو رہی تھی کہ اچانک ۲۹؍ جمادی الاخریٰ ۱۴۴۷ھ، مطابق ۲۰؍ دسمبر بروز ہفتہ موبائل فون کے ذریعے وہ جانکاہ خبر سنائی دی کہ اباجان کا انتقال ہوگیا ہے، آہ!!! خبرکیا تھی گویا کوئی خوفناک دھماکہ سماعت سے ٹکرا گیا ہو۔
اباجان صبر، قناعت اور تواضع کے پیکر تھے، اخلاقِ ذمیمہ جیسے عجب ، کبر، جھوٹ اور طمع وبخل سے اللہ تعالیٰ نے پاک رکھا تھا۔ صبر کی صفت اُن میں بہت نمایاں تھی، ہم نے ہر قسم کی تکالیف میں، چاہے وہ جسمانی بیماریاں ہوں، یا بعض لوگوں کے نامناسب اور ناروا رویوں سے ذہنی اذیت ہو، ہمیشہ اُن کو صبر وتحمل اور حوصلہ مندی کے دامن کو تھامے پایا۔ منجملہ خصوصیات میں ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ والد ماجد کی زبان اکثر اوقات شکرِ باری تعالیٰ اور ذکر سے معطر رہتی تھی، خود میں نے اور میری بہنوں نے اُن کو یہ کہتے ہوئے سنا: اس چھوٹے سے گھر اور اللہ تعالیٰ کے دیگر احسانات پر بڑا شکر گزار ہوں، مجھے کسی کے محلات اور بینک بیلنس کی چاہت نہیں ہے۔ اُن کے خصائل حمیدہ سے تو اکثر لوگ واقف تھے، اقرأ روضۃ الاطفال میں تقرری کے لیے انٹرویو لینے والوں کے تأثرات دیکھیے، آپ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: ’’موصوف کا ظاہری حلیہ شریعت کے مطابق، ظاہری شخصیت متاثر کن، بارعب، شریف الطبع اور باصلاحیت معلوم ہوتے ہیں، اگر ان کو کوئی ذمہ داری دی گئی ، تو اُمید ہے کہ احسن طریقے سے پوری کریں گے، ان شاء اللہ۔ ‘‘
مزید برآں یہ بات بھی ہمارے لیے خوشی وتسلی کا باعث ہے کہ اباجان کو حسنِ خاتمہ نصیب ہوا، ایمان کی حالت میں رزقِ حلال کی طلب میں داعیِ اجل کو لبیک کہا، تلاش بسیار کے باوجود کسی کا اُن کے ذمے کوئی جانی یا مالی حق نہ ملا، سب کو ان سے خوش اور ان کے لیے دعائیں کرتے دیکھا، یہی تو حسنِ خاتمہ ہے کہ ایمان کی حالت میں موت آئے ، اور حقوق اللہ یا حقوق العباد میں کوئی حق کسی کے ذمے باقی نہ ہو، یہ ضروری نہیں کہ سجدہ میں یا روزہ کی حالت میں موت آئے۔
اپنی اس تحریر کا خاتمہ اس مکتوب کے کچھ حصے کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں ، جو سید الطائفہ حضرت مفتی نظام الدین شامزئی شہید  رحمۃ اللہ علیہ  نے حضرت مولانا ابوہریرہ صاحب کو اباجان کے بارے میں اُن کی تقرری کے سلسلے میں لکھی تھی: ’’حاملِ رقعہ مولوی امین الرحمٰن صاحب اچھی استعداد اور اچھے اخلاق کے مالک ہیں، ہماری جامعہ کے فاضل ہیں،اور آپ کے قریب سلطان آباد ہجرت کالونی میں رہائش پذیر ہیں۔‘‘
 اور حضرت شہید رحمۃ اللہ علیہ  ہی کی زبانِ مبارک سے پڑھا گیا ایک شعر:

جان کر منجملہ خاصانِ میخانہ مجھے
مدتوں رویا کریں گے جام وپیمانہ مجھے
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے