
موت ایک یقینی حقیقت ہے اور اسلام نے اس موقع پر صبر، سکون، سادگی اور اخلاص کی تعلیم دی ہے۔ تعزیت کا مقصد دل جوئی، تسلی اور غم گساری ہے، نہ کہ اظہارِ نمود و نمائش اور تکلف۔ لیکن عصرِ حاضر میں اکثر علاقوں میں یہ رجحان عام ہوتا جا رہا ہے کہ میت کے اہلِ خانہ یا رشتہ دار جنازہ، تعزیت اور زیارت کے لیے آنے والوں کی خاطر بڑے پیمانے پر کھانے کا انتظام کرتے ہیں؛ کبھی اپنے خرچ سے، کبھی قرض لے کراور بعض اوقات میت کے ترکہ سے۔ مرد و خواتین اور بچوں کا اژدحام، کھانے پر اصرار اور اجتماعی ضیافت کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، حتیٰ کہ یہ مناظر شادی بیاہ کی تقریبات سے مشابہ دکھائی دینے لگتے ہیں۔ زیرِنظر مضمون میں ہم اس رواج کا شرعی حکم قرآن و حدیث، فقہِ حنفی کے اصول اور معتبر کتبِ فتاویٰ کی روشنی میں تفصیلاً بیان کریں گے اور موجودہ عرف و عادات کے تناظر میں رہنمائی پیش کریں گے۔
برِصغیر کے بعض علاقوں میں تعزیت کو ضیافت سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اہلِ میت پر نفسیاتی دباؤ ہوتا ہے کہ اگر کھانا نہ کھلایا تو’’کمی‘‘ رہ گئی؛ نتیجتاً کمزور گھرانے بھی قرض لے کر انتظام کرتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف اہلِ میت کے لیے مشقت اور تکلیف کا باعث بنتا ہے، بلکہ شریعت کی اس روح کے خلاف بھی ہے جو مصیبت کے وقت تخفیف، تعاون اور سادگی کی تعلیم دیتی ہے۔
لہٰذاموضوع کی حساسیت کے پیش نظر مجموعی طور پر اس کے تین حصے کیے جارہے ہیں، تاکہ مسئلہ سمجھنے میں دشواری نہ ہو اور حکم شرعی واضح ہوجائے:
۱-میت کے گھروالوں یا قریبی رشتہ داروں کا اس غم کے موقع پر خود اپنے اہلِ خانہ و اعزہ کے لیے کھانا بنانا۔
۲- تعزیت اور تکفین و تدفین وغیرہ میں شریک ہونے والے قریبی یا سسرالی رشتہ دار یا انتہائی مخلص دوست واحباب یا دور درازسے آئے ہوئے رشتہ دار یا عام لوگ جو میت کے یہاں شب گزاری کرنے والے نہ ہوں ، لیکن انہیں انتظاماً یا مصلحتاً یا مجبوراً ٹھہرنا پڑے، ان کے لیے اہلِ میت یا رشتہ داروں کی جانب سے کھانے کا انتظام کرنا۔
۳- شریک ہونے والے قریب وبعید کے خاص و عام لوگ جو اسی دن واپس لوٹ جائیں گے؛ ان کے لیے معاشرتی نظام یا رواج کے زیرِ اثر اپنی رقم سے یا قرض لے کر اہلِ میت یا رشتہ داروں یا اہلِ محلہ کا باضابطہ کھانے کا انتظام کرنا اور لوگوں کا اس کھانے میں بلاجھجک شریک ہونا۔
1- اسلام نے وفات کے موقع پر ہمدردی، تسلی اور تعاون کی تعلیم دی ہے، نہ کہ غم زدہ گھرانے پر بوجھ ڈالنے کی، لہٰذا جس گھر میں میت ہوجائے ان کے ہمسایوں، پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے لیے مستحب بلکہ مسنون اور باعثِ اجر و ثواب یہ ہے کہ میت کے گھر والوں کے لیے اس دن (دو وقت) کے کھانے کا انتظام کریں اور خود ساتھ بیٹھ کر، اصرار کر کے اُن کو کھلائیںاور ضرورت ہو توان دو وقتوں سے زائد دنوں میں بھی کھانا کھلائیں۔ اہلِ میت کو یہ کھانا کھلانا اس وجہ سے نہیں کہ میت کے گھر میںیا میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانا ممنوع ہے؛ بلکہ اس وجہ سے ہوکہ غم و حزن اور تکفین وتدفین کی مشغولیت کی وجہ سے ان کو کھانا پکانے کا موقع نہیں ملے گا۔ اس کے برعکس اگر میت کے گھر والے اپنی سہولت کے مطابق خود اپنے اور اعزہ کے لیے کھانا بنائیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے اورنہ ہی اُسے خلافِ غم وحزن یامعیوب سمجھا جائے گا۔
جب جنگ موتہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر پہنچی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ’’اصْنَعُوْا لِاٰلِ جَعْفَرَ طَعَامًا، فَقَدْ اَتَاہُمْ مَا یَشْغَلُہُمْ‘‘ کہ ’’جعفرؓ کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، اس لیے کہ ان کو ایسا امر لاحق ہوا ہےجس نے انہیں مشغول کردیا ہے (یعنی جعفرؓ کی شہادت کی خبر سن کر وہ صدمہ اور رنج میں ہیں)۔ ‘‘
اسی طرح صحیح بخاری ومسلم میں ہے:
’’عَنْ عَائِشَۃَ، زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أنَّہَا کَانَتْ إِذَا مَاتَ المَـیِّتُ مِنْ أہْلِہَا، فَاجْتَمَعَ لِذٰلِکَ النِّسَاءُ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أہْلَہَا وَ خَاصَّتَہَا، أمَرَتْ بِبُرْمَۃٍ مِنْ تَلْبِیْنَۃٍ فَطُبِخَتْ، ثُمَّ صُنِعَ ثَرِیْدٌ فَصُبَّتِ التَّلْبِینَۃُ عَلَیْہَا، ثُمَّ قَالَتْ: کُلْنَ مِنْہَا، فَإِنّيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: التَّلْبِیْنَۃُ مُجِمَّۃٌ لِفُؤَادِ الْمَـرِیْضِ، تَذْہَبُ بِبَعْضِ الحُزْنِ۔‘‘ (کتاب الطب، باب التلبینۃ)
ترجمہ: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب کسی گھر میں کسی کی وفات ہوجاتی اور اس کی وجہ سے عورتیں جمع ہوتیں اور پھر وہ چلی جاتیں، صرف گھروالے اورخاص خاص عورتیں رہ جاتیں تو آپ ہانڈی میں ’’تلبینہ‘‘ پکانے کا حکم دیتیں، وہ پکایا جاتا، پھر ثرید بنایا جاتا اور تلبینہ اس پر ڈالا جاتا، پھر ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں کہ اسے کھاؤ؛ کیوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے: ’’تلبینہ مریض کے دل کو تسکین دیتا ہے اور اس کا غم دور کرتا ہے۔ ‘‘
اس حدیث میں جہاں میت کے اہلِ خانہ کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذریعہ کھانا بنوانے کا ثبوت ہے، وہیں یہ بھی واضح ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے میت کے گھر آئی ہوئی سبھی عام عورتوں کے لیے کھانا نہیں بنوایا، بلکہ ان کے چلے جانے کا انتظار کرتیں اور جوخاص قریبی عورتیں رہ جاتیں ان کے لیے مع اہلِ میت کے کھانے کا اہتمام کرواتیں۔ ’’فتاویٰ شامی‘‘ میں ہے :
’’(قولہ: وباتخاذ طعام لہم) قال في الفتح: ویستحب لجیران أہل المیت والأقرباء الأباعد تہیئۃ طعام لہم یشبعہم یومہم ولیلتہم، لقولہٖ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’اصنعوا لاٰل جعفر طعاماً فقد جائہم ما یشغلہم۔‘‘ حسنہ الترمذي وصححہ الحاکم؛ ولأنہٗ بِرٌ ومعروف، ویلح علیہم في الأکل؛ لأن الحزن یمنعہم من ذٰلک فیضعفون۔‘‘
2-تعزیت اور تکفین وتدفین کے لیے شریک ہونے والے افراد خواہ مرد وعورت ہوں یا جوان، بوڑھے یا بچے ہوں؛ ان کے لیے فوتگی کے کھانے میں شرکت اور عدمِ شرکت کو دوشقوں میں کرکے اس طرح تفصیل سے سمجھیں کہ:
(الف) گاؤں دیہات جہاں باہر سے آنے والوں کے لیے نہ کوئی ہوٹل نہ دکان وغیرہ، نہ کھانے پینے کی کوئی سہولت دستیاب ہو؛ بلکہ وہاں صرف کسی کے گھر سے مانگ کر ہی کھایا جاسکتا ہے یا پھر بھوکارہنا پڑے یا اگر اس علاقے میں آنے والے شخص کے رشتہ دار ہوں تو ان کے گھرکھائے، ورنہ بھوکا رہے؛تو ایسے دیہاتوں میں فوتگی کے موقع پر دور دراز کے علاقوں سے جنازے میں شرکت کے لیے آئے ہوئے لوگوں کے لیے عدم سہولیات کے پیش نظر اہلِ میت یا رشتہ دار یا پڑوسی یا محلے والوں کی طرف سے کھانا پکانا اور کھلانا جائز ہے؛ خواہ وہ رکنے والے ہوں یا واپس لوٹ جانے والے ہوں۔
(ب) وہ علاقہ جہاں کھانے پینے کی سہولت میسر ہو، مگر جنازہ میں شرکت کے لیے آنے والے میت کے قریبی رشتہ دار یا احباب ہوں جو دوردراز کے علاقوں اور مختلف شہروں سے آئے ہوں اور وہ فوراً واپس نہیں جا سکتے اور میت سے خصوصی تعلق و رشتہ داری کی وجہ سے ان کا فورا ًواپس چلے جانا مناسب بھی نہ ہواور انھیں مجبوراً رک جانا پڑے، تو ان کے لیے بھی بہتر یہی ہے کہ وہ فوتگی کے کھانے سے گریز کریں، لیکن اگر چاہیں تو شریک بھی ہوسکتے ہیں؛ ان کے لیے کوئی کراہت نہیں ہے۔
’’فتاویٰ ہندیہ‘‘ میں ہے:
’’ویَحِلُ (الطعام) للذین یطولُ مقامہم عندہٗ و للذي یَجيء من مکان بعیدٍ یستوي فیہ الأغنیاء والفقراء ولا یجوز للذي لا یطول مسافتہ ولا مقامہ۔‘‘
ترجمہ: ’’یہ کھانا ان لوگوں کے لیے جائز ہے جو دیر تک ٹھہرنے والے ہوں اور جو دور دراز علاقہ سے آئے ہوئے ہوں، چاہے وہ مالدار ہوں یا غریب۔ البتہ ان کے لیے درست نہیں جو نہ ٹھہرنے والے ہوں اور نہ ہی دور علاقہ سے آئے ہوں۔ ‘‘
3-قرض لے کر کھانے کا انتظام کرنے سے تو بالکلیہ اجتناب ضروری ہے اور بلا قرض کے بھی مکروہ ہے اور جانبین یعنی اہلِ میت اور شرکت کرنے والے قریب وبعید کے عام لوگ، جنھیں مجبوراً ٹھہرنا نہ پڑے ؛ دونوں کو اس سے بچنا لازم ہے۔ ان کے لیے کھانا بنوانا اور ایسے لوگوں کا کھانے میںشریک ہونا یا زبردستی انھیں شریک کرنا شرعاً درست نہیں؛ بلکہ قابلِ ترک عمل ہے، معاشرہ کے دینی طبقہ اور اہلِ علم و ائمہ و مصلحین کو یہ رواج ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرناچاہیے۔ اگر اس پر نکیر نہ کی گئی اور اسے ختم کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو ’’سنتِ سیئہ ‘‘کے ارتکاب کی بنیاد پر جو لوگ جس درجے میں ذمہ دار ہیں اس کے مطابق گنہ گار ہوں گے۔
’’مَنْ سَنَّ فی الإسلام سنۃً سیئۃً کان علیہ وِزرُھا و وِزرُ مَن عمِل بھا، الخ‘‘ (مسلم، کتاب الزکاۃ)
ترجمہ: ’’جو شخص دینی امور اور اسلامی معاملات میںکسی غلط یا برے طریقہ کو قائم کرے گا، تو اس کا گناہ اس پر لازم ہوگا اور جو اس کے ایجاد کردہ طریقہ پر عمل کرے گا تو اس کا بھی گناہ اُس قائم کرنے والے شخص کو ہوگا۔ ‘‘
حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’کُنَّا نَعُدُّ الِاجْتِمَاعَ إِلٰی اَہْلِ الْـمَیِّتِ وَصَنِیْعَۃَ الطَّعَامِ بَعْدَ دَفْنِہٖ مِنَ النِّیَاحَۃِ۔‘‘ (سنن ابن ماجۃ، کتاب الجنائز)
ترجمہ: ’’ہم (صحابہؓ) میت کے گھر جمع ہونے اور تدفین کے بعد وہاں کھانا تیار کرنے کو نوحہ (ناجائز رسم) میں شمار کرتے تھے۔‘‘
گویاصحابہؓ کے نزدیک میت کے گھر کھانے کا اہتمام کرنا ناپسندیدہ اور جاہلیت کی رسم کے مشابہ تھا۔
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ‘‘ (موطأ إمام مالک، ابن ماجۃ)
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ خود نقصان اُٹھاؤ، نہ دوسرے کو پہنچاؤ۔‘‘
فقہی قاعدہ ہے: ’’الضَّرَرُ یُزَالُ‘‘(ضرر کو دور کیا جاتا ہے)، لہٰذا میت کے گھر والوں پر مالی بوجھ ڈالنا، قرض میں ڈالنا، یا معاشرتی دباؤ کے تحت کھانے کا انتظام کروانا صریح ضرر ہے۔ اس سلسلہ میں امام نووی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:
’’وَأمَّا صَنِیْعَۃُ أہْلِ الْـمَیِّتِ الطَّعَامَ لِلنَّاسِ فَہُوَ مَکْرُوْہٌ؛ لِأنَّہٗ إِحْدَاثُ شُغْلٍ لَہُمْ۔‘‘ (شرح النووي علی مسلم)
ترجمہ: ’’میت کے گھر والوں کا لوگوں کے لیے کھانا تیار کرنا مکروہ ہے، کیونکہ یہ اُن پر ایک نیا بوجھ ڈالنا ہے۔‘‘
علامہ ابن قدامہ حنبلی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:
’’وَیُکْرَہُ صُنْعُ الطَّعَامِ مِنْ قِبَلِ أہْلِ الْمَـیِّتِ لِلنَّاسِ؛ لِأنَّہٗ زِیَادَۃٌ فِيْ مُصِیْبَتِہِمْ۔‘‘ (المغني، ابن قدامۃ)
ترجمہ: ’’میت کے گھر والوں کا لوگوں کے لیے کھانا بنانا مکروہ ہے، کیونکہ یہ ان کی مصیبت میں اضافہ ہے۔‘‘
فقہ حنفی کی کتاب ’’فتاویٰ ہندیہ‘‘ میں ہے:
’’وَیُکْرَہُ اتِّخَاذُ الطَّعَامِ مِنْ قِبَلِ أہْلِ الْمَـیِّتِ لِلنَّاسِ‘‘(الفتاوی الہندیہ، کتاب الکراہیۃ)
ترجمہ: ’’میت کے گھر والوں کا لوگوں کے لیے کھانا تیار کرنا مکروہ ہے۔‘‘
بنا بریں مندرجہ بالا نصوصِ قرآن، احادیثِ نبویہ، آثارِ صحابہؓ اور فقہی تصریحات کی روشنی میں واضح اور دو ٹوک حکم یہ ہے کہ وفات کے موقع پر اہلِ میت کا کھانا بنوانا، لوگوں کو کھلانا، دعوتی انداز اختیار کرنا، قرض لے کر یہ رسم نبھانااور اس میں مرد و خواتین و بچوں کا اژدحام کرنا؛یہ سب خلافِ سنت، مکروہ اور قابلِ ترک اعمال ہیں۔ سنت یہ ہے کہ لوگ اہلِ میت کے لیے کھانا لے کر جائیں، نہ کہ اہلِ میت لوگوں کو کھلائیں۔ اس موقع پر تمام شرکائے جنازہ کے لیے دعوتِ عام کا اہتمام کرنا قابلِ اصلاح ہے۔ کھانے کا یہ انتظام ضرورتاً صرف قریبی اعزہ کے لیے ہونا چاہیے۔ دوسروں کے لیے نہ قطعاً اس کا اہتمام کیا جائے، نہ دوسرے لوگ اس میں شریک ہوں، کیوں کہ یہ مسئلہ محض ایک رسم کا نہیں، بلکہ شریعت کے مزاج اور اُمت کے اخلاقی ڈھانچے کا ہے۔ اگر ہم نے اس موقع پر بھی دنیا داری، نمائش اور رسم پرستی کو ترجیح دی تو آہستہ آہستہ سنت مٹتی چلی جائے گی۔
اسلام نے غم کے موقع پر سادگی، اخلاص اور تعاون کا درس دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے کو غیر شرعی رسومات سے پاک کریں اور سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ کریں، لہٰذا ضروری ہے کہ علماء آواز اُٹھائیں، عوام سمجھیںاور یہ غلط رواج ختم کیا جائے، اس لیے علماء کرام پر لازم ہے کہ منبر و محراب سے تعلیم دیں کہ سنت کیا ہے اور بدعت کیا ہے؟! عملی نمونہ قائم کریں کہ تعزیت مختصر اور سادہ ہو۔ اہلِ میت کو روکتے رہیں کہ وہ کھانے کا اہتمام نہ کریں۔ لو گوں کو ترغیب دیں کہ وہ اہلِ میت کے لیے کھانا بھیجیں، نہ کہ خود اُن کے یہاں جاکر کھائیں۔