
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
۲۶/۵/۱۳۷۹ھ
جناب حضرت استاذِ جلیل، محترم سید محمد یوسف بنوری !
پاکیزہ ومبارک سلام قبول کیجیے۔
بعد سلام، اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ آں محترم مع اہلِ خانہ واولادِ کرام صحت وخوش حالی کے ساتھ ہوں گے۔ آپ نے ہمارے بارے میں دریافت فرمایا ہے، الحمدللہ مصر اور سوریا کی فضاؤں میں تین ماہ کے دورہ کے بعد ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے ہیں۔ دورانِ سفر ہم نے سیوطیؒ کی ’’تدریب الراوي‘‘، کتاب ’’الإذاعۃ لما کان ويکون بين يدي الساعۃ‘‘، رسالہ ’’السياسۃ الشرعيۃ‘‘ ابن تیمیہؒ اور انہی کی ’’الصارم المسلول‘‘ بھی شائع کردی ہیں۔ میں نے شیخ عنایت اللہ منتظمِ تاج کمپنی پریس سے مطالبہ کیا ہے کہ آپ کو ۲۰۰ روپے سپرد کریں، اور آنجناب محمد طاسین صاحب کی ’’مجلسِ علمی‘‘ کی کتاب ’’نصب الرايۃ‘‘ جو گزشتہ برس ارسال کی گئی تھی، اس کی قیمت ادا کریں گے، ایک نسخہ کی قیمت ان کے پاس ہے۔ قاری عبد اللہ جان بخاری مدینہ منورہ میں ہیں، لیکن ان کی گزشتہ سال کی مطلوبہ کتابیں ہمارے پاس تھیں، کسی نے وصول نہیں کیں تو ہم نے صرف کردیں۔ اگر بحری ڈاک کے ذریعے ممکن ہو تو ہمیں بھی کتاب ’’نصب الرايۃ‘‘ درکار ہے، یہ بھیج دی جائے۔
ضروری اُمور مکمل ہوئے۔ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہیے، آپ کے قریب موجود اعزہ کو میرا سلام اور میرے گھر والوں کی جانب سے اپنے معزّز اہلِ خانہ کو سلام پہنچائیے، اور آخر میں میری جانب سے بھی مخلصانہ سلام قبول کیجیے۔
۱۲؍ جمادی الثانیہ سنہ ۱۳۸۰ھ
جناب صاحبِ فضیلت، مکرّم سید محمد بنوری، اللہ تعالیٰ آپ کی حیاتِ طیّبہ سے ہمیں مستفید فرمائے!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بعد سلام، اللہ تعالیٰ سے اُمید ہے کہ آنجناب مع اہلِ خانہ دائمی عافیت وصحت کے ساتھ ہوں گے۔ آپ کا مُحب بھی بخیریت ہے۔
ماہِ صفر میں مجھے ایک چیک موصول ہوا تھا، اور میں اپنے ہاں دستیاب کتابیں ایک صندوق میں پیک کرکے جدہ میں اپنے ایجنٹ کو بھیج چکا تھا، اور ان سے تقاضا کیا تھا کہ کسی تیز رفتار تجارتی کمپنی کے ذریعے بھیج دے، پھر ایجنٹ پر بھروسہ کرتے ہوئے میں سوریا اور مصر کے سفر پر روانہ ہوگیا، مدینہ منورہ واپسی پر علم ہوا کہ کتابیں ابھی جدہ میں ہی رکھی ہیں۔ ایجنٹ بذاتِ خود مدینہ آیا اور مجھ سے ذکر کیا کہ اس نے کتابوں کا وہ صندوق بھیجنے کی کوشش کی تھی، لیکن بحری کمپنی مالکان نے یہ وجہ بتاتے ہوئے وصول کرنے سے انکار کردیا کہ محض ایک صندوق کے معاملے میں بسااوقات بے توجہی ہوجاتی ہے؛ کیونکہ تجارتی بحری جہاز متعدد ساحلوں پر لنگر انداز ہوکر سامان اُتارتا ہے، ایک صندوق کی گمشدگی کا اندیشہ ہوتا ہے، اور پھر جرمانہ اور ذمہ داری کمپنی کو اُٹھانا پڑتی ہے۔ ایجنٹ کا کہنا تھا کہ میں یہ صندوق مدینہ بھیج دوں گا، پھر آپ بحری ڈاک کے ذریعے متفرق طور پر یہ کتابیں بھیجیں۔ اب اگر آپ کو اتفاق ہو تو موسمِ حج تک اس کام کو مؤخر کردیں، وہ صندوق جدہ میں ہی رہے، یا پھر اسے مدینہ منگوالیں اور بحری ڈاک کے ذریعے متفرق طور پر بھیج دیں؟!
تاج کمپنی سے ہم نے تقاضا کیا تھا کہ آنجناب کو چار سو روپے پاکستانی کے لگ بھگ رقم سپرد کردیں، انہوں نے بتایا کہ رقم پہنچ گئی ہے۔ مولانا مفتی محمود صاحب (ملتان) کی طرف بھی ۱۱۱۴ سعودی ریال ہیں، یہ ان کتابوں کی قیمت ہے جو انہوں نے بنفس نفیس ہم سے لی تھیں، اور اس رقم کی ادائیگی میں تاخیر ہوگئی ہے۔ استاذ محمد طاسین (مدیرِ مجلس علمی) نے ہم سے کچھ کتابیں طلب کی تھیں، وہ کتابیں ہم مفتی صاحب کے ساتھ بھیج چکے ہیں، انہوں نے ہمیں لکھا ہے کہ ارسال کردہ کتب میں درج ذیل کتابیں بھی آئی ہیں:
کتاب الأعلام ۱۴۰ ریال ابن حزم ۹ ریال
تاریخ القضاۃ ۴۰ ریال (شرح) القسطلّاني علی (صحیح) البخاري ۳۰۰ ریال
تفسیرِ طنطاوی ۱۵۰ ریال کشف الخفا ۲۵ ریال
المحرّر في الفقہ ۱۵ ریال
ان کتابوں کی قیمتیں ’’مکتبۃ المثنّی‘‘ (بغداد) کی قیمتوں کی بنسبت زیادہ ہیں، جبکہ موصوف کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ فی الحال یہ کتابیں ہمارے ہاں کمیاب ہیں، وہ ان کتابوں کو لوٹا دیں، اور آپ انہیں اپنے پاس محفوظ کرلیجیے، (اگرچہ) یہ آنجناب کے لیے باعثِ تکلیف ہوگا! ’’نصب الرایۃ‘‘ اور مجلس کی دیگر کتابوں کی قیمت (مولانا طاسین صاحب) کے سپرد کردیجیے۔ ’’نصب الرایۃ‘‘ کا ایک نسخہ بنام قاری عبد القادر جان تھا، وہ ان کے ہاں رہ گیا ہے۔ بقیہ حساب کی تفصیل بھیج دیجیے، سیدی! آپ کا بے حد شکریہ!
امسال ہم نے حافظ ابن حجرؒ کی ’’تقریب التہذيب‘‘، مقدسی کی ’’فضائل الأعمال‘‘ اور ابن تیمیہؒ کے رسائل میں سے ’’تسلیۃ أہل المصائب‘‘ وغیرہ کی طباعت شروع کی ہے۔ موسمِ حج تک کتابیں پہنچ جائیں گی، ان شاء اللہ! بڑی کتابیں شعبان تک ہمیں موصول ہوں گی، آپ کی مطلوبہ کتابیں محفوظ رکھ لوں گا۔
یہ تو ضروری امور ہوئے۔ آپ کے ہاں موجود اعزہ کو مخلصانہ سلام، ہمارے گھر والوں کی جانب سے آپ کے اہلِ خانہ کو سلام۔ مولانا احمد اور فضل اللہ بھی آپ کو ہدیۂ سلام پیش کر رہے ہیں۔
آپ کا مُحب
محمد نَمْنَکَانی
پس نوشت: بڑی کتابیں فی الحال نادر ہیں، مثلاً: (شرح) العيني علی (صحيح) البخاري، تفسير روح المعاني، (تفسير روح) البيان، (تفسير) القرطبي، المجموع شرح المہذّب، قسطلّاني بخاري (إرشاد الساري)، شامي (ردّ المحتار)، البحر (الرائق)، بدائع (الصنائع)، المغني (فقہ حنبلی)، (شرح) الزرقاني علی (مختصر) الخليل (فقہ مالکی)۔
۲۵ ؍جمادی الاولیٰ ۱۳۸۱ھ
جناب صاحبِ فضیلت، مولانا سید محمد یوسف بنوری، اللہ تعالیٰ آپ کی حیاتِ طیبہ میں برکت عطا فرمائے!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بعد سلام، اُمید ہے کہ آپ کامل صحت وعافیت اور دائمی توفیق کے ساتھ ہوں گے، آپ کا مُحب بھی بخیر وعافیت ہے، الحمدللہ! میں چار ماہ سے شام ومصر کے سفر پر تھا، اپنے محبوب وطن طیبۃ الطیّبۃ میں سلامتی کے ساتھ لوٹ آیا، والحمدللہ علٰی ذلک!
کتاب ’’تقریب التہذيب‘‘ کی طباعت دو جلدوں میں مکمل ہوگئی۔ بُرَیدہ (سعودی عرب) کے بعض دوستوں نے مجھ سے مختصر کتاب ’’التبصرۃ ابن الجوزيؒ‘‘ کو چھاپنے کا مطالبہ کیا ہے، اور ہم یہ کام شروع کرچکے ہیں۔ نیز آنجناب کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ (مولانا عبد الرحمٰن) مبارک پوری ہندی کی کتاب شرح جامع الترمذی موسوم ’’تحفۃ الأحوذي‘‘ کی دوبارہ طباعت کے لیے مکہ ومدینہ کے علماء کی ایک کمیٹی بن چکی ہے، اور انہوں نے میرے ذمہ لگایا کہ یہ کام میں کروں، اور کتاب کی طباعت کی نگرانی کروں، ہم یہ اعلان کرنے والے ہیں کہ کون مع مقدمہ دس جلدوں میں کتاب کا مکمل نسخہ عمدہ کاغذ کے ساتھ اسی ریال یا اس کے مساوی رقم میں حاصل کرنا چاہتا ہے؟! آنجناب سے پوشیدہ نہ ہوگا کہ صاحب ’’التحفۃ‘‘ نے اپنی اس شرح میں حنفیہ اور ان کی تالیفات پر بہت جگہوں میں اعتراضات کیے ہیں، مثلاً: وہ یوں لکھتے ہیں:
’’تنبيہ: قال صاحب العرف الشذي کذا... قلتُ: کذا... وقال صاحب بذل المجہود:... قلتُ: کذا... تنبيہ: قال صاحب الطيب الشذي:... وقال النيموي:... قلتُ: کذا ۔۔۔‘‘
میرا گمان ہے کہ ان کے کلام کے جواب کے سلسلے میں آپ کے پاس کافی مواد جمع ہوا ہوگا، جب آپ ’’جامع الترمذي‘‘ کی شرح لکھ رہے تھے، امید ہے کہ آپ ان کے کلام کے جوابات ارسال فرمائیں گے؛ تاکہ موصوف نے ’’التحفۃ‘‘ میں صاحب ’’العرف الشذي‘‘ پر جہاں (نقد وغیرہ) ذکر کیا ہے، اس کے تحت ہم (آپ کا کلام) درج کردیں۔
یہ ضروری اُمور ہوئے۔ قریبی ممکن وقت میں آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔ والسلام !
شیخ عنایت اللہ (مالکِ تاج کمپنی) سے میں نے تقاضا کیا تھا کہ آپ کو ۴۰۰ روپے سپرد کریں؛ تاکہ ان کے گزشتہ برس ارسال کردہ مصاحف کی قیمت بھیجوں؛ اس لیے کہ ان میں سے بعض مصحف ہمارے مطلوبہ نہیں، اس بنا پر مصاحف کی وصولی سے اب تک ہم انہیں فروخت نہیں کر پائے، اب ہم وہ غیر مطلوب مصحف یا تو رقم کے بدلے بھیج سکتے ہیں، یا پھر ان کو فروخت کرکے اسی وقت ان کی قیمت بذریعہ بینک بھیج دیں گے۔
ضروری اُمور کے بعد آپ کے تمام اعزہ کو میرا سلام، والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ہمارے ہاں بیٹا احمد اور فضل اللہ بھی آپ کو ہدیۂ سلام پیش کر رہے ہیں۔
آپ کا مُحب
محمد نَمْنَکَانی
جناب مکرّم، استاذِ جلیل، محترم سید محمد یوسف بنوری !
پاکیزہ وبابرکت سلام قبول کیجیے!
بعد سلام، اللہ تعالیٰ سے اُمید ہے کہ آنجناب کامل صحت وعافیت کے ساتھ ہوں گے، آپ کا مُحب بھی بخیریت ہے، اور آپ کی دائمی توفیق اور تمام کاموں میں کامیابی کے لیے دعاگو ہے۔
آپ کا آخری والا نامہ موصول ہوا، آپ کی صحتِ عالیہ پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں، تمام لکھے گئے امور علم میں آئے۔ استاذ محامد اللہ کے لیے کفالت کے متعلق ہم لکھ چکے ہیں، امید ہے کہ آپ تک پہنچ گیا ہوگا۔ نیز تمام تر حساب کتاب خواہ ہمارے ذمہ ہو یا آپ کے ذمہ ہو، شاید آپ کے پاس لکھا ہوا ہوگا، میرے پاس جو ضبط شدہ ہے وہ میں لکھ دوں گا، امید ہے کہ آنجناب اپنے حساب کو ضبط کرلیں گے؛ اس لیے ضعف اور مشاغل کی کثرت کی بنا پر مجھ پر نسیان کا غلبہ ہوگیا ہے، اب ہمارا اور آپ کا حساب آپ کے ذمہ ہی ہے۔
اساتذۂ جامعہ اور اپنے اعزہ کو میرا سلام کہیے، والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حفظ وامان میں رہیے، باقی باتیں ملاقات پر!
آپ کا مُحب
محمد نَمْنَکَانی
پس نوشت: براہِ کرم شیخ عنایت اللہ منتظمِ تاج کمپنی نے آپ کو جو رقم سپرد کی تھی، وہ انہی کو دے دیجیے؛ کیونکہ ان کے جو بقیہ مصاحف ہمارے پاس تھے، ہم نے فروخت کردیے ہیں، (انہیں) یاد دلائیے کہ نَمْنَکَانی نے آپ سے گزشتہ سال مصاحف طلب کیے تھے، اور آپ نے ان سے وعدہ کیا تھا، آئندہ سال بھیج دوں گا، لیکن آپ نے وعدہ خلافی کی اور مطلوبہ مصاحف نہیں بھیجے۔