بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

مکاتیبِ شیخ محمد نَمْنَکَانی   رحمۃ اللہ علیہ بنام حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ 

سلسلۂ مکاتیب حضرت بنوریؒ

مکاتیبِ شیخ محمد نَمْنَکَانی   رحمۃ اللہ علیہ (1) بنام حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ 

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ محمد نَمْنَکَانی  رحمۃ اللہ علیہ بنام حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ 
حضرت صاحبِ فضیلت وسعادت مولانا سید محمد یوسف بنوری موقّر!

سلام اور محبتیں قبول کیجیے، اللہ سے اُمید ہے کہ آنجناب، اہلِ خانہ واولادِ کرام دائمی صحت اور کامل عافیت کے ساتھ ہوں گے۔ آنجناب نے میرے بارے میں دریافت فرمایا ہے، اللہ کا شکر ہے سب خیریت ہے۔ آنجناب کے لیے حرمِ نبوی شریف میں تمام تر مقاصد واہداف کے حصول کے لیے دعاگو ہوں۔ 
بعد ازاں اُمید ہے کہ آپ نے مالکِ نور محمد کتب خانہ سے درج ذیل کی ترسیل کے متعلق بات کرلی ہوگی:
1-مشکاۃ المصابیح مجلّد ۱۰ عدد ، 2-بلوغ المرام۳ عدد، 3-نور الأنوارمُحشّی مترجم مجلّد ۵ عدد، 4-الحزب الأعظم مجلّد ۱۰ عدد، 5-سیرتِ پاک مجلّد ۱۰ عدد
ان کتابوں کی قیمت ادا کردیجیے، یہ ضروری کام ہے، آپ کا شکر گزار ہوں۔ مدیرِ مجلسِ علمی جناب طاسین صاحب کی مطلوبہ کتابوں میں سے بعض مہیا کرلی ہیں، ان کی تفصیل درجِ ذیل ہے:
تفسیر وعلوم القرآن:    1-تفسیر جوہري طنطاوي، 2-القرآن ینبوع العلوم، ج: ۱، 3-في بلاغۃ القرآن، 4-الفلسفۃ القرآنيۃ، 5-مقدّمتان في علوم القرآن
(علوم الحديث):     1-مسند الإمام أحمد جديد، ج :۱۰، 2-معالم السنن للخطّابي، 3-المنہل العذب (المورود) شرح سنن أبي داود
(الفقہ و) أصول الفقہ:    1-تاريخ الفقہ الإسلامي للدکتور محمد يوسف، 2-الفقہ الإسلامي، 3-مصادر الحق في الفقہ الإسلامي، 4-الفروق للقرافي، 5-کتاب الأصل، 6-الفقہ المُـقارن، 7-التعزير في الشريعۃ الإسلاميۃ، 8-إحکام الأحکام للآمدي۔
یہ تو ضروری کام ہوا۔ اپنے ہاں کے تمام عزیزوں کو میرا سلام کہیے، ہماری جانب بیٹا احمد، فضل اللہ مخدوم، قاری عباس، مولانا عبد الغفور صاحب اور مولانا بدرِ عالم صاحب آپ کو ہدیۂ سلام پیش کر رہے ہیں۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!                                     دعاگو:  محمد نَمْنَکَانی
پس نوشت
آپ کے خط کے جواب کے ساتھ موجود دوسرا جوابی خط لاہور میں مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی کو ارسال کردیجیے گا۔
نوٹ: کراچی کی مطبوعات میں سے مطلوبہ کتابیں ہمارے راستے میں ہوں گی، ان شاء اللہ! 

حاشیہ(1): 

شیخ محمد بن سلطان نَمْنَکَانِی سنہ ۱۳۲۵ھ میں ’’نَمنَکَان‘‘ (ازبکستان) میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم یہیں حاصل کی، انتہائی تعلیم کے لیے غیر منقسم ہندوستان گئے، بعد ازاں مدینہ طیبہ میں مستقل طور پر مقیم ہوگئے، اور مسجد نبوی میں مدرّس اور ناظمِ کتب خانہ رہے، اس دور میں مدینہ طیبہ کے معروف علماء میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ سنہ ۱۳۶۰ھ میں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے باب الرحمۃ کے قریب ایک تجارتی مکتبہ کی بنیاد ڈالی، اس کتب خانہ میں علومِ اسلامیہ کے متعلق کتابیں دست یاب ہوتی تھیں، شیخ موصوف، بیرون حجاز (مصر، ترکی، ہندوستان وپاکستان وغیرہ) سے بھی کتابیں درآمد کرکے اہلِ علم کو مہیا کرتے تھے، پیشِ نظر خطوط سے اندازہ سے ہوگا کہ حضرت والد ماجدv سے بھی کتابوں کے تبادلے کی نوعیت کا تعلق رہا ہے، نیز بہت سی اہم کتابیں انہوں نے اپنے مکتبہ سے شائع کی ہیں، جن میں علامہ سہمودی  رحمۃ اللہ علیہ  کی ’’وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفی‘‘ اور شیخ حَجَوِی رحمۃ اللہ علیہ   کی ’’الفکر السامي في تاريخ الفقہ الإسلامي‘‘ نمایاں ہیں۔ سنہ ۱۳۹۷ھ میں مدینہ طیبہ میں انتقال ہوا، اور بقیع میں مدفون ہوئے۔ بظاہر مصر وحجاز کے سفر کے دوران حضرت والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ  کے ساتھ راہ ورسم ہوئی، اور وفات تک تعلق رہا، عجیب اتفاق ہے کہ دونوں حضرات کی رحلت بھی ایک ہی سال میں ہوئی۔ پیشِ نظر خطوط میں سے بیشتر عربی میں ہیں اور قارئین کے استفادہ کے لیے ان کا ترجمہ کیا گیا ہے، جبکہ بعض خطوط اردو میں لکھے گئے ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ نمنکانی  ؒ اردو زبان سے بھی واقف تھے۔ مزید حالات کے لیے دیکھیے: ’’العلماء والأدباء الوراقون في الحجاز في القرن الرابع عشر الہجري‘‘، للشیخ إبراہيم عبد الوہاب أبوسليمان، ص:۱۷۷، نادي الطائف الأدبي، الطائف، الطبعۃ الأولٰی، ۱۴۲۳ھـ/۲۰۰۲ء ۔
 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۶؍ جمادی الاولیٰ ۱۳۷۳ھ مطابق ۹ ؍فروری ۱۹۵۴ء
حضرت صاحبِ فضیلت، مولانا سید محمد یوسف بنوری!

 اللہ تعالیٰ آپ کی پاکیزہ حیات سے ہمیں مستفید فرمائے، آمین!
سلام اور طویل عمر ودائمیِ توفیق کی دعا کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ آنجناب مع معزّز اہلِ خانہ کامل صحت وعافیت وآرام سے ہوں۔ آنجناب نے میرے متعلق دریافت فرمایا ہے، الحمد للہ سب خیریت ہے۔ 
بعد ازاں آپ کا والا نامہ وصول پایا، قرآن مجید مترجم عبداللہ یوسف ایک ہفتہ قبل موصول ہوگیا، لیکن نصب الرایۃ تاحال نہیں پہنچی۔ قرآن مجید مترجم عبد اللہ یوسف کا حصہ سوم اور تین اجزاء میں مکمل سیٹ آیا ہے، جبکہ (الگ سے) مطلوب حصہ دوم تھا جس کا آغاز ’’یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْکُمْ‘‘ (پارہ: ۱۱) سے اور انتہا پارہ ۲۱ پر ہے، حصہ سوم مطلوب نہیں تھا۔ حصہ سوم جو ہمارے پاس ہے، ہم بذریعہ ڈاک ارسال کردیں گے، ان شاء اللہ!۔
اور آپ مصحفِ مترجم کا حصہ دوم مع کتاب ’’نصب الرایۃ‘‘ ارسال کردیجیے گا، جس کے بھیجنے کا آپ نے اپنے خط میں ذکر کیا تھا، ’’نصب الرایۃ‘‘ مع مصحفِ مترجم حصہ دوم ’’تاج کمپنی‘‘ کراچی کی منتظمہ کو سپرد کردیجیے؛ کیونکہ میں نے ان سے مصاحفِ شریفہ طلب کیے ہیں، وہ مطلوبہ مصاحف کے ساتھ یہ کتابیں بھی بھیج دیں گے تو خرچ کم ہوگا۔ 
آں محترم کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ مجھے شیخ احمد بساطی مرحوم کے ورثاء کے ہاں ’’شرحُ الاُبِّي والسنوسي علی صحیح مسلم‘‘ کا ایک صحیح سالم نسخہ قدیم جلد (پچاس ریال ) میں حاصل ہوا ہے، جس پر مہر مٹی ہوئی ہے، آنجناب موافق ہوں تو بذریعہ ڈاک ارسال کردوں، آپ کے جواب کا انتظار ہے۔ یہ ضروری کام ہوا۔ ہماری جانب مولانا بدرِ عالم صاحب، شیخ عبد الغفور، مقبول سبحانی، فضل اللہ اور مولانا احمد آپ کو بہت سلام کہہ رہے ہیں، انتہائی احترام کے ساتھ قبول فرمائیے۔ آپ کو اور متعلقین کو سلام! 
                                                                                                       مخلص دعاگو:  محمد نَمْنَکَانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت صاحبِ فضیلت، مولانا شیخ سید محمد یوسف صاحب بنوری موقّر! 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! 

اللہ تعالیٰ سے اُمید ہے کہ آنجناب مع اہلِ خانہ واولاد اچھی صحت کے ساتھ ہوں گے۔ ہمارے بارے میں دریافت ہو تو الحمدللہ ہر طرف خیریت ہے۔ آپ کے لیے حرمِ نبوی شریف میں نیک دعائیں کرتا ہوں۔ 
آنجناب کو یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ کتاب ’’نصب الرایۃ‘‘ پانچ پارسلوں میں مکمل اسی ہفتے پہنچ گئی ہے، ہماری طرف سے آپ کا بے حد شکریہ! ترجمہ قرآن کریم کا حصہ سوم بعض زائرین کے ہاتھ ارسال کروں گا جو زیارت کے ارادہ سے کراچی آئیں گے اور مدرسہ میں مہمان بن کر رُکیں گے، ان کے ساتھ ۲۲۵ پاکستانی روپے سکہ رائج الوقت بھی بھیجوں گا، جو آنجناب کے پاس امانت ہوں گے، بوقتِ ضرورت بقیہ رقم کے ساتھ لے لیں گے۔ ’’شرحُ الاُبّي والسنوسي‘‘ جس کی مہر مٹی ہوئی تھی، معلوم ہوا کہ وہ وقف کتاب ہے، ورثاء کا کہنا ہے کہ ان کے والد کے ذمہ قرض تھا، اور عدالتِ شرعیہ نے انہیں (مرحوم کی) مملوکہ وموقوفہ کتابوں کو بیچنے کی اجازت اور حکم دیا ہے، ان کے پاس اس بارے میں (عدالتی) آرڈر موجود ہے۔ اس بنا پر ان کی جانب سے کتب فروشوں کو کتابیں پیش کرنے پر آخر دو ہفتے قبل میں نے وہ کتابیں خرید لی ہیں، ابھی مملوکہ کتابوں کو موقوفہ کتابوں سے الگ کر رہا ہوں، کسی متعین مقام پر موقوفہ کتب کو میں ان کے مقام پر لوٹادوں گا، اور (جن کتابوں میں) وقفِ مطلق ہوا جیسے وقف للہ تعالیٰ، انہیں اپنے پاس محفوظ رکھوں گا۔ مذکورہ کتابِ اُبّی وسنوسی کا کاغذ عمدہ ہے، لیکن جلد خستہ حال ہے، تجدید کی متقاضی ہے، بظاہر مہر کی مٹی ہوئی جگہ میں لکھا تھا: ’’وقف للہ تعالٰی لا غیر‘‘، لیکن اسے مٹادیا ہے، اور یہ کتاب اب بہت کم ملتی ہے، سنہ ۱۳۲۷ھ میں سلطان مراکشی مغربِ اقصیٰ مولائی عبد الحفیظ کے خرچ پر شائع ہوئی ہے۔ 
ضروری امور مکمل ہوئے، مولانا بدرِ عالم، شیخ عبد الغفور صاحب، شیخ مقبول سبحانی صاحب، شیخ ابراہیم صاحب خُتَنی، قاری عباس صاحب، فضل اللہ صاحب اور مولانا احمد، سب آپ کو ہدیۂ سلام پیش کر رہے ہیں۔ میرے گھر والوں کی جانب سے اپنے معزّز اہلِ خانہ اور صاحب زادیوں کو سلام پہنچائیے، آپ کو اور تمام متعلقین کو سلام!                                                  

مخلص : محمد نَمْنَکَانی کُتْبی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۷ ؍شوال ۱۳۷۳ھ - ۱۸ جون ۱۹۵۴ء
محترم جناب مولانا محمد یوسف صاحب بنوری! 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

بعد سلامِ مسنون آنکہ جناب کا والانامہ صادر ہوا تھا، جواب میں تاخیر ہوئی، معاف فرمائیں۔ وجہ یہ ہوئی کہ بندہ اوائلِ شعبان میں بیمار ہوا، اور تمام رمضان المبارک علالت کا سلسلہ جاری رہا، بخار اور وجعِ مفاصل (جوڑوں کے درد) کی شکایت تھی، اب الحمدللہ بخار نہیں، مگر کمزوری اور کسی قدر درد باقی ہے، جلد ہی ان شاء اللہ رفع ہوجائے گا، دعا کا خواست گار ہوں۔
ماہِ رجب میں دو صاحب‘ کراچی کے بڑے تاجر ہیں، ایک صاحب نے دوائی خانہ کھول رکھا ہے یا ایجنسی ولایتی دواؤں کی لے رکھی ہے، متوسط قد ہے، اور تبلیغی جماعت سے خاص تعلق ہے، اتفاق سے نام بھی کسی کا یاد نہیں رہا، نام اور پتہ معلوم ہوگا(تو) اطلاع دوں گا، دہلی کے مہاجرین میں سے ہیں، ’’پھاٹک حبش خان‘‘ کے رہنے والے ہیں، ان کو دیا تھا کہ یہ مولانا محمد یوسف صاحب کو یا تاج کمپنی والوں کو دے دیں، وہ بہت پختہ وعدہ کر کے لے گئے تھے، مگر آپ کے خط سے پتہ چلتا ہے کہ تاہنوز انہوں نے نہیں پہنچایا، بہت افسوس ہے۔ دوسرے ایک صاحب تھے، طویل قامت جنرل مرچنٹ ہیں، بڑے تاجر ہیں، یہ دو صاحب ہوائی جہاز میں آتے تھے، حیدر معلّمِ پاکستان کے یہاں قیام کیا تھا، مولانا سید محمود صاحب سے واقفیت تھی، ان شاء اللہ معلّم سے پتہ دریافت کرکے ضرور لکھوں گا، آپ بھی معلوم کرنے کی کوشش فرمائیں، کچھ روپیہ بھی ان کو دینا چاہا تھا، لیکن روپیہ قبول نہیں کیا، صرف جزء سوم ترجمہ قرآن پاک (انگریزی) لے گئے تھے۔ ’’نصب الرایۃ‘‘ پہنچ گئی ہے، تاج کمپنی والوں کا مال جدہ پہنچ گیا، بقیہ کتب بھی ان شاء اللہ عنقریب مل جائیں گی، قیمتِ کتبِ مطلوبہ حسبِ ذیل ہے:
۱- تاریخ ابن کثیر ۸۰ ریال
۲- تفسیر المراغي ۱۵۰ ریال
۳- شرح مسلم الاُبِّي والسنوسي، مصر سے دست یاب ہوگئی، عنقریب ان شاء اللہ آنے والی ہے، جس قیمت سے پہنچے گی، آنے پر اطلاع دوں گا، اس کو آپ کے لیے رکھ دیا جائے گا، جو کتاب پرانی تھی وہ وقف نکلی، اس لیے جدید طلب کی گئی۔ 
بقیہ سب طرح خیریت، جناب کے لیے ہمیشہ دعاگو ہوں۔ روضۂ اطہر  صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی صلاۃ وسلام عرض کردیتا ہوں۔ مولانا بدرِ عالم صاحب بخیریت ہیں، سلام فرماتے ہیں۔
                                                               مخلص محمد نَمْنَکَانی (1)
حاشیہ(1):نوٹ: یہ خط خود شیخ محمد نَمْنَکانی رحمۃ اللہ علیہ نے اردو میں لکھا ہے، جبکہ پچھلے خطوط کا ترجمہ کیا گیا ہے۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے