بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

مکاتیبِ شیخ رضوان محمد رضوان   رحمۃ اللہ علیہ بنام حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ 


مکاتیبِ شیخ رضوان محمد رضوان   رحمۃ اللہ علیہ  (1)

بنام حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ 


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ رضوان محمد رضوان  رحمۃ اللہ علیہ   بنام حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ 

جناب استاذِ جلیل، صدیقِ کریم مولانا شیخ محمد یوسف بنوری حفظہ اللہ!

سلامِ عطر بیز اور بےپناہ شوق و محبت قبول کیجیے!
بعد سلام، آپ کا والا نامہ اور میری کتاب ’’فہارس البخاري‘‘ کی تقریظ کے متعلق آپ کے گراں قدر کلمات کی وصول یابی باعثِ شرف ہوئی، جلد جواب دینے پر جناب استاذ کا شکر گزار ہوں، اور اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ آپ کو ہمیشہ علم واہلِ علم اور خاص طور پر علمِ حدیث شریف کا خادم بنائے رکھے۔ آنجناب کی کریمانہ خواہش کی بنا پر میں نے جناب مولانا استاذ (محمد زاہد) کوثری کو بھی تقریظ سے مطلع کیا، انہوں نے بےحد پسندیدگی اور ہر پہلو سے مسرت کا اظہار کیا، اور شیخ موصوف نے مجھے بتایا کہ انہوں نے آنجناب کے نام ایک مکتوب ارسال کیا تھا جس میں ’’فہارس البخاري‘‘ کی تعریف کی تھی، لیکن بظاہر آپ کے والانامہ کی وصولی کے بعد (وہ مکتوب پہنچا ہوگا)، شیخ موصوف آنجناب کو سلام کا ہدیہ پیش کر رہے ہیں۔ 
آپ کی کریمانہ رائے تھی کہ امام بخاریؒ کی متفرد احادیث کی اور مظانِ قریبہ کے علاوہ دیگر مقامات میں مذکور احادیث کی الگ فہرستیں مرتب کروں، اس طبع سے فارغ ہونے کے بعد اس ذمہ داری کی ادائیگی شروع کروں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ! توفیق تو اللہ وحدہٗ کی طرف سے ہی ہوتی ہے۔ 
یہ مختصر جواب ہے، اور دراصل یہ میرے لیے عزت افزا مکاتبت کا آغاز ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ! جلد ہی کسی فرصت میں دوبارہ خط لکھوں گا، خوانِ علم مجھ ایسوں کے لیے وسیع ہوگا، اگرچہ آنجناب کے کندھوں پر (ذمہ داریوں کے) بہت بوجھ ہوں گے، مجھے ان کا اِدراک ہے، جناب استاذ کوثری بھی ان کے متعلق مجھ سے ذکر کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام اُمور میں آپ کا مددگار ہو، وہی توفیق دہندہ اور مددگار ہے۔ 
محبِ مشتاق کی جانب سے والسلام علیکم! 
                                                        رضوان محمد رضوان
                                                      ۲۰؍ رجب سنہ ۱۳۷۰ھ
                                                       ۲۶ ؍اپریل سنہ ۱۹۵۱ء

حاشیہ:1- حضرت والد ماجد  رحمۃ اللہ علیہ  کے نام شیخ رضوان محمد رضوان  رحمۃ اللہ علیہ  کے مکاتیب کا ترجمہ نذرِ قارئین ہے۔
شیخ رضوان محمد رضوان  رحمۃ اللہ علیہ  نے سنہ ۱۳۱۳ھ میں اس جہانِ فانی میں آنکھ کھولی، اور جامع ازہر میں علم حاصل کیا، اخوان المسلمین کے ابتدائی دور میں اس کا حصہ رہے، بعد ازاں جماعت کی مجلسِ شوری کے رکن بنے، بانیِ جماعت شیخ حسن البنّا  رحمۃ اللہ علیہ  نے سفرِ حج کے موقع پر انہیں اپنا نائب تجویز کیا۔ مولانا ابو الوفاء افغانی  رحمۃ اللہ علیہ  کے ادارہ ’’لجنۃ إحياء المعارف النعمانيۃ‘‘ (حیدرآباد دکن، انڈیا) کے نمائندے اور مصر میں اس ادارے کی کتابوں کی طباعت کے نگران تھے۔ علامہ محمد زاہد کوثری  رحمۃ اللہ علیہ  کے قریبی شاگردوں میں سے تھے، اس لیے والدِ ماجد حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری  رحمۃ اللہ علیہ  کے ساتھ بھی مخلصانہ وبرادرانہ تعلق تھا، جانبین سے کتابوں کے تبادلہ کا سلسلہ جاری رہتا تھا، پیشِ نگاہ مکاتیب سے اس تعلق کا اندازہ ہوگا۔ ان کی کتاب ’’فہارس البخاري‘‘ علومِ حدیث کے وابستگان میں معروف ہے، اس کے علاوہ متعدد کتب پر انہوں نے تحقیقی کام کیا ہے، مثلاً: ’’بلوغ المرام من أدلۃ الأحکام للحافظ ابن حجر العسقلانيؒ، الابتہاج بأذکار المسافر الحاج للحافظ السخاويؒ، فتوح البلدان للإمام البلاذريؒ، حجۃ المصطفٰی للإمام الحافظ محب الدين الطبريؒ، اور مدارک المرام في مناسک الصيام للإمام القسطلانيؒ،وغیرہ۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناب استاذِ جلیل، مولانا شیخ محمد یوسف بنوری حفظہ اللہ! 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ! 

بعد سلام، آنجناب کا لطیف وتابناک مکتوب باعثِ شرف ہوا، اور مجھے بہت مسرت ہوئی، ’’مختصر الطحاوي‘‘ کی وصولیابی ہوتے ہی آپ کا جلد ہی خط لکھنا قابلِ تعریف ہے۔ اُمید ہے کہ کتاب کے بقیہ نسخے بھی جلد پہنچ جائیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ! کتاب ’’الاختیار شرح المختار‘‘ اور آپ کی دیگر مطلوبہ کتب کی ترسیل کے لیے میں تیار ہوں، اس کی قیمت ۸۰ قرش مصری ہے، آپ کے علم میں ہے کہ نقد رقم بھیجنا دشوار اور وقت طلب کام ہے، امید ہے کہ میں اس دشوار عمل کے لیے پاکستان میں مصر کے سفیر جناب عبد الرحمٰن عزّام بک سے رابطہ کروں گا، وہ ان دنوں مصر میں ہیں۔ 
گزشتہ کل میں نے آپ کو ’’فہارس البخاري‘‘ کے دس نسخے اور زرِ ترسیل کی رسید ارسال کی ہے؛ تاکہ دلچسی رکھنے والوں کی رغبت کا باعث ہوں۔ باہمی دوستانہ کی بنا پر میں نے طے کیا ہے کہ ایک نسخے کی قیمت میں بیس فیصد رعایت دوں، اور اس رعایت کے بعد قیمت میں ترسیل کے اخراجات بڑھالیے جائیں۔ اُمید ہے آپ پاکستان میں کتب فروشوں سے رابطے استوار کریں گے؛ تاکہ وہ مصر کے کتب فروشوں سے اس کتاب کو طلب کریں؛ کیونکہ ان کے ساتھ معاملات طے شدہ ہیں، یہ کتاب مکتبۃ الحلبي، المکتبۃ التجاريۃ اور مکتبۃ الخانجي میں دست یاب ہے۔ آنجناب ’’مختصر الطحاوي‘‘ کی طباعت، کاغذ اور تصحیح کی تعریف کر رہے تھے، آپ کی ’’شرح الترمذي‘‘ (معارف السنن) کی طباعت کے لیے مجھے حکم کے تابع پائیں گے، جناب استاذ امام کوثری ( اللہ تعالیٰ علم واہلِ علم کے لیے ذخیرہ کے طور پر اُن کی حفاظت فرمائے) نے مجھ سے اس کتاب کا تذکرہ کیا، تعریف فرمائی، اور اسے ’’تحفۃ الأحوذي‘‘ سے برتر قرار دیا۔ مولانا کوثری (اللہ تعالیٰ انہیں شفا وعافیت عطا فرمائے) کی آنکھوں کا آپریشن ہوا ہے، اور الحمد للہ آپریشن کامیاب ہوا، لیکن اس سے شفایابی سے قبل اچانک انہیں ’’حبسِ بول‘‘ کا مرض لاحق ہوگیا، اور وہ اس وقت علاج کے لیے ہسپتال میں داخل ہیں، ان کی راحت کی خاطر ملاقات کیے بغیر ان کے بارے پوچھ تاچھ کرتا اور سلام اور دعا بھیجتا رہتا ہوں؛ کیونکہ ڈاکٹروں نے کلی طور پر راحت و آرام کی تلقین کی ہے، اللہ تعالیٰ انہیں جلد شفا عطا فرمائے۔ آنجناب کا سلام وپیام بھی انہیں پہنچا دیا ہے، صحت یابی کے وقت بذاتِ خود آپ کا سوال پُرسشِ احوال پہنچاؤں گا۔ 
آخر میں سلام قبول کرنے کی اُمید ہے۔ 
                                                  رضوان محمد رضوان
                                                ۲۵؍ ربیع الآخر ۱۳۷۱ھ
                                                 ۲۳ ؍جنوری ۱۹۵۲ء
پس نوشت: محترم استاذ، جامعہ عربیہ کی ثقافتی کمیٹی نے میرے اور مولانا کوثری کے دوست، برادر محمد آفندی رشاد عبد المطلب کو مخطوطات کے فوٹو کے لیے ایک وفد کے ہمراہ پاکستان اور ہندوستان بھیجا ہے، شاید وہ آنجناب کی زیارت کا شرف حاصل کریں گے، ان کے ساتھ تعاون کی سفارش کرتا ہوں۔ موصوف استقامت اور کمالات میں نادرِ زمانہ شخصیت ہیں۔ ملاقات کے وقت انہیں میرا سلام کہیے گا۔      رضوان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جناب صاحبِ فضیلت، استاذِ کبیر، مولانا شیخ محمد یوسف بنوری حفظہ اللہ! 

سلامِ عطر بیز اور بےپناہ شوق ومحبت قبول کیجیے!
بعد سلام، آں محترم سیدِ ہمام بشری کو یہ خبر دیتے ہوئے مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ مولانا استاذ کوثری اپنے علم وفضل اور بلند روحِ سلامی سے آباد گھر میں واپس تشریف لاچکے ہیں، ہسپتال سے فراغت کے بعد ان کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور اُن کی صحت یابی سے مسرت ہوئی، وہ اور ہم سب اللہ تعالیٰ سے ان کی کامل صحت کے لیے دعاجو ہیں۔ آنجناب کا سلام اور ان کی عافیت کے متعلق پوچھ تاچھ انہیں پہنچائی تو انہوں نے پرسشِ احوال پر آپ کا شکریہ ادا کیا۔ مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے انہیں میری بیماری کے بارے میں بتایا ہے؟ میں نے ہاں کی۔ اللہ انہیں عافیت بخشے، انہوں نے مجھے حکم دیا تھا کہ استاذ ابو الوفاء (افغانی) کو بھی ان کی بیماری کے متعلق لکھوں، استاذ ابو الوفاء کو لکھنے کے حکم پر قیاس کرتے ہوئے میں نے آنجناب کو بھی یہ بات لکھ دی تھی۔ اُمید ہے کہ جلد اُن سے دوبارہ ملاقات ہوگی، اور آں محترم کا سلام ودعا اور تحیاتِ غالیہ پہنچادوں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ! 
آنجناب نے ’’فتح الباري‘‘ طبعہ امیریہ کے بارے پوچھا ہے، اس کی قیمت ۱۶ سے ۱۸ مصری گنیاں ہوگی، اور بہت نایاب ہے، آپ کو اندازہ ہو رہا ہوگا کہ اس کی قیمت بھی اسی وجہ سے بڑھ گئی ہے۔ آپ نے ’’شرح القسطلّاني‘‘ (إرشاد الساري في شرح صحيح البخاري) کے بارے دریافت کیا ہے، اس کے طبعہ امیریہ کی قیمت ۶ گنیاں ہے، اس کے حاشیہ پر ’’شرح النووي علی مسلم‘‘ ہے۔ ’’شرح العیني‘‘ (عمدۃ القاري شرح صحيح البخاري) کے طبعہ منیریہ کی قیمت شیخ منیر کی وفات کے بعد بڑھ کر ۱۵ گنیاں ہوگئی ہے، ورثاء نے ان کا مکتبہ بعض تاجروں کو فروخت کردیا ہے، اور انہوں نے قیمتیں بڑھادی ہیں۔ 
گزشتہ کل آپ کے بابرکت کارڈ کے پہنچنے پر ’’فہارس البخاري‘‘ کی وصول یابی کا علم ہوا، میرے لیے بڑے شرف کی بات ہوگی کہ ان نسخوں کے فروخت ہونے کے بعد اُن کی قیمت آنجناب کے پاس امانت ہوگی۔ اُمید ہے کہ ’’نصب الرایۃ‘‘ مجھے بھیجنے سے قبل اس کی قیمت بتائیں گے، تاکہ میں کتب فروشوں کو پیش کروں؛ کیونکہ یہ مجھ پر لازم نہ ہوگی، اور میں تاجروں کے ساتھ اس کی خریداری اور زرِ ترسیل کا معاہدہ کروں گا۔ نیز ’’فتح الملہم‘‘ کی تین جلدوں اور آپ کی زیرِ نگرانی قاہرہ سے طبع شدہ ’’شرح البخاري‘‘ (فيض الباري علی صحيح البخاري) کی قیمتیں بھی بتائیے، اس لیے کہ ممکن ہے ’’فہارس البخاري‘‘ کی قیمت کے بدلے بعض کتب فروشوں کے لیے یہ کتابیں آپ سے طلب کروں، ان شاء اللہ تعالیٰ! اگر آنجناب کی رائے میں ’’فہارس البخاري‘‘ کے متعلق رسائل واخبارات میں اشتہار فائدہ مند ہو تو ارسال کردہ نسخوں کو فروخت کرنے کے بعد اس میں کوئی مانع نہیں۔ 
اخیر میں آنجناب سے توقع ہے کہ پاکستان کے کتب فروشوں سے رابطہ فرمائیں گے؛ تاکہ وہ مجھ سے براہِ راست یا قاہرہ کے تاجرانِ کتب سے ’’فہارس البخاري‘‘ طلب کریں۔ آپ کو محسوس ہو رہا ہوگا کہ میں جری ہوکر آپ سے پاکستان میں ’’فہارس البخاري‘‘ کی تشہیر کا تقاضا کر رہا ہوں، اس لیے کہ اہلِ علم اور طلبۂ علم کے درمیان اسلامی ثقافت کی اشاعت کے متعلق آنجناب کے مزاج ومذاق سے میں واقف ہوں، اُمید ہے کہ اس میں کوئی شرم وحیا وتکلف نہ ہوگا۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ! 
                                                   رضوان محمد رضوان
                                                ۸؍ جمادی الآخرۃ ۱۳۷۱ھ
                                                   ۴ ؍مارچ ۱۹۵۲ء

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جناب استاذِ جلیل، مولانا شیخ محمد یوسف بنوری ! 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

بعد سلام، میں آنجناب سے مولانا صاحبِ فضیلت، استاذِ کبیر، شیخ محمد زاہد کوثری (اللہ ان سے راضی ہو) کی وفات پر تعزیت کرتا ہوں، وہ پاک روح بروزِ اتوار ۱۹؍ ذیقعدہ ساڑھے چار بجے شام راضی ومرضی حالت میں اپنے رب تک پہنچی، اور بروز پیر جامعِ ازہر میں نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقبرہ امام شافعیؒ میں مدفون ہوئے۔ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون! والسلام علی سیدي ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
                                                             رضوان محمد رضوان
                                                          ۲۸؍ ذیقعدہ سنہ ۱۳۷۱ھ
                                                             ۱۹؍ اگست ۱۹۵۲ء

جناب استاذِ جلیل، علامہ بلیل، شیخ محمد یوسف بنوری! 
سلامِ عطر بیز اور بےپناہ شوق ومحبت قبول کیجیے!
بعد سلام، انتہائی مسرت کے ساتھ ’’نصب الرایۃ‘‘ وصول پائی، انتہائی نفیس کتاب ہے، پانچ نسخے وصول پائے، توقع ہے کہ ان کی قیمت اور زرِ ترسیل لکھیں گے؛ تاکہ انہیں فروخت کرسکوں، ’’فہارس البخاري‘‘ کی قیمت منہا کرکے بقیہ رقم آنجناب کے نام سے محفوظ ہوگی۔ میں نے اور ہمارے استاذِ کبیر علامہ کوثریؒ کے تلامذہ کی ایک جماعت نے ’’مقالات الکوثري‘‘ طبع کی ہے، یہ وہ مقالات ہیں جو جناب موصوف نے مصر کے قیام کے دوران اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کے لیے تحریر فرمائے تھے، اس کتاب کے کل ۳۰ فارم ہیں، ہر فارم درمیانے سائز کے ۱۶؍ صفحات پر مشتمل ہے، کتاب کے طبع شدہ فارم جلد آنجناب کی خدمت میں اس امید کے ساتھ ارسال کروں گا کہ آپ انہیں ملاحظہ فرمائیں گے اور اپنے سیّال اور سہلِ ممتنع قلم سے اس کتاب کو قارئین کے سامنے پیش کریں گے (یعنی کتاب پر مقدمہ لکھیں گے)، آں محترم اسے سب سے بہتر طور پر قارئین کو پیش کرسکتے ہیں؛ وإنما یعرف الفضلَ من الناس ذووہ! (اہلِ کمال ہی کمال سے شناسا ہوسکتے ہیں) مزید برآں آپ دونوں حضرات کے درمیان سچا دوستانہ اور باہمی تعارف کے بعد طویل دورانیے میں جانبین سے مکاتبت کا سلسلہ جاری رہا ہے، بارہا حضرت نے آنجناب کے علم وفضل اور علم واہلِ علم کے لیے مخلصانہ جذبات کا مجھ سے ذکر کیا ہے، خاص طور پر آپ کی زیرِ تحریر ’’شرح الترمذي‘‘ کا تذکرہ کرتے تھے۔ ہم جلد جواب کا مطالبہ نہیں کر رہے، کیونکہ ہم اطمینان سے کتاب شائع کریں گے۔ میری چاہت تھی کہ آنجناب کو اس کتاب کی طباعت کی خوش خبری پہنچاؤں، اور یہ فارم / اجزاء شیخ رحمہ اللہ کی سب سے محبوب شخصیت کے لیے تسلی کا باعث ہوں۔ اس مناسبت سے اُمید ہے کہ آپ مولانا استاذِ کبیر شیخ شبیر شیخ الاسلام کی ’’فتح الملہم‘‘ کی طباعت مکمل ہونے کی کوشش فرمائیں گے، یہ کتاب طباعت کے لائق ہے، اور آنجناب یہ سعیِ مشکور بہتر طور پر کرسکیں گے، کیونکہ اُن کے سامنے زانوئے تلمّذ طے کرچکے اور ان کے علومِ غالیہ سے مستفید ہوچکے ہیں، اللہ تعالیٰ اُمیدیں پوری کرے۔ 
یہاں قاہرہ کے بعض اہلِ علم مجھ سے ’’فتح الملہم‘‘ طلب فرما رہے ہیں، کیا آپ مجھے اس کی قیمت بتاسکیں گے، تاکہ انہیں اطلاع دے سکوں؟ اور کیا آنجناب قیمت بھیجنے سے قبل (نسخے) بھیج سکیں گے؟ کرم فرمائی کی توقع ہے، آنجناب کا پیشگی شکریہ! والسلام علیکم ورحمۃ اللہ! 
                                                         رضوان محمد رضوان
                                                    ۲۶؍ جمادی الثانیہ سنہ ۱۳۷۲ھ
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے