
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حضرت مولانا محمد یوسف کامل پوری رحمۃ اللہ علیہ بنام حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ
بگرامی خدمت مولانا محمد یوسف صاحب دامت برکاتہم!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اما بعد! آج بتاریخ ۵ ؍محرم مکتوبِ گرامی آپ کا وارد ہوا، سامانِ سفر تو پہلے سے تیار تھا، ’’محلی‘‘ کو متاعِ سفر سے خارج کردیا گیا۔ احقر خط کے ورودِ میمون سے (قبل) شربِ مُسہِل کا ارادہ کرچکا تھا، لہٰذا چار پانچ یوم کے مابعد امرِ ہذا سے فارغ ہوکر علی الفور گجرانوالہ وارد ہوکر مطلع کروں گا۔ اس سے قبل ایک خط پشاور سے لکھا تھا، جس میں قدرت کلفتِ انتظار کا شکوہ تھا، شاید کہ مولانا (عبدالحق) نافع کی طرح مزاجِ گرامی پر کچھ اثر پڑے، مگر یہ آپ سے ہرگز توقع نہیں ہوسکتی ہے؛ کیونکہ آپ تو ’’وبحرٌ لا تکدّرہ الدلاء‘‘ (ایسا دریا ہیں جو آب پاشی سے گدلا نہیں ہوتا)۔ میرے شکوہ وعتاب سے آپ رنجیدہ نہ ہونا، میرا آپ سے وہی تعلق ہے جس کا ’’قصیدہ عینیہ‘‘ میں اظہار کیا تھا، اور اس کو ’’بقول الإمام أبي حنیفۃ: الإیمان لا یزید ولا ینقص‘‘ (1) کی حد تک پہنچا دیا گیا ہے۔ دعا سے فراموش نہ فرمائیں۔
اٰرَاؤکُمْ وَ وُجُوْہُکُمْ وَ سُيُوْفُکُمْ
فِي الْحَادِثاَتِ إِذَا دَجَوْنَ نُجُوْمُ
مِنْہَا مَعَالِمُ لِلْہُدَی وَ مَصَابِحٗ
تَجْلُوْ الدُّجٰی وَ الْأخْرَيَاتُ رُجُوْمُ (2)
والسلام مسک الختام
محمد يوسف عفا اللہ عنہ
يوم الجمعۃ، خامس المحرّم سنۃ ۱۳۵۷ھ
از اکھوڑی
( 1) یعنی حقیقتِ ایمان میں کمی بیشی نہیں ہوتی، کیفیت میں کمی بیشی ہوتی ہے۔ اسی طرح گویا ہماری محبت میں کوئی اُتار چڑھاؤ نہیں۔
(2) آپ کی آراء، آپ کے چہرے، اور آپ کی تلواریں، اندھیرے حوادث میں ستاروں کا کردار نبھاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ نشانِ راہِ ہدایت اور چراغ ہیں، جو تاریکیوں کو دور کرتے ہیں، جبکہ کچھ ستارے (شیاطین کو دفع کرتے) شہابِ ثاقب کی مانند ہیں۔
۵؍ جمادی الاولیٰ
باسمہٖ تعالیٰ
بگرامیِ خدمت حضرت العلامۃ مولانا محمد یوسف صاحب البنوري دامت فیوضہم!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
طالبِ خیر بالخیر ہے، اور خیر وعافیت آں مجمعِ فضائل مرامِ مطلوب ہے، أھمّ المرام آں کہ ماہ ربیع الآخر کے ابتدائی عشرہ میں آں حضرت کا مکتوبِ گرامی بابت ترجمہ ’’إزالۃ الخفا‘‘ تصنیف إمام علماء الہند سیدنا وسندنا مولانا الشاہ ولي اللہ الدہلوي قدّس اللہ روحَہ موصول ہوا تھا:
چہ عجب اگر قرعۂ فال بنامِ من دیوانہ زدند!
مخدومِ مکرّم، اصل غرض تو کتابِ مذکور کا ترجمہ ہے، دوسرے امور تو عوارض میں سے ہیں، یہ فدوی اس خِطۂ مُظلِمہ میں مُعطّل اور کسی مخصوص علمی کام پر نہیں ہے بجز مطالعہ اور انتخابِ موادِ علمیہ کے۔
اس سے قبل مولانا احمد حسن صاحب ابن مولانا عبد الحی ساکنِ بھوئی گاڑ نے بوساطتِ مولوی محمد طاسین کے یہ پیغام دیا تھا، مگر ’’ہر صدائے نہ برخاست‘‘ اگر آپ کی نظرِ عنایت اس امرِ خطیر کے لیے اس بےبضاعت کو منتخب فرمائے اور اس علمی خدمت کا اہل سمجھے تو میں اس خدمت کو سعادتِ عظیم سمجھتا ہوں، اور آپ کا احسانِ عظیم خیال کروں گا، جیسا کہ اس سے پیشتر اس عاجز پر دستِ لطف وکرم مبسوط رہا ہے، باقی نان نفقہ کا انتظام تو یہ امرِ عارضی ہے۔ اس کشمکش میں آپ وقت کو ضائع نہ ہونے دیں، میں اس کام کو آپ پر چھوڑتا ہوں، حالاتِ زمانہ کو مدِنظر رکھ کر مناسب مجوّز فرمادیں، اور اگر انسان توکّل علی اللہ کو مدِنظر رکھے اور ملکِ قناعت پر نظر کرے تو ہمارے اسلاف اور علماء سلف نے اپنی تمام اعمار کو علمی خدمات پر وقف کردیا تھا، اس وقت تو مشاہرہ اور مُسانَہَہ کا سوال ہی نہ تھا، اس لیے ثانیاً یہ عرض کرتا ہوں اگر آپ کی نظرِ عنایت مجھے اس کارِ خیر پر مامور فرمادے تو میں محض اس علمی مشغلہ کی وجہ سے مشکور وممنون ہوں گا۔ والسلام علیکم وعلی من لَدَيکم!
بہرحال جواب سے مطلع فرمادیں۔
مَنْ يَّفْعَلِ الْخَيْرَ لَا يَعْدَمُ جَوَازِيَہُ
لَا يَذْہَبُ الْعُرْفُ بَيْنَ اللہِ وَالنَّاسِ (1)
رَقَمَہٗ بيدہ الأحقر محمد يوسف کان اللہ لہٗ
پس نوشت: یہ مکتوب کارڈ پر لکھا گیا ہے، اس پر اکھوڑہ، کیمبل پور (کیمل پور) ڈاک خانہ کی مہر ثبت ہے، اور مہر کے درمیان ۷ ؍اکتوبر کی تاریخ ہے، لیکن سنہ واضح نہیں۔
( 1) جو نیکی کرے گا، اس کے اجر سے محروم نہیں رہے گا۔ خدا اور لوگوں کے درمیان نیکی ختم نہیں ہوگی۔