بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

مکاتیب حضرت مولانا محمد یوسف کامل پوری  رحمۃ اللہ علیہ  بنام حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ 

سلسلۂ مکاتیب حضرت بنوریؒ


مکاتیب حضرت مولانا محمد یوسف کامل پوری  رحمۃ اللہ علیہ  بنام حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ 

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حضرت مولانا محمد یوسف کامل پوری  رحمۃ اللہ علیہ  بنام حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ 

جناب المحترم الأمجد دام فضلُہم!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! 

میں بمعیتِ مولانا یومِ جمعہ ۹؍ شعبان، ڈابھیل روانہ ہو کر ۱۰؍ شعبان یوم السبت کو حیدر آباد (دکن) پہنچا، دوسرے روز بمعیتِ مولوی فضل اللہ صاحب پروفیسر (1)، مکتبہ سعید (جو مکانِ مولوی فیض الدین سے قریب ہے) دیکھا، اور دس بیس صفحہ تصحیح بھی کی، واقعی نسخہ عمدہ اور مصحّحہ ہے۔ تقریباً ۵؍ یوم تک برفاقتِ مولوی فضل اللہ صاحب کام کیا، اس کے بعد سے نزلہ وزکام اس قدر شدید لاحق ہوا کہ آج ۲۵؍ شعبان تک کام بند ہے، اور صبح کا کھانا بھی نہیں کھایا، شام کو قدرے اکتفا کی جاتی ہے، اور دوسرے کوئی صاحب بھی ہمنوا نہیں۔ علماء سوء کا یہاں پورا نمونہ نظر آرہا ہے، اگر مجھے یہ کام نہ ہوتا تو ایک لمحہ بھی یہاں نہ رہتا، مگر میں اب ’’کالطیر في القفس‘‘ ہوں، نہ معلوم کب تک مجھے یہاں رہنا ہے؟! 
مولانا شبیر احمد صاحب (عثمانی) لیلۃ الجمعۃ ۲۳؍شعبان کو بمعیتِ مولانا محمد ادریس صاحب (کاندھلوی) روانہ ہوگئے۔ نو ہزار چھے سو کا چیک بمد ۴؍ سو ماہوار میرے لیے۔ میرے لیے دعا فرمادیں کہ حق تعالیٰ مجھے صحت عطا فرمائے، اور یہ کام جلد پورا ہوجائے۔ جناب مولانا نافع صاحب ومولانا سید عبد اللہ شاہ صاحب وجناب مولانا حافظ برہان الدین صاحب کی خدمت میں السلام علیکم! عزیز سید محمد قاسم جان کو سلام! والسلام
بوجہ تشویشِ طبع زیادہ تحریر کی طاقت نہیں، معاف فرمانا۔ 
بر مکانِ مولوی فیض الدین صاحب وکیل، محلہ عابد شاپ، حیدر آباد، دکن
                                                 المُرسِل: محمد یوسف کامل پوری عفا عنہ
                                                 از حیدر آباد دکن، یوم الاحد ۲۵ ؍شعبان

حاشیہ:1- بظاہر مولانا فضل اللہ جیلانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ  مراد ہیں، جو ’’فضل اللہ الصمد شرح الأدب المفرد‘‘ کے مؤلف ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بگرامیِ خدمت جناب مولانا سید محمد یوسف صاحب دام مجدُہم! 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ! 

رقیمۂ گرامی موصول ہوا، الحمد للہ کہ بعافیت بخانہ تشریف آور ہوئے۔ احقر ۲۵؍ شعبان تک علیل رہا، اس کے بعد ہمت کرکے کام شروع کیا، مولوی فضل اللہ صاحب (جیلانی) نے یکم رمضان سے امداد چھوڑ دی، اور کوئی قابل عبارت صحیح پڑھنے والا نہ مل سکا، خود ہی دونوں نسخے دیکھنے کی زحمت اُٹھائی، مگر بحمد اللہ کہ آج ۲۵؍ رمضان کو اس اہم کام سے فارغ ہوا، گویا کہ میں نے ایک کوہِ گراں سر سے اُتار دیا، اب یہ کتاب بہت صحیح ہوگئی؛ کیونکہ نسخہ مکتبہ سعیدیہ بہت صحیح تھا، اگرچہ اب بھی بعض معمولی اغلاط موجود ہیں، مگر وہ مطبوعہ کتابوں سے متعلق ہیں، ان کو دونوں نسخوں میں مشتبہ دیکھ کر مراجعت کو فراغت کی طرف مؤخر کردیا۔ 
ایک روز رمضان میں (مکتبہ) آصفیہ گیا تھا، مہتممِ آصفیہ نے کہا کہ آپ اتنے روز سے یہاں وارد ہیں اور یہاں نہیں آئے؟! خیر کل سے ارادہ ہے کہ متواتر پانچ چھے یوم جایا کروں گا، اور آپ لوگوں کی تنشیطِ خاطر کے لیے ’’تفسیرِ بقاعی‘‘ کے چند مقامات سے چند آیاتِ مشکلہ کی تفسیر نقل کردوں گا، تاکہ اہلِ علم حضرات میرے اس سفر سے فائدہ اُٹھائیں۔ تفسیرِ ہذا کا یہ قطعہ اول سورۂ سبا سے آخر سورۂ زمر تک ہے، مگر ضخیم تفسیر آیۃ ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّـبِیّٖنَ‘‘ دیکھی، دل میں ٹھنڈک حاصل ہوئی۔ 
دعا فرمادیں کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ آپ کے لیے چند رکوع بطور نمونہ نقل کرسکوں۔ آج دائرۃ المعارف گیا، سید ہاشم صاحب سے پہلے بھی ملاقات ہوئی تھی۔ کتاب ’’السنن الکبری‘‘ جلدِ عاشر و کتاب ’’معرفۃ علوم الحدیث للحاکم‘‘ خریدی۔ 
سید سلیمان صاحب ندوی، مولانا (شبیر احمد) عثمانی کی روانگی کے دوسرے دن تشریف لائے تھے، مولانا فضل اللہ صاحب (جیلانی) نے ان کی دعوت کی، میں بھی شامل تھا، ان سے ملاقات ہوئی۔ میرا ارادہ ہے کہ دوسری یا تیسری شوال کو روانہ ہوجاؤں، خیال تھا کہ بمبئی کی تفریح وسیر کروں، مگر کوئی مقام‘ اقامت کے لیے نہیں ہے، اس لیے وحشت ہوتی ہے۔ 
دیوبند کے متعلق اخبار الامان وغیرہ (میں) مولانا شبیر احمد صاحب (کی نسبت سے) مشوّش خبریں شائع ہو رہی ہیں، اگرچہ مولانا نے یہاں فرمایا تھا کہ میں نے بعض اساتذۂ دیوبند کی سینہ زوری ومطلق العنانی کی وجہ سے استعفا دے دیا ہے، مگر مولانا مدنی نے اس کو منظور نہیں کیا، خدا کرے کہ مولانا عثمانی کا سایہ دیوبند پر ہمیشہ قائم دائم رہے؛ کیونکہ ’’لجأتُ فيہ بآمالي إلی الکذب!‘‘ (1) 
آپ کے متعلق جو خیال تھا، ابھی وہ ظاہر ہوا یا نہیں؟! 
میں نے اس سے پہلے ایک رقیمہ مولانا عثمانی ومولانا سید احمد رضا صاحب کی خدمت میں لکھا ہے، لہٰذا اب میں بس کرتا ہوں۔ والسلام
عزیز محمد قاسم (بنوری) سلّمہ کو السلام علیکم! اَحِبّہ وعُرفاء کی خدمت میں السلام علیکم! 
                                                 والسلام
  أنا الأحقر محمد یوسف کامل پوری عفا عنہ
از حیدر آباد دکن، بر مکانِ مولوی فیض الدین صاحب وکیل، محلہ عابد شاپ
                                                  ۲۵؍ رمضان 
پس نوشت:     لیالیِ رمضان میں دعا سے فراموش نہ کرنا، أشرکنا في دعواتک الصالحۃ يا أخي! 
مولانا لطف اللہ صاحب ومیاں سردار گل کی خدمت میں السلام علیکم! 

حاشیہ:1-   ترجمہ: ’’میں اپنی امیدوں کی بنا پر جھوٹ کی پناہ میں آیا!‘‘متنبی کا شعر ہے، اصل میں لفظ ’’لَجَأْتُ‘‘ کے بجائے ’’فَزِعْتُ‘‘ ہے، مفہوم یکساں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مولانا السید محمد یوسف صاحب بنوری دامت برکاتہم! 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ! 

أما بعد! آپ کا مکتوبِ گرامی موصول ہوکر باعثِ طمانینت ہوا، حق تعالیٰ آپ کو عافیتِ دارین وحیاۃِ طیبہ نصیب فرماوے۔ میری زبان سے بے ساختہ ابو الطیب کا شعر نکلا ہے: 

وما الخیلُ إلا کالصدیق قلیلۃ
وإن کثرت في عین من لم یجرّب(1)

میں اس وقت اپنے معاملہ کو آپ کے حوالہ کرتا ہوں، آپ جیسا معاملہ کریں، تخریجِ زیلعیؒ (نصب الرایۃ في تخریج أحاديث الہدايۃ) کی تصحیح کے لیے تیار ہوں، کتب کی مراجعت کرنی ہوگی، میں محنت وتفحّص میں کمی نہ کروں گا، باقی خدا توفیق دینے والا ہے۔ خدانخواستہ اگر مجلسِ علمی کے پاس ’’بضاعت‘‘ نہ ہو تو میں کچھ مدت کے لیے مفت کام کرنے پر بھی آمادہ ہوں، آپ مجھ سے اس معاملہ میں پھر مراجعت نہ فرمانا۔ 
آپ کے رقیمۂ گرامی کے ورود سے پہلے میں آپ کی خدمتِ اقدس میں ایک ظرافت نامہ مشحون از مزایا علمیہ ولطائفِ بدیعہ تحریر کرچکا تھا، اگرچہ آپ کے گرامی نامہ کے ورود سے بعض مطالب اس کے منسوخ ہوچکے تھے، مگر میں تبرّعاً اپنے جذبۂ ناچیز کو آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ 
میں تو آپ کی محبت کو وسیلۃ الدارین وباعثِ عافیت سمجھتا ہوں، امید ہے کہ عند أھوال المحشر الطامۃ بھی اسی طرح دست گیری فرمائیں گے، اور دعواتِ اُوَیقاتِ مبارکہ سے نسیًا منسیًّا نہ فرمائیں گے۔ 
حضرت مولانا ایوب شاہ (بنوری)، وشاہ صاحب عبد اللہ شاہ، ومولانا برہان الدین صاحب کی خدمت میں السلام علیکم!
                                                        آپ کا داعی بالخیر
                                                     ناچیز حقیر محمد یوسف عفا عنہ
                                                    لیلۃ الأربعاء ۱۷؍ رمضان
حاشیہ:1-  (مخلص) دوست کی طرح (عمدہ) گھوڑے بھی بہت کم ملتے ہیں، اگرچہ ناتجربہ کاروں کی نگاہوں میں ان کی تعداد زیادہ ہو۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے