بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

مکاتیبِ حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ  بنام حضرت مولانامحمد حبیب اللہ مختار شہید  رحمۃ اللہ علیہ 

سلسلۂ مکاتیب حضرت بنوریؒ

مکاتیبِ حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ  بنام حضرت مولانامحمد حبیب اللہ مختار شہید  رحمۃ اللہ علیہ 


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ بنام حضرت مولانا محمد حبیب اللہ مختار شہیدرحمۃ اللہ علیہ 

۱۳؍ رمضان المبارک سنہ ۱۳۸۴ھ
برادرِ گرامی قدر وفّقک اللہ لکلّ خير وسعادۃ، وأعطاک حُسنی وزيادۃ!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! 

نامہ گرامی آج ہی پڑھنے کا اتفاق ہوا، اللہ تعالیٰ ان مشاغلِ دینی وعلمی میں مزید برکت نصیب فرمائے، آمین! دعا کرتا ہوں، اور آپ بھی دعواتِ صالحہ میں فراموش نہ فرمائیں۔ 
دنیا میں اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس کے سوائے کسی اور سے خیر کی توقّع نہ کریں، اور نہ کسی پر اعتماد وتوکّل کریں، ورنہ سوائے خُسران وناکامی کوئی اور نتیجہ نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنی مرضیّات ومعرفت کی توفیق نصیب فرمائے، آمین! 
حضرت والد صاحب (1) سے سلام عرض کردیں، اور دعا کی درخواست کریں۔ 
                                                     والسلام 
                           محمد یوسف بنوری عفا اللہ عنہ

حضرت مولانا محمد حبیب اللہ مختار شہیدرحمۃ اللہ علیہ بنام حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ 

سيدي وسندي، مُشفقي ومعظّمي، وشيخي، أدام اللہ بقاءَکم، وسقاني من علومکم وبرکاتکم وتقواکم! 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! 

اُمید ہے مزاج بعافیت ہوں گے، اللہ جل شانہ آپ کو اور سب اہل وعیال کو خیر وعافیت سے رکھیں، آمین! 
قاری قادر جان صاحب کا خط مولانا انعام الکریم صاحب نے مجھے ہی دیا تھا، اور میں نے قاری صاحب کو پہنچایا، انہوں نے مجھے بھی پڑھنے کو دیا، آپ کی خیریت اور آمد کی اطلاع ملی، خدا کرے کہ آپ جلدی سے آجائیں، لیکن اتنے کم وقت سے یہاں کا حق تو پورا نہ ہوگا، خیر! نہ ہونے سے تو یہ بھی غنیمت ہے، وللہ الحمد!
معلوم ہوتا ہے کہ آپ بالکل بھول ہی گئے، جب سے روزانہ ڈاک معلوم کرتا ہوں، اور آپ کے شفقت نامہ کا منتظر رہتا ہوں، لیکن 

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!

افسوس کہ آپ نے اپنے اس حقیر سے خادم کو بالکل بھلا دیا، اور تسلی کے لیے چند لفظ بھی نہ لکھے، کاش کہ آپ کو میری حالت پر رحم آجائے، کاش کہ آپ کو میری حالت اور جذبات کا علم ہوجاتا، اگر ایسا ہوتا تو شاید آپ کو رحم آجاتا، اور تھوڑی سی زحمت گوارا فرمالیتے، آخر کسی شکستہ دل کی دلجوئی کرنا بھی تو کارِ خیر ہے، لیکن شاید آپ اسے شکستہ دل ہی نہ سمجھتے ہوں گے، یہ فیصلہ تو اللہ تعالیٰ کریں گے؛ فإنہٗ أقرب من حبل الوريد، وإنہٗ عليم بذات الصدور (کیونکہ وہ شہ رگ سے قریب تر اور سینوں کے رازوں سے آگاہ ہیں)۔ خدا جانتا ہے کہ میرے دل پر کیا گزر چکا ہے اور کیا کچھ گزر رہا ہے، میں اس لیے عریضہ لکھنے سے کتراتا تھا کہ آپ کی شان میں گستاخی نہ ہو؛ کیونکہ اپنے کو قابو میں رکھنا یہ انسان کے بس کی بات نہیں، خاص طور سے مجھ جیسے کمزور انسان کے لیے، اور پھر مدینہ منورہ میں رہ کر ایسی چیز نہ ہونا چاہیے، لیکن یہ میرے بس کی بات نہیں۔ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے بھی فرمایا تھا: ’’اللّٰہم ہٰذا فيما أملک، فلا تؤاخذني فيما لا أملک‘‘ (اے اللہ! یہ تو میرے بس میں ہے، جو میرے اختیار میں نہ ہو اس کا مجھ سے مواخذہ نہ کیجیے گا)، ویسے بھی یہ ’’اللّٰہم إني أسألک حبّک وحبّ من يحبّک‘‘ (اے اللہ! میں آپ سے آپ کی اور ان ہستیوں کی محبت کا سوالی ہوں جو آپ سے محبت کرتے ہوں) میں داخل ہے، جو اللہ تعالیٰ نے مجھے بلامانگے عطا فرمادی ہے، ولہ الحمد والشکر! لیکن بعض اوقات تو مجھ پر اس کا اتنا غلبہ ہوتا ہے کہ میں سخت متحیّر ہوجاتا ہوں، اور بات اپنے بس کی نہیں رہتی:

مضطرب سا اِک تقاضۂ محبت دل میں ہے!

آپ سے خواب میں اور ویسے تو نامعلوم کتنی بار ملاقات ہوئی ہے، اور جب بھی ملاقات ہوئی بس یہ حالت ہوتی تھی کہ :

بے محابا تصوّر میں کوئی آجائے ہے

پھر نہ تڑپا جائے ہے دل سے نہ سنبھلا جائے ہے

لیکن آپ کو نامعلوم کیا بات ہے میری حالت پر رحم نہیں آتا کہ کبھی ایک پینتیس (۳۵) پیسے کے خط سے ہی تسلی نہیں فرماتے، کبھی ذرا کشف کے ذریعہ سے ہی میرے دل کی حالت معلوم کرلیں؛ تاکہ آپ کو میری اس پریشانی اور بے چینی کا یقین آجائے، ویسے تو میں خود ہی مجرم ہوں، خود میں نے آپ کے کون سے حق کو پورا کیا ہے!

کیا کوئی حقِ محبت ہو بھی سکتا ہے ادا
اپنا سارا دعویٰ پاسِ وفا کہنے کو ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک بھی تو نہ ہوا حقِ محبت پورا 
ہم سمجھتے تھے کہ ہم بھی ہیں وفاداروں میں

مجھے تعجب تو اس پر ہے کہ چلتے وقت آپ فرماگئے تھے کہ میں وہاں سے خط لکھوں گا، اور سندِ اجازت بھی خوب صورت، شاندار لکھ کر بھیجوں گا، لیکن کراچی پہنچ کر تو گویا آپ کو یہ کچھ یاد ہی نہ رہا، جب آپ کو یہ ہی یاد نہ رہا تو پھر وہ کرتا پائجامہ وغیرہ کیا یاد رہا ہوگا؟! اسی لیے میں یہاں سے آپ کو کپڑا خرید کر دینا چاہتا تھا۔ 
یہاں کے سب لوگ پوچھتے رہتے ہیں کہ آپ کا کوئی مکتوبِ گرامی آیا یا نہیں؟! اس وقت انہیں تو نفی میں جواب دے دیتا ہوں، لیکن میرا اپنا کیا حال ہوتا ہے؟! میں اسے بیان نہیں کرسکتا، کاش کہ میں آپ کو بتلا سکتا کہ مجھے آپ سے کیسا اور کتنا تعلق ہے؛ تاکہ آپ کم از کم میرا نہ سہی، اس کا ہی خیال رکھ لیتے! لیکن نہ میرے پاس وہ زبان تھی جس سے میں آپ کے سامنے بیان کرسکتا، اور نہ وہ قلم ہے جس سے تحریر کرسکوں، اور نہ اب اس کا وقت ہے کہ اس کو ذکر کرسکوں:

ابھی اے عارفی جو حالِ دل کہنا ہے وہ کہہ لے 
بہت ممکن ہے پھر ناقابلِ اظہار ہوجائے 

سیدي وسندي، یہ چند سطریں میں کس طرح لکھ رہا ہوں، یہ میں ہی جانتا ہوں، میری حالت بس وہی ہے جو کسی نے کہی ہے:

دل پہ اِک تازہ چوٹ کھائی ہے
جب بھی ہم اُن کے دَر سے گزرے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔

جب بھی گزرے ہیں وہ تصور میں
پردۂ چشمِ تر سے گزرے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی بھی عالم ہو، اُن سے بُعد ہو یا قرب ہو
بے خودیِ دل وہی، وارفتگیِ دل وہی

۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈوب سا جاتا ہے دل، رہ رہ کے اُن کی یاد میں
کوئی کیا سمجھے کہ وجہ بے خودی ہوتی ہے کیا؟!

۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈوب کر کیفِ محبت میں کسی کی یاد نے
دل کے ہر احساس کو جانِ تمنا کردیا

شیخي مولائي!یہ تمام چیزیں ظاہر کرنے کی تو نہ تھیں، اور نہ مجھ میں اس کی ہمت تھی، اور نہ آپ کی شان کے مناسب ہیں، لیکن یہ سب کچھ مجبوراً لکھ رہا ہوں، لیکن پھر بھی بہرحال اپنے دل کی صحیح ترجمانی میں نہیں کرسکتا، اللہ تعالیٰ ہی چاہیں تو آپ کو اس سے واقف کراسکتے ہیں، آپ کے حسنِ اخلاق اور حلم سے امید رکھتا ہوں کہ میری ان گستاخانہ سطور کو اس طرح معاف فرمائیں گے، جس طرح ایک مشفق وباکمال باپ اپنے چھوٹے اور پیارے بیٹے کی غلطی کو معاف کردیتا ہے، اور اپنی شفقتوں سے محروم نہ فرمائیں گے، میں جو کچھ بھی لکھوں اپنے دل کی ترجمانی نہیں کرسکتا:

نہ ممکن ہوسکی تکمیلِ شرحِ مدّعا مجھ سے
بہت انداز بدلے، لاکھ اندازِ بیاں بدلا 

اور آپ کے کریمانہ اخلاق اور مشفقانہ انداز سے توقع رکھتا ہوں کہ فوری طور پر مجھے اپنے شفقت نامہ سے بہرہ ور فرماکر میرے مضطرب دل کو سکون پہنچائیں گے، اور میری اس بے چینی اور پریشانی کو اپنی پریشانی سمجھتے ہوئے: ’’لأنک کأبي لي‘‘ (کیونکہ آپ میرے والد کی مانند ہیں) فوری طور سے میری تشفی اور تسلی فرماکر شکریہ کا موقع دیں گے، میرے لائق جو بھی اور جس قسم کی بھی خدمت ہو تحریر فرمائیں۔
دیکھیے! بھولیے گا نہیں، خدا کے لیے فوری طور سے اپنے وعدہ کے مطابق شفقت نامہ ارسال فرمائیے گا، اور ہمیشہ ارسال فرماتے رہیے گا، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائیں، اور آپ کے درجات بلند فرمائیں اور آپ کی عمر دراز فرمائیں، اور اس حقیر کو آپ کی خدمت کرنے اور آپ سے فیض حاصل کرنے اور آپ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائیں۔ 
استاذ رضا، مولوی مسلم خان وغیرہ سلام عرض کرتے ہیں، اب بس کرتا ہوں، ورنہ نامعلوم اور کیا کیا لکھتا چلا جاؤں گا، اس کو پڑھ کر ضائع کردیں، دوسرا نہ پڑھے تو اچھا ہو، دنیا کی حالت کا آپ کو علم ہے ہی۔ 
                                                                  فقط والسلام
                                                                    آپ کا 
      م. ح. م الدہلوی عفا اللہ عنہ
    ص. ب ۲۰۸، المدينۃ المنورۃ

پس نوشت: مولانا عبد الغفور صاحب (عباسی مدنی) کے صاحب زادے مولانا عبد الحق صاحب (عباسی) نے آپ کو بہت بہت سلام عرض کیا ہے، اور یہ نسخہ دیا ہے، اور بہت معذرت کی ہے کہ اس وقت آپ کو نہ دے سکے، اور تاخیر ہوگئی۔ ان کی اہلیہ وغیرہ بھی کچھ بیمار ہیں، اور بعض اعذار کی بنا پر اتنی تاخیر ہوئی، بہت عذر خواہی فرما رہے تھے۔ دردوں وغیرہ کے لیے مفید ہے، آپ سے اس کے بارے میں مدینہ منورہ میں وہ تذکرہ کرچکے ہیں۔ خط کا جواب جلدی ضرور دیں، مولوی عبد الحق صاحب بھی مجھ سے تقاضا کرتے رہیں گے کہ آپ کو وہ نسخہ پہنچا یا نہیں؟ حاجی عبد اللہ صاحب نے عطر اور کتاب ’’معارف السنن‘‘ کے بارے میں کچھ نہیں لکھا کہ وہ کس کو دینا ہے؟ آپ کے جانے کے بعد یہاں پھر کافی سردی پڑ گئی تھی، اور وہ اُونی رومال خوب کام آیا، آج کل تو سردی کم ہے، بلکہ برائے نام ہی ہے، دھو کر آپ کے لیے تیار رکھا ہوا ہے۔ 

حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ بنام حضرت مولانا محمد حبیب اللہ مختار شہیدرحمۃ اللہ علیہ (2)

أخي في اللہ، صاحبي، وصاحبُ سرّي مع اللہ، أخي محمد حبیب اللہ مختار، حفظہ اللہ ووفّقہٗ للخير والاعتدال!

پاکیزہ سلام اور محبت قبول کیجیے۔ 
اُمید ہے آپ بخیر وعافیت، اللہ تعالیٰ کی مرضیّات اور محبوب اعمال میں باتوفیق ہوں گے۔ آپ کا گرامی نامہ بہ مسرت وشادمانی وصول کیا، آپ کے حقائق کی قدردانی نہ کرنے پر مجھے افسوس ہوا؛ کیونکہ میرا آپ سے تعلّق کسی دلیل کا محتاج نہیں، میرا قلبی تعلق بھی دلیل کا محتاج نہیں، میری معذرت واضح ہے؛ کیونکہ مشاغل اور کاموں نے مجھے گھیر رکھا ہے، کراچی پہنچنے کے بعد ڈاک سے موصولہ خطوط کی بڑی تعداد جمع ہوگئی تھی، اب تک ان سب کے جواب کی فرصت نہیں ملی۔ ہمارا روحانی تعلّق تو ہر خط سے مستغنی ہے، آپ سے محبت کسی نقاب وحجاب میں مخفی تو نہیں، تو پھر یہ شکوے شکایت اور جزع فزع کیسی؟! اور یہ مایوسی وقنوطیت چہ معنی دارد؟! اللہ تعالیٰ آپ کو استقامت وراستی نصیب فرمائے۔ اجازتِ (حدیث) ان شاء اللہ طيبۃ الرسول عليہ صلوات اللہ وسلامہ میں لکھ دوں گا۔ توقع ہے آپ ذو الحجہ کے پہلے جمعہ کی نماز مسجد نبوی میں ادا کریں گے، تمام برادران کو میرا سلام پہنچائیے، خاص طور پر قاری عبد القادر جان اور استاذ مسلم خان کو۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ!                         محمد یوسف بنوری
                                                          شبِ ہفتہ، رات ۱۰ بجے
                                                         ۱۸؍ ذیقعدہ سنہ ۱۳۸۷ھ

حواشی

1-  حکیم مختار حسن  رحمۃ اللہ علیہ 
2- نوٹ: یہ مکتوب عربی میں لکھا گیا، اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے