
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
برادرِ گرامی قدر محترم، وفّقہ اللہ لکلّ خير وسعادۃ!
تحيّۃً وسلامًا! دونوں نامہ ہائے الطاف نے ممنون ومسرور کیا، روغنِ زیتون بھی پہنچ گیا، نسخہ کے حصول میں جو توجہ وجدوجہد کی سب کے لیے دست بدعا ہوں، واللہ یجزیکم خیرا۔
طبیعت جیسے آپ نے دیکھی ہے ویسی ہے، کسی کسی نماز باجماعت میں شریک ہوتا ہوں، البتہ تین وقت (بعد الظہر، بعد العشاء، صباحًا) ۶ گھنٹے (صحیح) بخاری پڑھاتا ہوں، دوسرے مشاغل بھی ہیں، عاجز آگیا ہوں، نہ معلوم کہ دیارِ حرمین کا سفر مقدّر ہے یا نہیں، جیسے آج کل ہوں اس میں مشکل ہے۔ دینی حالات روز بروز بد سے بدتر ہوتے جاتے ہیں، روضۂ اقدس پر خصوصی دعا کرتے رہیں، میرا سلام یعنی ’’خادم المدرسۃ العربیۃ الإسلامیۃ‘‘ کا سلام پہنچا دیں، اور اگر ہوسکے تو اپنا سلام عرض کرنے کے بعد میرا سلام بھی پیش کیا کریں۔ دوسرا خط مولانا منظور حسین صاحب کو دے دیں۔ آپ کا ٹیپ ریکارڈ دو واسطوں کے بعد میں نے خرید لیا ہے، مجھے ضرورت تھی۔
والسلام
محمد یوسف بنوری عفا عنہ
۱۵؍ رجب سنہ ۱۳۸۸ھ
۱۱؍ ربیع الآخر سنہ ۱۳۹۰ھ (1)
......................................................
رفیقِ عزیز، أخي في اللہ حبیب اللہ، أحبہ اللہ وأعزّہ!
تحیۃ طیّبۃ ودعواتِ صالحہ، برادرِ کریم کا مکتوب مسرت وشادمانی کے ساتھ وصول کیا، اور اس میں مذکور استفسار ملاحظہ کرلیا۔ اس بارے میں میرا جواب یہ ہے کہ آپ کو کسی عنوان سے جامعہ (اسلامیہ، مدینہ منورہ) میں مزید قیام کی ضرورت نہیں رہی، اگر مزید حصولِ علم مقصود ہوتا تو اس کے لیے قاہرہ (مصر) زیادہ مناسب تھا۔ تخصص کی کسی شاخ میں نام درج کرنے کے لیے حاضری شرط ہوگی، پھر آخر میں مقالہ پیش کرنے کے لیے بھی حاضری ضروری ہوگی، لیکن آپ کو اس کی ضرورت نہیں؛ کیونکہ آپ کے علم کا مقصود آخرت کے لیے علم اور دین کی خدمت ہے، دنیا مقصد نہیں، جبکہ ان رسمی ڈگریوں کی ضرورت اس دنیا میں دنیا کمانے کے لیے ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی کوئی قدر وقیمت نہیں، اور دنیاوی سامان بھی آخرت میں تھوڑا ہوگا۔ بہرکیف! ہم انتہائی صبر کے ساتھ آپ کی آمد کے منتظر ہیں۔
گھر والوں کو ہم ہسپتال سے لے آئے ہیں، لیکن وہ صاحبِ فراش ہیں، کمر کی تکلیف کی بنا پر کروٹ بدلنا بھی ممکن نہیں، نیک دعاؤں کے متمنی ہیں، آپ کا بہت شکریہ!
استاذ انعام کریم پہنچ گئے ہیں، مدرسہ میں ہی مقیم ہیں، نیز استاذ محمد بن سلیمان بھی، وہ بھی رات کو مستقل مدرسہ میں ہوتے ہیں۔ اوپر کی درس گاہوں کی تعمیر مکمل ہوگئی اور ان میں پڑھائی منتقل ہوچکی ہے، دیگر احوال آپ کے علم میں ہیں۔
وسلامٌ علیکم أيہا الأخ الکريم!
کتبہ: محمد يوسف البنوري
پس نوشت: انہوں نے سو ریال میری بیٹی سیدہ بنوریہ کے پاس امانت رکھوائے ہیں، اور اس سے کہا ہے کہ یہ آپ کی امانت ہیں۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ!
......................................................
۶-۱۱-۱۳۹۵ھ
عزیزِ گرامی قدر مولانا حبیب اللہ المختار، وفّقکم اللہ للخیر والسعادۃ!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کوئی خط آپ کو نہیں لکھ سکا، اس کا افسوس ہے، لیکن الحمدللہ کہ یہ تقصیر قلمی ہے، قلبی نہیں، ہر وقت یاد رہے اور اپنی ناچیز دعاؤں میں یاد رکھا۔ ماہِ رمضان میں والد محترم (حکیم مختار حسن صاحب ؒ) سے ہر وقت ملاقات ہوتی رہی، اس لیے کہ اعتکاف کی جگہ اور خصوصًا محلّ الفطور والسحور (افطار اور سحر کا مقام) تقریباً ملے ہوئے تھے۔ عید کے بعد جدہ پہنچے، سفر کا تفصیلی رخ سامنے نہیں تھا، اس لیے نہ پورے ویزے لے سکے، نہ ٹکٹ جدہ (میں) بنا سکے، نیروبی (افریقہ) پہنچ کر کچھ رخ متعین ہوسکا، بہرحال سفر شروع ہوا، اور آخر قاہرہ پہنچ گئے، اور ’’المجلس الأعلٰی‘‘ کے مہمان بن گئے، تار دیا تھا۔ جینجاجو یوغنڈہ (یوگینڈا) کا دوسرا مرکزی شہر ہے، وہاں (سے) ٹیلی فون‘ مدرسہ کیا تھا، معلوم ہوا کہ حالات قابلِ اطمینان ہیں، اس لیے حج کا ارادہ کرلیا، اور اتفاق سے ٹکٹ پر کوئی خرچ مزید نہ تھا، ٹکٹ پہلے سے قاہرہ سے براہِ جدہ، کراچی بن چکا تھا، سوائے ویزہ کے مصارف اور کوئی بوجھ نہیں پڑتا تھا، اب ان شاء اللہ تعالیٰ یوم الأحد (اتوار) ۲۳؍ نومبر سنہ ۱۹۷۵ھ مصری ائیرویز سے جدہ صبح ۶ بجے روانگی ہوگی، ان شاء اللہ! مدینہ کا خیال پہلے ہے، اگر کوئی ضروری کام پیش نہ آیا تو متصلًا بعد الحج روانگی کا قصد ہے۔
سفر میں برادرم مولانا عبد الرزاق (اسکندر) صاحب (سے) راحت بہت ملی، (2) اور جن کی ضرورت نہ تھی وہ کٹ گئے یا نہ آسکے۔ الحمدللہ کام کچھ کچھ تو ہوگیا، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔
خدا کرے آپ خیریت سے ہوں اور نورِ چشم طیبہ اور حفصہ، راشدہ سلّمہا (3)بخیریت ہوں، اور احوال مُوجبِ شکر ہوں، سب کو سلام ودعواتِ صالحہ۔ برادرم مولانا عبد الرزاق (اسکندر) صاحب سلام لکھواتے ہیں۔
والسلام
محمد یوسف بنوری عفا عنہ
1-نوٹ: یہ مکتوب عربی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔
2-افریقہ کے اس سفر کے تفصیلی احوال استاذِ محترم حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندرؒ نے تحریر فرمائے تھے، جو جامعہ کے ترجمان ماہنامہ بینات کے محدث العصر نمبر میں شائع ہوچکے ہیں۔
3-حضرت بنوریؒ کی صاحب زادیاں اور بندہ کی ہمشیرائیں۔