
يَسْتَبْـشِرُ الْعُلَمَاءُ بِـ ’’الإِتْحَافِ‘‘
وَتَبَـرَّجَتْ دُرَرٌ مِنَ الاَصْدَافِ
مِنْ بَعْدِ مَا طَالَ انْتِظَارُ اُوْلِي النُّہٰی
شَوْقًا إِلٰی ہٰذَا الْمَعِيْنِ الصَّافِيْ
فَلَقَدْ حَوٰی غُرَرَ النُّقُوْلِ وَزُبْدَۃً
وَجَوَاہِرًا وَمَعَارِفَ الاَسْلَافِ
وَبَدَائِعَ التَّحْقِيْقِ جَلَّ بَيَانُہٗ
وَرَوَائِعَ التَّـطْبِيْقِ بِالإِنْصَافِ
يَا رَوْعَۃَ الْمَـنْظُوْمِ مِنْ اَبْيَاتِہٖ
سَلَبَتْ شِغَافَ الْقَلْبِ بِالْاَوْصَافِ
عَجَبِيْ لِشِعْرٍ قَدْ حَوٰی فِي طَيِّہٖ
اَسْمَی الْمَـعَانِيْ مَا لَہٗ بِمُکَافِيْ
وَعُذُوْبَۃِ الْاَلْفَاظِ ذَاتِ سَلَاسَۃٍ
وَحَلَاوَۃٍ يَسْحَرْنَ بِالْاَلْطَافِ
وَلَقَدْ تَوَلّٰی يُوْسُفٌ تَخْرِيْجَہٗ
بِإشَارَۃٍ مِنْ صَاحِبِ ’’الْإِتْحَافِ‘‘
لٰکِنَّمَا الْآجَالُ حَالَتْ دُوْنَہٗ
لَيْتَ الزَّمَانَ حَبَاہُ بِالْاَلْطَافِ
ثُمَّ الْإِلٰہُ اَعَانَ فِيْ إِنْجَازِہٖ
فَتَحَقَّقَتْ اُمْنِـيَّۃُ الْاَشْرَافِ
قَدْ عَمَّ ہٰذَا النُّوْرُ اَرْجَاءَ الدُّنَا
فَلْتَہْنَاُوْا يَا مَعْـشَرَ الْاَحْنَافِ
’’اہلِ علم ’’الإتحاف‘‘ (کی طباعت) سے شاداں وفرحاں ہیں، گویا (اس کتاب کی بدولت) سیپیوں سے لعل وجواہر نمودار ہوگئے ہیں۔
اس چشمۂ صافی کے شوق میں اہلِ دانش کے طویل انتظار کے بعد (آخر گوہرِ مطلوب ہاتھ آ ہی گیا)۔
(یہ کتاب) گراں قدر عبارتوں، (مطالعہ وتحقیق کے) نچوڑ، جواہرات اور اسلاف کے علوم ومعارف کو سموئے ہوئے ہے۔
اور ایسی انوکھی تحقیقات اور منصفانہ عمدہ تطبیقات (کو حاوی ہے) جو بیان سے بالاتر ہیں۔
اس کے اشعار کس قدر عمدگی سے نظمائے گئے ہیں، جن کے اوصاف دامنِ دل کو کھینچتے ہیں۔
مجھے ایسا شعر بھلا لگتا ہے جو بے پایہ اور اعلیٰ ترین معانی پر مشتمل ہو۔
اور سلیس وشیریں الفاظ اور مسحور کُن مٹھاس پر۔
(علامہ محمد) یوسف (بنوری رحمۃ اللہ علیہ ) نے صاحبِ ’’الإتحاف‘‘ (علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ ) کی ایما پر اس (کتاب) کی تخریج کا بیڑا اُٹھایا۔
لیکن قضا وقدر اس کی تکمیل میں حائل ہوگئے، کاش کہ زمانہ نے ان پر احسان کیا ہوتا۔
پھر حق تعالیٰ نے اس (عمل) کی تکمیل میں دست گیری فرمائی، اور معزّزین کی آرزو بَر آئی۔
یہ روشنی، اطرافِ عالم میں پھیل گئی، سو اے جماعتِ احناف! تمہیں مژدہ ہو!‘‘